• اکتوبر 6, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 6, 2026 11:30 شام
  • پاکستان

اگر مطالبات نہ مانے گئے تو پھر اگلے مرحلے میں وزیراعظم ہاؤس کی طرف مارچ کریں گے، اجمل بلوچ

آل پاکستان انجمن تاجران کے رہنما اجمل بلوچ نے مہنگی بجلی، ٹیکسز اور انتظامی اقدامات پر شدید تنقید کرتے ہوئےجمعرات کو جزوی ہڑتال اور آبپارہ چوک میں احتجاجی مظاہرہ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

آل پاکستان انجمن تاجران کے رہنما نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ جمعرات کو جزوی ہڑتال کرنے جارہے ہیں جس کے تحت سہہ پہر تین بجے سے شام پانچ بجے تک دکانیں بند رکھی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے شٹر ڈاؤن ہڑتال بھی کی جائے گی۔ اجمل بلوچ نے ایف بی آر کے نظام پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تاجروں کو دفاتر کے چکر لگانے، نوٹسز اور مبینہ ہراسانی سے نجات دلائی جائے،ملک میں کوئی مناسب منصوبہ بندی نہیں ہے اور ہر مسئلے کا حل صرف ڈنڈا بنا دیا گیا ہے،مقامی تاجروں کے حقیقی مسائل سنے جائیں ایف بی آر سمیت تمام سرکاری اداروں میں شفافیت یقینی بنائی جائے اور کاروباری طبقے کو منصفانہ، شفاف اور سازگار ماحول فراہم کیا جائے۔

آل پاکستان انجمن تاجران نے کہا کہ اگر شاپنگ بیگز پر پابندی عائد ہے تو پہلے ان کی تیاری کرنے والی فیکٹریاں بند کی جائیں اور تاجروں اور عوام کو متبادل فراہم کیا جائے، بات نہ سنی گئی تو پورا اسلام آباد بند کر کے وزیراعظم ہاؤس کی طرف مارچ کیا جائے گاْ

اسلام آباد کی دیگر مارکیٹوں کےتاجر رہنماؤں کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیااجمل بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ ہم سب اس بات پر متفق ہیں کہ ماحول کو صاف رکھنا چاہیے، آلودگی کا خاتمہ ہونا چاہیے اور ایسی اشیاء کے استعمال کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے جو ماحول کے لیے نقصان دہ ہیں،شاپر بیگ اگر غیر قانونی ہے تو یہ بن کہاں رہا ہے؟ یہ حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسئلے کی جڑ پر ہاتھ ڈالیں نہ کہ دکاندار کے ہاتھ سے شاپر چھین کر اسے مجرم بنا دیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک عام دکاندار کوئی کرمنل ،دہشت گرد ، سمگلر یا کوئی بدمعاش نہیں۔ حکومت شاپر کا متبادل بھی تو دیں پھر تاجر اور عوام بھی اس پالیسی پر عمل کریں گے، تاجر کی تذلیل نہ کی جائے، اسے ہراساں نہ کیا جائے، ہم حکومت کے ساتھ مل کر مسئلے کا حل چاہتے ہیں تاکہ ماحول بھی بچائیں اور کاروبار بھی چلائیں۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت تاجروں کو اعتماد میں لے،متبادل فراہم کرے،صنعتوں کو پابند کرے، اسمگلنگ روکے اور پھر قانون پر عملدرآمد یقینی بنائےتاجر ماحول دشمن نہیں ہے وہ بھی چاہتا ہے کہ اسلام آباد صاف، خوبصورت اور آلودگی سے پاک شہر ہو۔ لیکن ماحول کی حفاظت کے نام پر تاجر کی عزتِ نفس مجروح کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شاپر بیگ کا قابلِ عمل اور سستا متبادل فوری طور پر مارکیٹ میں دستیاب کیا جائے، غیر قانونی شاپر بنانے والی فیکٹریوں کے خلاف کارروائی کی جائے،اسمگلنگ کے راستے بند کیے جائیں اور غیر قانونی سپلائی کو روکا،تاجروں کو ہراساں، بے عزت اور تذلیل کرنے کے بجائے انہیں اعتماد میں لیا جائے،قانون پر عملدرآمد کے لیے واضح،یکساں اور باعزت طریقہ کار بنایا جائے۔ ڈنڈا مسئلے کا حل نہیں ہےملک بھر میں تاجر اور عام شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں جبکہ حکومت ان کے مسائل حل کرنے کے بجائے ٹیکسز، جرمانوں اور انتظامی اقدامات کا بوجھ بڑھا رہی ہے۔

اجمل بلوچ نے کہا کہ حکومت کو پہلے عوام کے لیے بنیادی سہولیات یقینی بنانی چاہئیں اور اس کے بعد قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک میں قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے اور غریب کے خلاف فوری کارروائی جبکہ بااثر افراد کو رعایت ملنے کا تاثر ختم ہونا چاہیے۔

انہوں نے کرپشن کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات اور سخت سزاؤں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بدعنوانی نے ملکی معیشت اور اداروں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔انہوں نے ایف بی آر کے نظام پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تاجروں کو دفاتر کے چکر لگانے،نوٹسز اور مبینہ ہراسانی سے نجات دلائی جائے۔

اجمل بلوچ نے کہا کہ اگر حکومت تاجروں سے ٹیکس وصول کرنا چاہتی ہے تو پہلے انہیں کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کرےجس میں سستی بجلی، سکیورٹی، پارکنگ اور دیگر بنیادی سہولیات شامل ہیں ایسا نظام متعارف کرایا جائے جس کے تحت تاجر اپنے موبائل فون کے ذریعے خود ٹیکس ادا کر سکیں اور انہیں پہلے سے معلوم ہو کہ انہیں کتنا ٹیکس ادا کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب دکاندار پہلے ہی کاروباری مشکلات کا شکار ہوں تو ان پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنا مسائل میں اضافے کے مترادف ہے دکاندار کو مجرم بنانے کے بجائے اصل مسئلہ ختم کریں ڈنڈا چھوڑیں، راستہ نکالیں ہم حکومت کے ساتھ ہیں، لیکن تاجر کی عزت، روزگار اور کاروبار کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگاجمعرات آٹھ اکتوبر دن دو بجے سے شام پانچ بجے تک کاروبار بند رہے گا اور تمام تاجر اپنی اپنی مارکیٹوں کے باہر احتجاج کریں گےانہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کی بات نہ سنی گئی تو پورا اسلام آباد بند کر کے وزیراعظم ہاؤس کی طرف مارچ کیا جائے گا۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے