مذاکرے میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے معاملے پر ملک بھر میں عوامی آگاہی پر مبنی بحث شروع کرنے پر اتفاق
یونیورسٹی آف مکران پنجگور میں نئے صوبوں، انتظامی یونٹس اور طرزِ حکمرانی کے مستقبل پر اہم مذاکرہ ہوا جس میں سیاسی، تعلیمی، صحافتی، سماجی حلقوں کے ںمائندوں اور طلباء و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
مذاکرے میں ملک بالخصوص بلوچستان میں انتظامی چیلنجز اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں مشکلات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ مذاکرے میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے معاملے پر ملک بھر میں عوامی آگاہی پر مبنی بحث شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
مذاکرے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے شرکاء نے کہا کہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کا قیام آئینی و پارلیمانی طریقۂ کار کے تحت ہونا چاہیے، وسائل کی منصفانہ اور شفاف تقسیم نئے انتظامی ڈھانچے کے لیے بنیادی شرط ہے، نئے انتظامی ڈھانچے کے ممکنہ فوائد اور آئینی پہلوؤں پر سنجیدہ بحث کی ضرورت ہے۔
اس موقع پر یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے کہا کہ گزشتہ 50 سے 60 سالوں میں آبادی میں نمایاں اضافہ اور ڈیموگرافک تبدیلیاں آئی ہیں۔ غیر دستاویز شدہ آبادی اور بڑھتے ہوئے مسائل کا حل نئے انتظامی یونٹس میں ہے۔
نئے صوبوں کا قیام ایک مثبت قدم ہے، جس کے لیے پارلیمنٹ میں پیشرفت ضروری ہے۔
طلبا و طالبات نے مذاکرے کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈویژنز دور ہونے کے باعث کوئٹہ سفر کرنا پڑتا ہے، انتظامی تبدیلیاں ضروری ہیں، نئی صوبوں کی تشکیل سے ترقی ممکن ہوگی۔
طلبہ کا کہنا تھا کہ پنجگور میں گورننس کی کمزوری کی وجہ سے بنیادی مسائل حل نہیں ہو پا رہے، ملک کا سب سے بڑا مسئلہ سیکورٹی اور عدم ترقی ہے، جو نئے انتظامی یونٹس سے حل ہو سکتا ہے۔
یونیورسٹی آف مکران میں منعقدہ مذاکرے میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے متفقہ قرارداد منظور کی گئی۔
