• ستمبر 20, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 20, 2026 4:26 صبح
  • پاکستان

یورپ کی طرف نظر دوڑائیں تو اس رجحان کی شکل مختلف دکھائی دیتی ہے

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس خوبی کے اپنے پرائے سب معترف ہیں کہ موصوف گفتنی ناگفتنی یکساں آسانی سے ڈنکے کی چوٹ پر کہہ دیتے ہیں۔ جمہوریت کے سب سے بڑے دعوے دار ملک کے کسی سیاستدان کو کبھی یہ ہمت نہ ہوئی کہ ببانگ دہل ووٹ کے بدلے ’’نوٹ‘‘ کا وعدہ کرے۔

مڈ ٹرم الیکشن کے سلسلے میں ایک انتخابی کنونشن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اگر ووٹرز نے ری پبلکن پارٹی کو آیندہ مڈٹرم انتخابات میں ایوانِ نمائندگان میں اکثریت برقرار رکھنے کا موقع فراہم کیا تو ہر بالغ امریکی شہریوں کو پانچ ہزار ڈالر کا ’’Trump dividend‘‘ دیا جائے گا۔

اس دعوے کی عملی اور قانونی پیچیدگیاں اپنی جگہ لیکن اس اعلان نے ایک بنیادی سوال ضرور پیدا کیا ہے: کیا ریاستی وسائل کو انتخابی حمایت کے انعام کے طور بانٹنا جمہوریت کے بنیادی اصولوں سے متصادم نہیں؟

امریکا میں کانگریس، عدالتیں، میڈیا اور دیگر اداروں کے ذریعے چیک اور بیلنس کا نظام موجود ہے لیکن اب اس نظام کو اپنے اندر سے ہی وجودی خطرہ درپیش ہے۔ دنیا میں جمہوریت کا چیمپئین آج خود اسی دباؤ سے محفوظ نہیں جس کا سامنا آج کئی ممالک کر رہے ہیں۔

جمہوریت پر یہ کڑا وقت فقط کسی ایک ملک تک محدود نہیں۔ مختلف انداز اور شکلوں میں جمہوریت کو جابجا کئی ملکوں میں زوال کا سامنا ہے۔ کیا واشنگٹن، کیا برلن، کیا نئی دہلی… جمہوریت کے سب سے بڑے دعویدار جمہوریت کے نظام کو اپنے مفادات کے حصول اور جمہوری اداروں کو زیر کرنے کے درپے ہیں۔

کہیں انتخابات کے ذریعے آنے والی حکومت طاقت کے دوسرے مراکز کو محدود کرنے کی کوشش میں ہے، کہیں اکثریت کے نام پر اقلیت کے حقوق دباؤ میں ہیں، کہیں سیاسی مخالف کو حریف کے بجائے دشمن سمجھنے پر اصرار ہے۔ یوں ریاستی اداروں کی مسلسل کمزوری عوام کو جمہوریت سے ہی بدظن کرنے لگتی ہے۔

یورپ کی طرف نظر دوڑائیں تو اس رجحان کی شکل مختلف دکھائی دیتی ہے۔ جرمنی میں انتہائی دائیں بازو جماعت AfD کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے روایتی سیاسی جماعتوں کو چونکا دیا ہے۔ AfD کی سیاست امیگریشن، قومی شناخت اور بارڈر کنٹرول جیسی سخت ریاستی پالیسیوں پر مبنی ہے۔

اس انتہاپسندی کے لیے مسلسل مہنگائی، توانائی بحران، امیگریشن، معاشی بے یقینی اور روایتی سیاسی جماعتوں سے مایوسی نے جگہ پیدا کی ہے۔ یورپ کے دیگر کئی ممالک میں بھی یہ سیاسی بیانیے عوامی ووٹ کے ذریعے مقبولیت ہو رہے ہیں۔

یہی وہ نکتہ ہے جسے دنیا بھر کے لبرل سیاستدان اور میڈیا وقتی ابال سمجھ کر نظرانداز کرنے پر مصر ہیں۔ عوامی سطح پر روایتی سیاست سے بیزاری کو سمجھنے اور دادرسی کی سنجیدہ کوششیں یا تو بہت ناکافی ہیں یا پھر لبرل ڈیموکریٹک اداروں نے نظام کو اتنا پیچیدہ اور گنجلک بنا دیا ہے کہ عوامی امنگوں کے جواب میں ان کے پاس روایتی بیانیوں کے سوا کچھ خاص نہیں۔

جب عام آدمی کو محسوس ہو کہ جمہوری حکومتیں اس کی معاشی اور سماجی مشکلات حل نہیں کر رہیں تو وہ پاپولر سیاست کی طرف راغب ہو جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ حالیہ سالوں کے شواہد گواہ ہیں کہ populism حقیقی عوامی محرومیوں اور ناکام گورننس سے پیدا ہوتا ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار ملک ہندوستان میں بظاہر انتخابات اور پارلیمانی نظام بدستور موجود ہیں مگر اقلیتوں، میڈیا، سیاسی مخالفین اور انسانی حقوق کا تماشا دنیا دیکھ رہی ہے۔ جمہوریت کی اصل آزمائش صرف یہ نہیں کہ کون جیتا، یہ بھی ہے کہ جیتنے والا ہارنے والوں کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے۔

بھارت میں بی جے پی حکومت کا مخالفین اور اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں سے سلوک کیا ہے؟ حالیہ ریاستی انتخابات کے دوران اور بعد میں جاری سلوک سے مین اسٹریم اور سوشل میڈیا بھرا پڑا ہے۔

پاکستان میں بھی جمہوریت کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔ اختلافی سیاسی رائے اور اظہار آسان نہیں، میڈیا اور اظہارِ رائے پر دباؤ کے شواہد بھی موجود ہیں، سائبر قوانین کے بے جا استعمال پر اعتراضات سامنے آتے رہتے ہیں۔

شدید سیاسی تقسیم نے معاشرے میں مکالمے کی جگہ کم کر دی ہے۔ دہشت گردی دوبارہ ایک سنگین قومی مسئلہ بن کر سامنے ہے۔ ریاست کو ایک طرف شہریوں کو تحفظ دینا ہے اور دوسری طرف ان کے سیاسی اور شہری حقوق بھی محفوظ رکھنے ہیں۔ پاکستان میں جمہوریت کے بحران کا ایک اہم ترین پہلو انتظامی بھی ہے۔ خراب گورننس، کرپشن اور ناقص کارکردگی جمہوریت کو اندر سے کھوکھلا کررہی ہے۔

عام شہری کے لیے جمہوریت آخر ہے کیا؟ اگر سرکاری اسکول میں تعلیم کا معیار خراب ہو، اسپتال میں مناسب علاج نہ ملے، پولیس تحفظ دینے کے بجائے سفارش اور رشوت مانگے، عدالت میں مقدمہ برسوں چلتا رہے، سرکاری دفتر میں معمولی کام کے لیے تعلق یا رشوت درکار ہو اور نوجوان کو روزگار نہ ملے تو قدرتاً عوام کو جمہوریت کی خوشنما آئینی تعریف سے زیادہ اپنے شب وروز کی مشکلات کی فکر ہوگی۔ اسی لیے یہ سوال عوامی سطح پر بار بار سننے کو ملتا ہے کہ ووٹ دینے سے میری زندگی میں کیا بدلا؟

دنیا بھر کی مثالیں اس نکتے کو اجاگر کرنے کے لیے کافی ہیں کہ کمزور اور نااہل پبلک ادارے محض گورننس کی ناکامی نہیں بلکہ جمہوریت کے بحران کا عکس ہیں۔ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ پائیدار سیاسی نظام مضبوط، جوابدہ اور غیرجانبدار اداروں کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا۔ محض انتخابات اچھے اداروں کا متبادل نہیں ہوتے۔

پاکستان کی معاشی صورت حال بھی اس کی عملی گواہی ہے۔ معاشی استحکام میں معمولی پیشرفت کے باوجود شرح نمو اس قابل نہیں کہ ہر سال روزگار کی مارکیٹ میں آنے والی نئی افرادی قوت کو مناسب مواقع دے سکے۔

قرض، ٹیکس، توانائی اور بیرونی مالی معاونت کے گرد گھومتی معیشت میں نجی سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت، صنعت اور زراعت کے بنیادی مسائل برقرار ہیں۔ بیرونی دنیا میں پاکستان کی سفارتی اسٹریٹجک اہمیت اپنی جگہ قابل فخر ہے مگر اسے پائیدار معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور روزگار میں تبدیل کرنا اصل امتحان ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا لوگ واقعی جمہوریت سے مایوس ہیں یا ان حکومتوں سے جو جمہوریت کے وعدے پورے نہیں کر رہیں؟ اگر شہریوں کو آزادی کے ساتھ روزگار، قانون کے ساتھ انصاف، ووٹ کے ساتھ جوابدہی اور ریاست کے ساتھ بنیادی سہولتیں نہ ملیں تو جمہوری نظام کی اخلاقی ساکھ تو کمزور ہوگی۔

جمہوریت کو سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ اس کے تمام رسمی ادارے موجود رہیں، انتخابات بھی ہوتے رہیں، پارلیمان بھی قائم رہے مگر عوام کا اعتماد آہستہ آہستہ ختم ہو جائے۔ جب شہری یہ سمجھنے لگیں کہ ووٹ، پارلیمان اور آئین اس کی زندگی میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کرتے تو جمہوریت کا سب سے اہم سرمایہ یعنی عوام کا’’اعتماد‘‘ ختم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ شاید دنیا بھر میں آج اصل خطرہ یہی ہے: جمہوریت کا خاتمہ نہیں، جمہوریت پر اعتماد کا خاتمہ ہو رہا ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے