• ستمبر 29, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 29, 2026 5:45 شام
  • پاکستان

ٹریفک ای چالان اب بجلی کے بل میں لگ کر آئیں گے؟ تجویز پیش کر دی گئی

ایک ملک کے وزیراعظم پر موبائل فون چوری کا الزام، پارلیمنٹ نے استثنیٰ ختم کر دیا!

اہلیہ کے علاج کیلیے مسلسل جدوجہد، 81 سالہ شوہر کی ویڈیو نے سب کو رُلا دیا

پکوڑے کے اسٹال میں ’چٹنی‘ نہ ملنے پر لاتیں اور مُکے چل گئے، ویڈیو وائرل

پاکستانی فلم انڈسٹری کے سنہری دور میں جن فن کاروں نے اپنی شان دار پرفارمنس سے نام و مقام پیدا کیا ان میں صرف اداکار ہی نہیں بلکہ موسیقار، شاعر اور گلوکار بھی شامل ہیں۔ نسیم بیگم بھی ایسی ہی ایک فن کار ہیں جن کا نام ساٹھ کی دہائی میں بطور گلوکارہ مشہور ہوا اور ان کی آواز میں کئی گیت مقبول ہوئے۔ آج گلوکارہ نسیم بیگم کی برسی ہے۔

نسیم بیگم کی آواز کو فلمی دنیا میں اس لیے اہمیت دی گئی کہ وہ ایسی خوب صورت اور لچکدار تھی جو ہر دھن میں خوبی سے ڈھل سکتی تھی۔ نسیم بیگم 24 فروری 1936ء کو امرتسر میں پیدا ہوئیں۔ تقسیمِ ہند کے بعد ان کا خاندان لاہور منتقل ہوگیا۔ نسیم بیگم کو بچپن ہی سے گانے کا شوق تھا۔ والدین کی حوصلہ افزائی سے انھوں نے نو عمری ہی میں گانا سیکھنا شروع کردیا اور گلوکارہ فریدہ خانم کی بڑی بہن مختار بیگم سے کلاسیکی موسیقی کی تربیت حاصل کرنے لگیں۔ نسیم بیگم نے فطری صلاحیت اور محنت سے کلاسیکی موسیقی پر عبور حاصل کرلیا۔ 1950 میں گلوکارہ نسیم بیگم نے فلم’’ گڈی گڈا ‘‘کے گیت گائے، لیکن ان کا اصل تعارف فلم ’’بے گناہ‘‘ کا گیت بنا جو موسیقار شہریار نے کمپوز کیا اور انہی کا لکھا ہوا بھی تھا۔ اس گیت کے بول تھے: ’’نینوں میں جل بھر آئے، مورک من تڑپائے، روٹھ گیا مورا پیار۔‘‘

نسیم بیگم کی آواز ملکۂ ترنم نور جہاں سے کافی ملتی تھی۔ اس مشابہت کو محسوس کرتے ہوئے موسیقار رشید عطرے نے فلم ’’نیند‘‘ کے دو نغمات میں نور جہاں اور نسیم بیگم کی آوازوں کو یک جا کیا۔ ایک گیت تھا ’’اکیلی کہیں مت جانا زمانہ نازک ہے‘‘ اور دوسرا ’’جیا دھڑکے سکھی ری جور سے جی آئی مل کے بلم چت چور سے۔‘‘ لیکن اس کے بعد ان دونوں کو یکجا نہیں‌ سنا گیا۔ نسیم بیگم کے عروج کا زمانہ 1955 سے 1964 تک کا ہے۔ اس دوران ان کی شادی لاہور کے معروف پبلشر دین محمد سے ہوگئی اور خدا نے انھیں تین بیٹے اور تین بیٹیوں سے نوازا۔

فلم ’’گل بکاؤلی‘‘ میں نسیم بیگم کا کلاسیکی گیت ’’چلے مور کی چال، کرے سب دنیا کو پامال، جوانی دیوانی….‘‘ گایا اور اسی فلم کا ایک دو گانا نسیم بیگم اور زبیدہ خانم نے پشتو دھن پر گایا جو گلی گلی سنا گیا، اس کے بول تھے ’’جوانی مسکرائے گنگنائے گائے تیرے میرے پیار کے دن آئے۔‘‘ لیکن نسیم بیگم کو پہلا بریک تھرو موسیقار اے حمید نے ایس ایم یوسف کی 1969 میں بننے والی فلم ’’سہیلی‘‘ سے دلایا جس کے سارے گیت نسیم بیگم نے گائے جو بہت مقبول ہوئے۔ ’’ہم بھول گئے ہر بات مگر تیرا پیار نہیں بھولے‘‘،’’کہیں دو دل جو مل جاتے بگڑتا کیا زمانے کا‘‘ (دو گانا) ’’ہم نے جو پھول چنے دل میں چبھے جاتے ہیں‘‘،’’مکھڑے پہ سہرا ڈالے آجا او آنے والے…‘‘ (کورس)۔ 1962 میں فلم ’’اولاد‘‘ کے سبھی گیت جن کی موسیقی اے حمید نے ترتیب دی تھی، نسیم بیگم کے فلمی کریئر کو اوج پر لے گئے۔ ’’نام لے لے کے تیرا ہم تو جیے جائیں گے‘‘ ان میں‌ سے ایک ہے۔ ریاض شاہد کی فلم ’’شہید‘‘ کے نغمات بھی نسیم بیگم کی آواز میں بے حد مقبول ہوئے۔ اس کے علاوہ سلیم اقبال کی موسیقی میں نسیم بیگم نے دو گیت گائے، ’’چندا توری چاندنی میں جیا جلا جائے رے‘‘ اور ’’چھن چھن چھن بچھوا باجے۔‘‘ خواجہ خورشید انور کی کمپوزیشن میں فلم ’’گھونگٹ‘‘ کا گیت ’’چھن چھن چھن موری پائل کی دھن گائے تیرا ہی ترانہ کبھی آکے سن‘‘ اور فلم ’’حویلی‘‘ کا گانا ’’میرا بچھڑا بلم گھر آگیا، میری پائل باجے چھنن چھنن چھن۔‘‘ یہ گانے نسیم بیگم کی کلاسیکی گائیکی میں مہارت کا ثبوت ہیں۔

گلوکارہ نسیم بیگم نے اردو کے علاوہ پنجابی فلموں کے گیت بھی گائے، مگر شہرت اور مقبولیت کی وجہ اردو گیت ہی بنے۔ 1956 میں فلم ’’کرتار سنگھ‘‘ میں نسیم بیگم کا ایک گیت ’’دیساں دا راجہ میرے بابل دا پیارا، ویر میرا گھوڑی چڑھیا‘‘ شامل تھا جو ایک عوامی گیت بن گیا اور اس زمانے میں ہر شادی بیاہ کے موقع پر سنا جاتا تھا۔ گلوکارہ نے چودہ سالہ فلمی کریئر میں ساڑھے تین سو سے زائد فلموں کے لیے تقریباً ساڑھے سات سو گیت ریکارڈ کروائے۔ ان کے سب سے زیادہ گیت اس وقت کی پنجابی فلموں کی سپر اسٹار کہلانے والی اداکارہ فردوس، نغمہ اور نیلو پر فلمائے گئے۔

مشہور ملّی نغمہ ‘اے راہِ حق کے شہیدو، وفا کی تصویرو’ بھی اسی گلوکارہ نے گایا ہے۔ نسیم بیگم 29 ستمبر 1971ء کو انتقال کرگئی تھیں۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے