• ستمبر 24, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 24, 2026 9:21 شام
  • پاکستان

پان کے پتے، مکھن، مہندی کے پتے، بیٹل نٹس، پنیر، ناریل کے بیج، کھجوریں، پھل، فوڈ گرینز، مچھلی، ادرک، لہسن و دیگر شامل

ایف بی آر نے پان کے پتے، مکھن، مہندی کے پتے، بیٹل نٹس، پنیر، ناریل کے بیج، کھجوریں، پھل، غیر ضروری تیل، فوڈ گرینز، مچھلی، ادرک، لہسن سمیت مجموعی طور پر 29 آئٹمز کو جلد خراب ہونے والی اشیا قرار دیتے ہوئے فہرست جاری کردی۔

ایکسپریس کو دستیاب دستاویز کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے کسٹمز ایکٹ 1969ء کی دفعہ 98 کے تحت 29 اشیا کو جلد خراب ہونے والی اشیا قرار دیتے ہوئے ان کی فہرست جاری کردی ہے۔

ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق ان اشیا میں بیٹل کے پتے، مکھن، مہندی کے پتے، بیٹل نٹس، پنیر، ناریل کے بیج، کھجوریں، پھل، غیر ضروری تیل، فوڈ گرینز، مچھلی، ادرک، لہسن، کھالیں، زندہ درخت، پودے اور جڑیں، دودھ کا پاوٴڈر، گوشت، پیاز، چائے، چینی، ٹماٹر، سبزیاں، مٹھائیاں اور کنفیکشنری، سافٹ ڈرنکس، مصالحہ جات، شربت، جام، جیلیاں، مارملیڈز، کیچپ اور اسی نوعیت کی اشیا، پراسیسڈ تمباکو، چائے، کوکو اور کافی، وہ سبزیاں اور پھل جو اوپر بیان نہیں کیے گئے، خوردنی تیل اور تلہن شامل ہیں۔

نوٹی فکیشن کے مطابق ایسی خوردنی شے جس کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ مینوفیکچرر کی جانب سے پیکیجنگ پر درج ہو اور جو درآمد کے وقت پراسیسڈ، کین، بوتل یا پیک شدہ حالت میں ہو، اسے گودام سرچارج کے مقاصد کے لیے جلد خراب ہونے والی اشیا نہیں سمجھا جائے گا تاہم اس کے لیے شرط عائد کی گئی ہے کہ ایسی اشیا کسٹمز بانڈڈ گوداموں میں مینوفیکچرر کی جانب سے مقرر کردہ ذخیرہ کرنے کی شرائط کے مطابق اس طرح رکھی جائیں کہ گودام میں رکھنے کی مدت کے دوران انسانی استعمال کے لیے ناقابلِ استعمال نہ ہوں۔

مزید شرط کے مطابق کسٹمز بانڈڈ گودام کا لائسنس یافتہ فرد نوٹیفکیشن کے ساتھ منسلک مقررہ فارمیٹ کے تحت تصدیق کرے گا کہ گودام میں متعلقہ اشیا کو مینوفیکچرر کی مقرر کردہ شرائط کے مطابق رکھنے کے لیے مطلوبہ سہولیات موجود ہیں اور یہ سرٹیفکیٹ درآمد کنندہ یا مجاز کلیئرنگ ایجنٹ متعلقہ ان بانڈ گڈز ڈیکلریشن جمع کراتے وقت فراہم کرے گا۔

نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر نظام سے متعلق تبدیلیاں چیف کلکٹر ساوٴتھ اپریزیمنٹ کا دفتر پی ایس ڈبلیو/وی بوک ٹیم کے ساتھ فوری طور پر کرے گاجبکہ مذکورہ احکامات 15 اکتوبر 2026 سے نافذ العمل ہوں گے۔

نوٹی فکیشن کے ساتھ جاری سرٹیفکیٹ کے فارمیٹ میں کسٹمز بانڈڈ گودام کا نام، پتا، درآمد کنندہ کا نام اور این ٹی این، گودام کا لائسنس نمبر اور تاریخ، مجاز کلیئرنگ ایجنٹ کا نام، ان بانڈ گڈز ڈیکلریشن نمبر اور تاریخ، مینوفیکچرر کی انوائس یا پیکنگ لسٹ کے مطابق اشیا کی تفصیل، لائسنس نمبر، پی سی ٹی/ایچ ایس کوڈ اور اشیا کی مقدار یا وزن کی تفصیلات شامل کی گئی ہیں۔

سرٹیفکیٹ میں گودام کے لائسنس یافتہ یا مجاز دستخط کنندہ کی جانب سے اس امر کی تصدیق کی جائے گی کہ گودام میں متعلقہ اشیا کو مینوفیکچرر کی مقرر کردہ ذخیرہ کرنے کی شرائط کے مطابق رکھنے کے لیے مطلوبہ سہولیات، انفراسٹرکچر اور آلات موجود ہیں اور اشیا کو اس انداز اور حالات میں رکھا جائے گا کہ وہ گودام میں رکھنے کے دوران کسی بھی وقت انسانی استعمال کے لیے ناقابلِ استعمال نہ ہوں، جبکہ ذخیرہ کرنے میں عدم تعمیل یا ناکافی سہولیات کے باعث اشیا کے انسانی استعمال کے لیے ناقابلِ استعمال ہونے کی صورت میں دستخط کنندہ کسٹمز ایکٹ 1969 کی متعلقہ دفعات کے تحت کارروائی اور سزا کا ذمہ دار ہوگا۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے