• ستمبر 25, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 25, 2026 4:38 صبح
  • پاکستان

کفایت شعاری اقدامات سے مجموعی طور پر 16 ارب 80 کروڑ روپے کی بچت متوقع ہے

وفاقی سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت کی نئی کفایت شعاری مہم کے تحت سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں 50 فیصد کمی سے 3ماہ کے دوران صرف 70 کروڑ روپے کی بچت ہوگی جبکہ مجموعی طور پر کفایت شعاری اقدامات سے 16 ارب 80 کروڑ روپے بچائے جاسکیں گے۔

انھوں نے اعتراف کیا کہ چینی کے شعبے کو آزاد کرنے اور صحت و تعلیم پر اخراجات سے متعلق آئی ایم ایف کی شرائط پوری نہیں ہوسکیں۔

جمعرات کو پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو آئی ایم ایف پروگرام کے 2سال مکمل ہونے پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے سیکریٹری خزانہ نے بتایا کہ سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن کی فراہمی میں 50 فیصد کمی سے 70 کروڑ روپے جبکہ ایک سال کے لیے غیر تنخواہی اخراجات میں 5 فیصد کمی سے 16 ارب 10 کروڑ روپے کی بچت ہوگی۔

پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی حنا ربانی کھر نے سوال کیا کہ کیا حکومت کی کفایت شعاری مہم محض دکھاوے کے لیے ہے، تاہم سیکریٹری خزانہ نے براہ راست جواب دینے سے گریز کیا۔

حکومت کے چیف آئی ایم ایف مذاکرات کار امداد اللہ بوسال نے کمیٹی کو بتایا کہ آئی ایم ایف پروگرام پر مجموعی طور پر عمل درآمد کافی مضبوط رہا ہے،سیکریٹری خزانہ نے بتایا کہ تین صوبے چینی کے شعبے کو آزاد کرنے پر متفق ہوگئے ہیں جبکہ ایک صوبے کو بعض تحفظات ہیں جنھیں دور کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے۔

آئی ایم ایف کی شرط کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چینی کی منڈی کو آزاد کرنے کے لیے قومی پالیسی پر اتفاق کرنا تھا، جس کی وفاقی کابینہ سے رواں سال جون تک منظوری ضروری تھی۔ پالیسی میں لائسنسنگ، قیمتوں پر کنٹرول، درآمدی و برآمدی اجازت ناموں اور زوننگ سے متعلق اصلاحات شامل ہیں۔

تاہم حکومت مقررہ مدت میں پالیسی منظور نہیں کرسکی ،کمیٹی کو بتایا گیا کہ زرعی انکم ٹیکس کی وصولی سے متعلق آئی ایم ایف کی شرط پر عمل درآمد بھی سست روی کا شکار ہے۔ آئی ایم ایف نے جمعرات کو سندھ حکومت کے ساتھ اس معاملے پر اجلاس بھی کیا۔

سید نوید قمر نے کہا کہ تاجر دوست اسکیم اور زرعی انکم ٹیکس اسکیم کا انجام ایک جیسا ہے، کیونکہ زرعی آمدن پر ٹیکس کی شرح 15 فیصد سے بڑھا کر 45 فیصد کرنے سے لوگوں کو ٹیکس ادا کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔

سیکریٹری خزانہ نے اعتراف کیا کہ بعض صوبوں کی جانب سے مقررہ اخراجات نہ کیے جانے کے باعث صحت اور تعلیم کے شعبوں کے اہداف بھی حاصل نہیں ہوسکے۔

اسی طرح مزید 9 سرکاری اداروں کے قوانین کو اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز ایکٹ سے ہم آہنگ کرنے کی شرط بھی پوری نہیں ہوسکی۔

نسداد بدعنوانی سے متعلق آئی ایم ایف کی شرط پر سیکریٹری خزانہ نے بتایا کہ وزیراعظم نے وفاقی وزیر قانون و انصاف اور قومی احتساب بیورو کو ان 10 سرکاری محکموں میں بدعنوانی کے خطرات کم کرنے کے لیے ایکشن پلان تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے جن میں بدعنوانی کے خطرات سب سے زیادہ ہیں۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے