• ستمبر 12, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 12, 2026 8:25 شام
  • پاکستان

ڈاکٹروں کا انوکھا کارنامہ، مریض کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ پر پلاسٹر کے بجائے گتا باندھ دیا

نوجوان لڑکوں کو لوٹنے والی لٹیری دلہن فرضی رشتے داروں سمیت گرفتار، طریقہ واردات بھی سامنے آگیا

انڈہ ابالنے کا حیرت انگیز طریقہ : من پسند زردی کیسے بنے گی؟

روبوٹس کا انسانوں کے حق میں مظاہرہ!

نئی دہلی : مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باوجود برکس کا مشترکہ اعلامیہ منظور کرلیا گیا، رکن ممالک نے فریقین پر صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔

برکس ممالک کے گروپ نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا اور قومی مؤقف کا احترام کرتے ہوئے کثیرالجہتی طریقۂ کار اختیار کرنے کی حمایت کی گئی ہے۔

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور رکن ممالک کے درمیان اختلافات کے باوجود برکس ممالک نے مشترکہ اعلامیے پر اتفاق کرلیا، جسے ابھرتی ہوئی معیشتوں کے اس اتحاد کے لیے اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق برکس سربراہ اجلاس کے آغاز کے موقع پر مذاکرات کاروں نے مشترکہ اعلامیے کے مسودے پر اتفاق کیا، جس میں کسی ایک ملک کا نام لیے بغیر کسی بھی ملک کی جانب سے یکطرفہ جارحیت کی مذمت کیے جانے کا امکان ہے۔

نئی دہلی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، چینی صدر شی جن پنگ، ایرانی صدر مسعود پزشکیان، جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا اور متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان سمیت دیگر رہنما شریک ہیں۔

اجلاس کا ایک اہم چیلنج ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان خلیجی تنازع پر پائے جانے والے اختلافات کو ختم کرکے ایسا متفقہ مؤقف اختیار کرنا تھا جسے دونوں ممالک قبول کرسکیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل مئی میں نئی دہلی میں ہونے والے برکس وزرائے خارجہ اجلاس میں بھی ایران اور متحدہ عرب امارات کے اختلافات کے باعث مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہوسکا تھا۔

ذرائع کے مطابق بھارت نے مختلف مؤقف رکھنے والے ارکان کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے مسلسل سفارتی مشاورت کی، تاہم جاری تنازعات اور خلیجی خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں اتفاق رائے حاصل کرنا ایک پیچیدہ سفارتی مرحلہ تھا۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اتحاد اور اتفاق رائے کو عالمی سطح پر ٹھوس نتائج میں تبدیل کیا جائے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کی اصلاحات کو مزید مؤخر نہیں کیا جاسکتا، مودی کے مطابق اگر مستقبل سب کا مشترکہ ہے تو اس مستقبل کی تشکیل کا حق بھی سب کو ملنا چاہیے۔

چینی صدر شی جن پنگ نے بھی برکس ممالک پر زور دیا کہ وہ تاریخ کے درست رخ پر مضبوطی سے کھڑے ہوں اور عالمی نظام کو زیادہ مساوی اور منصفانہ بنانے کے لیے کردار ادا کریں۔

برکس اجلاس ایسے وقت میں ہورہا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان 6 ماہ سے جاری جنگ میں ایک مرتبہ پھر جوابی حملوں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے، جبکہ یمن میں ایران کے اتحادی حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر کے خطے میں بھی اپنا اثر و رسوخ بڑھا لیا ہے۔

واضح رہے کہ برکس گروپ میں برازیل، روس، بھارت، چین، جنوبی افریقہ، مصر، ایتھوپیا، انڈونیشیا، ایران اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔

یہ گروپ 2009 میں ایسے عالمی نظام کو چیلنج کرنے کے مقصد سے تشکیل دیا گیا تھا جس میں امریکا اور اس کے مغربی اتحادیوں کا نمایاں اثر و رسوخ سمجھا جاتا ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے