• ستمبر 26, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 26, 2026 2:58 صبح
  • پاکستان

آنکھوں کی بیماری کا علاج، نئی دوا امید کی کرن

بدنام زمانہ گینگسٹر کو شادی کیلیے 12 گھنٹے کی رہائی مل گئی

آرم ریسلر نے بچی کے والد سے جان بوجھ کر ہار کر سب کے دل جیت لیے

2300 سال سے زائد قدیم ارسطو کا اسکول دریافت

ریاض : مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک نے باہمی دفاعی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے اور معاہدے کے تحت کیے گئے عہد و پیمان کو عملی اور مؤثر عسکری تعاون میں تبدیل کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کے مطابق ریاض میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیفس آف جنرل اسٹاف کا اجلاس ہوا، جس میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کی اعلیٰ عسکری قیادت نے شرکت کی۔

ترک آرمڈ فورسز کے مطابق اجلاس میں پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر، ترک چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق اور سعودی چیف آف جنرل اسٹاف شریک ہوئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور سعودی عرب کو درپیش مختلف خطرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ مشترکہ دفاعی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے لیے تینوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان تعاون، رابطہ کاری اور عملی اشتراک کو فروغ دینا ضروری ہے۔

اجلاس میں مکہ مکرمہ، شہری آبادی اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت بھی کی گئی۔ شرکاء نے سعودی مسلح افواج کی جانب سے مملکت کے دفاع اور سلامتی کے لیے کی جانے والی تیاری، پیشہ ورانہ صلاحیت اور مستعدی کو سراہا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق عسکری قیادت نے سعودی عرب کی سلامتی یقینی بنانے میں سعودی مسلح افواج کے کردار اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بھی تعریف کی۔ اجلاس کے دوران تینوں ممالک کی افواج کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دینے کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

شرکاء نے عسکری رابطہ کاری کو مؤثر بنانے، دفاعی صلاحیتوں کے انضمام کو بہتر بنانے اور مشترکہ تعاون کے نئے طریقہ کار پر بھی غور کیا۔ اس موقع پر تینوں ممالک کے عوام اور مسلح افواج کے درمیان قائم دیرینہ تعلقات اور باہمی اعتماد کو بھی سراہا گیا۔

اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان عسکری تعاون کو مزید منظم اور مؤثر بنایا جائے گا، تاکہ باہمی دفاعی شراکت داری کو عملی سطح پر مزید مضبوط کیا جاسکے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے