ملازمین کی پنشن اور واجبات کوئی خیرات يا رعايت نہیں، ڈاکٹر فاروق ستار
عدالتی احکامات اور سندھ ہائی کورٹ کے واضح فیصلوں کے باوجود کے ایم سی اور ٹاؤنز کے 10 ہزار سے زائد ریٹائرڈ ملازمین واجبات سے محروم ہیں جس پر ایم کیو ایم نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مرکز بہادر آباد میں سینیئر مرکزی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے دیگر مرکزی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ نے 15 ستمبر 2026ء کو فنانس ڈیپارٹمنٹ اور لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے امور کو سامنے رکھتے ہوئے ایک تاریخی اور تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے حکمنامہ جاری کیا ہے کہ کے ایم سی اور کراچی کے 25 ٹاؤنز (جس میں 13 پی پی پی، 09 جماعتِ اسلامی اور 03 پی ٹی آئی کے پاس ہیں) کے گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے محرم 10 ہزار سے زائد ریٹائرڈ ملازمین کی روکی گئی پنشن، پراویڈنٹ فنڈ، گریجویٹی اور لیو اینکیشمنٹ کی ادائیگی 60 دن کے اندر اندر ہر صورت یقینی بنائی جائے۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ یہ پٹیشن 2025ء میں ایم کیو ایم پاکستان کے ایڈووکیٹ اشعر قریشی اور محمد الیاس نے دائر کی تھی جس پر عدالتِ عالیہ نے چیف سیکریٹری سندھ سمیت کے ایم سی اور تمام متعلقہ ٹاؤنز کے افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ عدالت کے حکم کے مطابق تمام کھاتوں کی ری کنسلی ایشن (Reconciliation) کریں اور رقم کا صحیح حساب لگا کر ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ ملازمین کی پنشن اور واجبات کوئی خیرات يا رعايت نہیں بلکہ ان کی زندگی بھر کی محنت سے حاصل کردہ قابلِ عمل حق (Enforceable Entitlement Earn ) ہے جسے نہ روکا جا سکتا ہے اور نہ ہی فنڈز کی کمی کا بہانہ بنا کر اس میں تاخیر کی جا سکتی ہے۔
اگر کے ایم سی یا ٹاؤنز کو اس مقصد کے لیے بینکوں سے قرضہ لینا پڑے یا اپنے منصوبوں کے بجٹ کو دوبارہ ترتیب دینی پڑے تو وہ فوری طور پر دیں کیونکہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلے ملازمین کے حق میں آ چکے ہیں اور تنخواہوں کی طرح پنشن اور واجبات بھی کمپلسری بجٹ کا حصہ ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے میئر کراچی، چیف ایگزیکٹوز اور تمام سیاسی جماعتوں کے بلدیاتی نمائندوں کی شدید نااہلی اور ناکامی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ 15 جنوری 2023ء کے بلدیاتی انتخابات سے پہلے ایڈمنسٹریٹر اور اس کے بعد میئر کراچی کے عہدے پر براجمان رہنے والی قیادت کی ناقص کارکردگی اور عدم تعاون مکمل طور پر بے نقاب ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف 7.5 کروڑ کی آبادی کا بوجھ ہم اٹھا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف موٹروے ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس، کے بی سی اے کو ایس بی سی اے بنانے اور SCUG کے نام پر نوٹیفکیشن کے ذریعے 228 نشستوں پر غیر مقامی افراد کو کراچی میں لا کر بٹھایا جا رہا ہے جو اس شہر کے حقوق پر کھلم کھلا ڈاکہ ہے۔
اس موقع پر رکنِ اسمبلی فیصل رفیق نے تھانہ بریگیڈ میں ایک مظلوم خاندان اور وکیل پر کیے جانے والے پولیس تشدد اور جھوٹی ایف آئی آر کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے فوری انکوائری اور ملوث وکلاء اور پولیس اہلکاروں کے لائسنس اور عہدے معطل کرنے کا مطالبہ کیا۔
ایم کیو ایم پاکستان کی قانونی کمیٹی اور لیبر ڈویژن نے عہد کیا ہے کہ وہ معمر اور مظلوم ملازمین کے ساتھ سڑکوں پر بھی اور قانونی محاذ پر بھی کھڑی رہے گی اور اگر عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد میں ٹال مٹول سے کام لیا گیا تو توہینِ عدالت کی کارروائی کے لئے عدالت سے رجوع کیا جائے گا، ساتھ ہی عوامی و جمہوری احتجاج کا لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا۔
