• ستمبر 20, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 20, 2026 4:26 صبح
  • پاکستان

کراچی میں خصوصاً پوش ایریا کی آبادی اس قسم کے کلچر کا زیادہ شکار ہے

جامعہ کراچی کے استاد پروفیسر عارف ساقی پر تشدد کا واقعہ، جو 8 ستمبر کو صفورہ چورنگی کے قریب ایک ریستوران کے باہر پیش آیا، اچانک نہیں ہوا۔ کراچی میں گزشتہ کئی سال سے وی آئی پی کلچر کے بڑھتے ہوئے رجحان کا احساس ہو رہا تھا۔

مسلح گاڑیوں پر سوار محافظین اپنے مالک کی حفاظت کے لیے ایسے تیار بیٹھے ہوتے ہیں گویا محاذ جنگ پر جا رہے ہیں۔ ایک وقت تھا جب بینک کے باہر دو نالی بندوق پکڑے چوکیدار ہی شہر کا واحد مسلح شخص ہوا کرتا تھا۔ لگتا یہ ہے کہ شہر کا ہر امیر آدمی ہر وقت جہاد کی نیت سے گھر سے نکلتا ہے۔

کراچی میں اسلحے کا اتنا کھلے عام مظاہرہ کی کئی وجوہات ہیں۔ ان میں ماضی قریب میں مذہبی، سیاسی اور لسانی عصبیت کی بنیاد پر قائم جماعتوں نے اپنے جاہ و جلال اور طاقت کے مظاہرے کے لیے بھی یہ رویہ روا رکھا۔ اندرون سندھ اور بلوچستان سے دولتمند وڈیروں کی آمد نے اور مقامی صنعت کاروں اور امراء نے اس مسلح حالت میں بڑے کانوائے کی شکل میں چلنے کے کلچر کو فروغ دیا۔

کراچی میں خصوصاً پوش ایریا کی آبادی اس قسم کے کلچر کا زیادہ شکار ہے، کیونکہ ان کی بڑی آبادی انھی علاقوں میں مقیم ہے۔ قبائلی سرداروں کا وہ رنگ و روپ جو وہ اپنے علاقوں میں اپنے مقامی مزارعوں کو دکھاتے ہیں، وہ جاہ و جلال اب کراچی میں بھی عام ہوتا جا رہا ہے۔

کیا کوئی مہذب اور قانون پسند معاشرہ جنگی ساختہ اسلحے کی عام نمائش کی اجازت دے سکتا ہے، جب کہ وہ افراد ریاستی سکیورٹی اداروں سے تعلق بھی نہیں رکھتے؟

اس کی بڑی وجہ حکومتوں کی نااہلی اور خود ان کا عوام کی جڑوں سے نہ ہونا ہے، وہ اس معاملے میں عام آدمی کی طرح سوچنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے کہ اس قسم کے وی آئی پی کلچر کا ایک عام شہری کے دل و دماغ اور اس کی عزت نفس پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، وہ ہمیشہ ایک انجانے خوف میں مبتلا رہے گا کہ کب میری کسی ایسے طاقتور گاڑی بردار سے سڑک پر مڈبھیڑ ہو جائے جو اپنے اسلحے کے زور پر کچھ بھی کر سکتا ہو۔

ایک عام فرد کے پاس اس کی عزت ہی سب سے بڑی دولت ہوتی ہے، جس کے جانے پر وہ سب سے زیادہ دل گرفتہ ہوتا ہے۔سوال یہ ہے کہ دنیا کے کس مہذب اور قانون پسند ملک میں اسلحے کی اس طرح نمائش کی آزادی ہے؟

کہاں آپ کے ذاتی محافظ گاڑی سے اتر کر سڑک کی ٹریفک کنٹرول کرتے ہیں اور جب ضروری سمجھتے ہیں تو عوام کے ساتھ بدتمیزی کرتے ہیں؟ یہی رویہ ہم نے ڈاکٹر ساقی کے ساتھ روا دیکھا۔ دور نہیں جاتے، پاکستان کے کسی ایک شہر میں بھی مسلح افراد اس انداز میں سفر نہیں کرتے جیسا کہ صبح و شام ہم کراچی میں دیکھتے ہیں۔

اسلام آباد، جو کہ ملک کا صدر مقام ہونے کی وجہ سے اہم سیاسی اور سرکاری افراد کا مسکن ہے، وہاں بھی اس ڈھٹائی اور غنڈہ گردی طرز کے محافظین ان کے ساتھ سفر نہیں کرتے۔ سب سے دلچسپ مگر افسوسناک مشاہدہ یہ ہے کہ حکومت تواتر سے اسلحے کی کھلے عام نمائش کی پابندی کے احکامات جاری کرتی رہتی ہے۔

میرا گمان ہے کہ وہ دفتری نوٹ نہ کسی پولیس تھانے میں پہنچتا ہے نہ ٹریفک پولیس کے پاس۔ کچھ نمائشی قسم کے اقدامات بھی کیے جاتے ہیں جن کی افادیت سے عوام خوب واقف ہے، ایسے مسلح گاڑی بردار لوگ ان سڑکوں سے گریز کرتے ہیں جب تک یہ پولیس کی جانچ پڑتال کی کارروائی جاری رہتی ہے اور اس کے بعد پھر پہلے جیسی صورتحال ہو جاتی ہے۔

یعنی اپنے ہی احکامات کو مکمل طور پر عمل میں لانے کی ایک غیر سنجیدہ کوشش کی جاتی ہے، جب کہ جدید سہولتوں نے اس قسم کے عناصر پر نظر رکھنا اور انھیں قانون کی گرفت میں لانا بہت آسان ہے۔جو کچھ کراچی میں ڈاکٹر ساقی صاحب کے ساتھ ہوا، یہ پہلا واقعہ نہیں۔

اس سے زیادہ سنگین معاملات ہوتے رہے ہیں جن میں مسلح تصادم بھی ہوا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ سندھ حکومت میں موجود ایسے افراد ہیں جو اس قسم کی لاقانونیت کے تدارک میں سنجیدہ نہیں۔اس سلسلے میں ایک امر واقعہ یاد رکھنے کے قابل ہے۔

اگست 2011 میں سندھ کے ایک وزیر نے تین لاکھ ممنوعہ بور کے اسلحہ لائسنس دینے کا اعتراف کیا اور ساتھ یہ بھی کہا کہ ہم نے یہ اسلحہ شادیوں پر فائرنگ کرنے کے لیے نہیں دیا تھا۔ اس بیان کی تردید کرتے ہوئے اس وقت کے سندھ کے وزیر داخلہ منظور وسان نے کہا کہ 1947 سے 2000 تک 7 لاکھ اسلحہ لائسنس جب کہ ایک لاکھ 28 ہزار گزشتہ 11 سالوں میں دیے گئے۔

قانونی پوزیشن یہ ہے کہ سندھ کے وزیراعلیٰ اور وزیر داخلہ لا محدود اسلحہ لائسنس جاری کر سکتے ہیں، جب کہ اندرون سندھ ڈسٹرکٹ کے ڈپٹی کمشنر کو ہر ماہ سو جب کہ کراچی کے ڈپٹی کمشنر صاحبان پچاس لائسنس جاری کرنے کے مجاز ہیں، مگر یہ محض قانونی پوزیشن ہے۔

غیر قانونی اسلحہ کتنا ہے، اس کا کوئی حساب کتاب نہیں رکھا جا سکتا اور یہی وہ پوشیدہ حقیقت ہے جو کراچی جیسے شہر میں ہر لمحہ ایک خاموش خطرہ بنی ہوئی ہے۔حکومت آخر کب اس کلچر کو روکنے کے لیے سنجیدگی سے اسلحے کی نمائش پر مکمل پابندی عائد کرے گی؟

ممنوعہ بور کا اسلحہ جاری کرنے پر مکمل پابندی ہونی چاہیے۔ جن افراد کو اپنی سیاسی وابستگیوں اور خاندانی و قبائلی دشمنیوں کی بنیاد پر اسلحہ درکار ہے، وہ ان دشمنیوں کو کراچی سے باہر نمٹائیں۔ کراچی تہذیب اور تمدن کا مرکز جانا جاتا تھا، اس کا یہ تشخص قائم رہنا چاہیے۔

وی آئی پی گاڑیوں کے پچھلے حصے میں مسلح افراد بیٹھنے پر پابندی ہونی چاہیے، سوائے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افراد کے۔ پولیس گاڑیوں کے علاوہ کسی کو ذاتی محافظین رکھنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جانی چاہیے۔

یہ عام آدمی کے حق ِ آزادی کی توہین ہے، بلکہ یہ اعتراف بھی ہے کہ حکومت عام شہری کو قانونی تحفظ دینے اور اس کی حفاظت کرنے میں ناکام ہے۔ جب تک پولیس کو سیاسی اثرات سے پاک آزادانہ اور بے پیشہ ورانہ آزادی سے قانون کے مطابق کام نہیں کیا جائے گا تو پولیس کے ایماندار محنتی اور فرض شناس افسر بھی اپنے فرائض ادا کرنے سے ہچکچائیں گے۔

پولیس میں آج بھی ایماندار اور فرض شناس افسر ہیں۔دنیا کا کوئی بھی مہذب معاشرہ اس انداز سے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلحہ صرف اور صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھ میں ہونا چاہیے اور اگر عام شہری کو بھی یہ لائسنس دینا ضروری ہے جس کا مقصد محض اپنی حفاظت ہو، تو اس پر بھی اخلاقی پابندی ہونی چاہیے کہ اسے اپنی ذاتی مفاد اور دوسرے امن پسند شہریوں کو ڈرانے دھمکانے کے لیے استعمال نہ کریں۔

ان معاملات کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا تو شہر جلد یا بدیر امن و امان کی ابتر صورتحال سے دوچار ہو سکتا ہے۔ کل پچھتانے سے بہت بہتر ہے کہ ایسے اقدامات اٹھائے جائیں اور قانون کی پابندی لازمی کروائی جائے۔ اس میں امیر غریب، حکومت اور غیر حکومت کی تفریق نہیں۔ قانون سب کے لیے برابر کا اصول جب تک رائج نہیں ہوگا، ڈاکٹر ساقی جیسے واقعات نمودار ہوتے رہیں گے، کبھی سنگین اور کبھی سنگین تر۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے