• اکتوبر 3, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 3, 2026 6:58 صبح
  • پاکستان

خلائی مخلوق یا دیوہیکل جہاز؟ اسٹار شپ کی لائیو اسٹریم میں پُراسرار’یو ایف او‘ کی جھلک وائرل

امریکا میں 200 سال بعد سزائے موت پانی والی خاتون نے 2 بار موت کا چکما دے دیا

انوکھا گاؤں، رکشا ڈرائیور بھی کروڑ پتی، ہر گھر محل جیسا اور ہر دروازے پر لگژری کار

ٹیڈ کازنسکی : انتہائی ذہین طالب علم ’یونابومبر‘ کیسے بن گیا؟ ہوشربا داستان

کراچی (2 اکتوبر 2026): گزشتہ روز گلشن اقبال بیت المکرم مسجد کے قریب زیر تعمیر پل کا اسٹرکچر گرنے کے پیچھے نشے کے عادی افراد کا ہاتھ نکلا۔

کراچی میں منشیات کےعادی افراد اپنی صحت کے ساتھ ساتھ شہر کی تعمیرات کے بھی دشمن بن گئے۔ کسی سڑک یا گلی میں موجود سریا، پائپ یا کوئی اور قیمتی چیز نشئیوں سے محفوظ نہیں ہے، جو دھڑلے سے اڑا لے جاتے ہیں۔

گزشتہ روز بیت المکرم مسجد کے قریب زیرِ تعمیر بی آر ٹی منصوبے میں زیر تعمیر پُل کے اسٹرکچر گرنے کا واقعہ بھی نشئیوں کا کارنامہ نکلا۔

واقعے کے بعد سی ای او ٹرانس کراچی زبیر احمد نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور کہا کہ مرنے والا شٹرنگ کا پائپ نکالنے کی کوشش کر رہا تھا کہ شٹرنگ کا کچھ حصہ اس کے اوپر گر گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ نشئی افراد اسٹرکچر سے لوہا کاٹ کر لے جاتے ہیں، انہوں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ منصوبے کے اطراف کسی بھی شخص کو چوری سرگرمی میں ملوث دیکھیں تو فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دیں۔

واضح رہے کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے پہلے شارع فیصل کے ناتھا خان پل کی گرل کا سارا سریا بھی نشے کے عادی افراد ہضم کر چکے، جس کی وجہ سے پل کی بنیاد کو نقصان پہنچا اور اس کی بحالی پر حکومتی خزانے سے بھاری رقم خرچ کرنا پڑی۔

رواں برس اگست میں تین ہٹی پل کے 9 ستونوں کو نشے کے عادی افراد کے ہاتھوں نقصان پہنچنے کی رپورٹ سامنے آئی۔ نشئیوں نے ستونوں کا کنکریٹ توڑ کر اندرموجود اسٹیل چوری کیا تھا۔

اسی طرح دسمبر2023 میں حسن اسکوائر پل کی ریلنگ کھول کر لوہا چوری کرنے کا واقعہ بھی رپورٹ ہوا۔

یہ نشئی افراد جگہ جگہ بظاہر دنیا سے بے نیاز دکھائی دیتے ہیں لیکن شہر میں اگر پُلوں کی حفاظتی باڑ، سڑکوں کی گرلز، بجلی کے کھمبوں اور گٹر کے ڈھکنوں سے سریا اوردھات غائب کرنی ہو تو یہی مدہوش نشئی مکمل ہوش کے ساتھ مصروف عمل نظر آتے ہیں۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے