• اکتوبر 3, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 3, 2026 4:18 صبح
  • پاکستان

خلائی مخلوق یا دیوہیکل جہاز؟ اسٹار شپ کی لائیو اسٹریم میں پُراسرار’یو ایف او‘ کی جھلک وائرل

امریکا میں 200 سال بعد سزائے موت پانی والی خاتون نے 2 بار موت کا چکما دے دیا

انوکھا گاؤں، رکشا ڈرائیور بھی کروڑ پتی، ہر گھر محل جیسا اور ہر دروازے پر لگژری کار

ٹیڈ کازنسکی : انتہائی ذہین طالب علم ’یونابومبر‘ کیسے بن گیا؟ ہوشربا داستان

اسلام آباد(2 اکتوبر 2026): عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے نئی آٹو پالیسی کے چند نکات پر اعتراضات اٹھا دیے ہیں، جنہیں مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی کے مسودے میں ترامیم کی جائیں گی۔

ذرائع کے مطابق وزارتِ صنعت و پیداوار نے آٹو پالیسی 2026-2031 کا حتمی مسودہ آئی ایم ایف کو پیش کیا تھا، جس پر ادارے نے بعض امور پر تحفظات کا اظہار کیا۔ آئی ایم ایف کے ان اعتراضات سے اقتصادی رابطہ کمیٹی اور کابینہ کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا جائے گا۔

ذرائع کا بتانا ہے کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی اور وفاقی کابینہ کی مشاورت کے بعد آٹو پالیسی کے ڈرافٹ میں ضروری تبدیلیاں کی جائیں گی۔

اس نئی پالیسی کو حتمی شکل دینے کے لیے مقامی صنعت، امپورٹرز اور آئی ایم ایف کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی جائے گی تاکہ تمام فریقین کے تحفظات کو دور کیا جا سکے۔

دستاویزات کے مطابق نئی آٹو پالیسی کا بنیادی مقصد گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی لانا ہے۔ پالیسی کے تحت عام گاڑیوں پر کسٹم ڈیوٹی میں اگلے پانچ سالوں کے دوران اسی فیصد تک نمایاں کمی کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، نئی نیشنل ٹیرف پالیسی کے تحت 2026 سے ہر سال بتدریج ٹیکسوں میں کمی کی جائے گی۔

آئی ایم ایف کو دی گئی بریفنگ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ نئی پالیسی میں الیکٹرک گاڑیوں، پلگ ان ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں اور رینج ایکسینڈر الیکٹرک گاڑیوں کو برابر کا درجہ دینے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے خصوصی مراعات اور ٹیکسوں میں بڑی چھوٹ بھی اس مسودے کا حصہ ہیں۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے