• ستمبر 20, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 20, 2026 3:18 صبح
  • پاکستان

اگر انور ابراہیم پاکستان کے خلاف بیان دے دیتے تو پوری دنیا میں اس کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا

گزشتہ 12 ستمبر کو برکس کا آٹھواں سربراہی اجلاس دہلی میں منعقد ہوا جس میں صرف چار ممالک کے سربراہان نے شرکت کی، باقی ممبر ممالک کے نمائندے موجود تھے۔ ارجنٹینا کے صدر کو بھی اس اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی مگر انھوں نے نہ صرف شرکت سے انکار کیا بلکہ اپنے ملک کا برکس سے ناتا ہی توڑ لیا۔

اس موقع پر پوری دہلی کو سجایا گیا تھا، جلسہ گاہ کو تو دلہن کی طرح چمکایا گیا تھا کیونکہ مودی اپنی شان وشوکت دکھا کر ممبر ممالک کے دل جیتنا چاہتے تھے اور انھیں خوش کرکے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے مگر ان کے دل کی حسرت دل ہی میں گھٹ کر رہ گئی کیونکہ کوئی بھی ملک پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی گواہی دینے کے لیے تیار نہیں ہوا۔

یہ حقیقت ہے کہ وہ ہر عالمی فورم میں پاکستان کو بدنام کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں مگر اب لوگ انھیں اچھی طرح سمجھنے لگے ہیں کہ وہ پاکستان دشمنی کے سہارے ہی اپنے ملک میں حکومت کر رہے ہیں۔ پھر مودی کو اس وقت شدید جھٹکا لگا جب ملیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے پاکستان کو دہشت گرد ماننے سے صاف انکار کر دیا جب کہ انھوں نے اسرائیل کو ضرور دہشت گرد قرار دیا۔

اس بیان سے مودی کو اپنے دوست اسرائیل کی بھی مذمت سننے کو ملی جو شاید انھیں پسند نہ آئی ہو۔ اگر انور ابراہیم پاکستان کے خلاف بیان دے دیتے تو پوری دنیا میں اس کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا۔ مودی کو سمجھنا ہوگا کہ بھارت کے پروپیگنڈے پر اب دنیا کان نہیں دھر رہی ہے کیونکہ وہ بھارت کے پاکستان مخالف پروپیگنڈے سے تنگ آ چکی ہے۔

اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ مودی نے اس اجلاس پر جو 100 بلین ڈالر خرچ کیے تھے وہ بے کار ہی گئے کیونکہ وہ جو چاہتے تھے وہ ہو نہیں سکا۔خود بھارتی تجزیہ کاروں نے مودی کے اس شو کو فلاپ قرار دیا ہے کہ اس سے بھارت کچھ حاصل نہیں کر سکا۔

یہ اجلاس مودی نے پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے ہی منعقد کیا تھا۔ وہ اس کے مشترکہ اعلامیے میں پاکستان کے خلاف کئی شقیں شامل کرنا چاہتے تھے مگر وہ پاکستان کا نام بھی اس میں شامل نہ کر سکے البتہ پہلگام واقعے کا ذکر ضرور کیا گیا ہے مگر پاکستان کا نام نہیں لیا گیا البتہ اس واقعے پر مذمت ضرور کی گئی ہے جس پر ایک صحافی نے لکھا کہ پہلگام کی دہشت گردی کی تو پاکستان نے بھی مذمت کی تھی، پھر پاکستان نے تو اس دہشت گردی میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے بھارت کو آپس میں مل کر تحقیقات کرنے کی تجویز بھی دی تھی مگر بھارت نے کوئی جواب ہی نہیں دیا تھا۔

شاید اس لیے کہ یہ دہشت گردی اس نے ہی اپنے لوگوں سے پاکستان کو بدنام کرنے اور اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے کرائی تھی۔ اس سے پہلے بھی وہ پلوامہ وغیرہ میں ایسی ہی کارروائیاں کرا کے الیکشن میں کامیابیاں حاصل کر چکے ہیں۔

اس اجلاس میں مودی نے تمام برکس ممبران کو مشورہ دیا کہ دنیا میں کہیں بھی دو ممالک میں تنازع ہو تو دونوں ممالک کو آپس میں مل بیٹھ کر اسے حل کرنا چاہیے تو پھر پہلگام کے واقعے پر انھوں نے بغیر کسی ثبوت اور وارننگ کے پاکستان پر اچانک حملہ کیوں کیا تھا؟

جس میں پاکستان کو جانی نقصان ضرور اٹھانا پڑا، مگر بھارت تو اپنے چھ نئے اور مہنگے رافیل طیاروں اور پائلٹوں سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا جس کی تصدیق امریکی صدر نے بھی کی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس اجلاس کے موقع پر مودی نے انڈیا کو ایک عظیم ملک کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی تھی مگر جس مقام پر یہ اجلاس منعقد کیا گیا تھا اس کے آس پاس غریبوں کے گھر موجود ہیں جنھیں مودی کے حکم سے دہلی کی انتظامیہ نے چھپانے کی بھرپور کوشش کی تھی کہ وہ اجلاس میں شریک مندوبین کی نظروں میں نہ آ سکیں مگر یہ کوشش ناکام ہی رہی اور اس طرح مودی کا شائننگ انڈیا کا بیانیہ ناکام ہی رہا۔

اس سے قبل بھی صدر ٹرمپ کی دہلی آمد کے موقع پر بھی جلسہ گاہ کے قریب واقع غریبوں کی جھونپڑیوں کو قناتوں سے چھپانے کی کوشش ناکام ہی رہی تھی۔ مودی دل کے تو بہت کینہ پرور ہیں مگر حد سے زیادہ نفاست پسند واقع ہوئے ہیں۔

خاص مواقع پر دن میں کئی کئی جوڑے زیب تن کرنے کا انھیں جنون طاری ہے مگر وہ یہ بھی تو دیکھیں کہ کروڑوں بھارتی بھوکے ہی سو جاتے ہیں ۔ افسوس تو یہ ہے کہ وہ غریبوں کے مسیحا بنتے ہیں مگر امبانی اور اڈانی کے چکر میں ایسے پھنسے ہیں کہ ان کے بھلے کے سوا کسی کا بھلا ہی نہیں چاہتے تاہم اسی بھلائی کے صلے میں ان ارب پتیوں نے کئی کئی ٹی وی چینلز خرید کر ان کے حوالے کر دیے ہیں جنھیں گودی میڈیا کہا جاتا ہے، وہ تمام دن رات مودی کے گیت گاتے رہتے ہیں جب کہ دوسری سیاسی پارٹیوں کو یہ سہولت میسر نہیں ہے۔ اسی لیے وہ ناکام ہیں اور اتنی کمزور کہ مودی کی ای وی ایم کے ذریعے دھاندلی زدہ جیت کو بھی روکنے میں ناکام ہیں۔

مودی نے برکس اجلاس میں گلوان وادی کا بھی ذکر کیا مگر اس پر تو چین نے 2020ء میں قبضہ کر لیا تھا۔ مودی اسے چین سے واپس نہ لے سکے مگر اس خبر کو اپنے عوام سے چھپائے رکھا اور سب اچھا اچھا کہتے رہتے ہیں۔ انھوں نے ارونا چل پردیش کا بھی ذکر کیا مگر یہ تو سراسر چین کا حصہ ہے، اس پر بھارت نے جموں کشمیر کی طرح ناجائز قبضہ کر رکھا ہے جسے کبھی نہ کبھی تو خالی کرنا ہوگا۔

مودی نے اس اجلاس کو زبردست کامیاب قرار دیا ہے جب کہ کانگریسی لیڈر چدمبرم سمیت کئی تجزیہ کار اسے ایک فلاپ شو قرار دے رہے ہیں جسے مودی نے صرف اپنی شان وشوکت دکھانے کے لیے منعقد کرایا تھا مگر اس کی قیمت بھارتی عوام کو اپنے خون پسینے کی کمائی پر عائد ٹیکسوں سے ادا کرنا پڑی ہے۔ کاش کہ مودی پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف اپنی نفرتی پالیسی سے ہٹ کر عوام کی بھلائی کے لیے بھی کام کریں تو شاید آگے جا کر بھارت ’’شائننگ انڈیا‘‘ میں تبدیل ہو سکے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے