• ستمبر 12, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 12, 2026 8:54 شام
  • پاکستان

یہ اقدام سعودی آئل پائپ لائن پر ڈرون حملے کے بعد کیا جو عراق کی حدود سے لانچ کیے گئے تھے۔

سعودی آئل پائپ لائن پر ڈرون حملے کے بعد عراق نے ایران کے ساتھ اپنی تین اہم سرحدی گزرگاہیں عارضی طور پر بند کردی ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق عراقی سکیورٹی ذرائع اور ایک حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ حکام نے ایران سے متصل تین سرحدی کراسنگز بصرہ صوبے کی شلمچہ، میسان صوبے کی الشیب اور وسطی عراق کے دیالہ صوبے کی المندلی سرحدی گزرگاہیں بند کی ہیں۔

تاہم ایران کے ساتھ عراق کی تمام سرحدی گزرگاہیں بند نہیں کی گئیں اور دیگر کراسنگز معمول کے مطابق کھلی رہیں۔

سعودی آئل پائپ لائن پر ڈرون حملہ

یہ پیش رفت سعودی عرب کی ایک آئل پائپ لائن پر ڈرون حملے کے فوراً بعد سامنے آئی۔ ریاض اور بغداد دونوں کے مطابق حملے میں استعمال ہونے والے ڈرون عراق کی سرزمین سے لانچ کیے گئے تھے۔

حملے کی ذمہ داری ابھی تک کسی تنظیم یا گروہ نے قبول نہیں کی۔

واقعے نے عراق کے لیے ایک پیچیدہ سکیورٹی صورتحال پیدا کردی ہے کیونکہ ایک طرف بغداد سعودی عرب سمیت اپنے عرب پڑوسیوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب عراق میں ایران سے قریبی تعلق رکھنے والے کئی مسلح گروہ بھی موجود ہیں۔

میسان کے فوجی کمانڈر کو عہدے سے ہٹادیا گیا

حملے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کی سرحد سے متصل صوبے میسان کے فوجی کمانڈر کو عہدے سے ہٹا دیا۔

اے ایف پی کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب عراقی حکام نے یہ تعین کیا کہ حملے میں استعمال ہونے والے ڈرون میسان صوبے سے لانچ کیے گئے تھے۔

یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بغداد اس معاملے کو محض ایک بیرونی حملہ نہیں بلکہ اپنی سرزمین کے استعمال سے متعلق ایک سنجیدہ سکیورٹی خلاف ورزی کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

ایران نواز عراقی گروہوں کا ردعمل

عراق میں موجود طاقتور مسلح گروہوں کے اتحاد نے سعودی آئل پائپ لائن پر حملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ اس اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے پائپ لائن پر حملہ نہیں کیا۔

تاہم سعودی عرب ماضی میں عراق میں موجود مسلح گروہوں پر سعودی تیل کی تنصیبات اور آئل انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کرتا رہا ہے۔

اب تک کسی گروہ کی جانب سے موجودہ حملے کی ذمہ داری قبول نہ کیے جانے کے باعث حملہ آوروں کی شناخت اور ان کے ممکنہ محرکات کے بارے میں حتمی صورتحال واضح نہیں ہے۔

تین سرحدی گزرگاہیں کیوں اہم ہیں؟

ایران اور عراق کے درمیان متعدد سرحدی راستے دونوں ملکوں کے درمیان تجارت، مسافروں کی آمدورفت اور سامان کی نقل و حرکت کے لیے اہم ہیں۔

شلمچہ بصرہ صوبے میں واقع اہم سرحدی گزرگاہ جو جنوبی عراق اور ایران کے درمیان رابطے کا ایک اہم راستہ ہے۔

الشیب میسان صوبے میں واقع کراسنگ، جو ایران کی سرحد سے متصل علاقے میں ہے. المندلی وسطی عراق کے دیالہ صوبے میں واقع سرحدی گزرگاہ ہے۔

ان تینوں راستوں کی بندش سے مقامی تجارت، سرحدی آمدورفت اور دونوں ممالک کے درمیان نقل و حمل متاثر ہوسکتی ہے اگرچہ عراق نے ایران کے ساتھ اپنی تمام سرحدی گزرگاہیں بند نہیں کیں۔

عراق کے لیے بڑھتا ہوا دباؤ

اس واقعے نے عراقی حکومت کو ایک مشکل توازن کا سامنا کرادیا ہے۔ عراق ایک طرف ایران کے ساتھ طویل سرحد اور گہرے سیاسی و اقتصادی تعلقات رکھتا ہے جبکہ دوسری جانب سعودی عرب اور دیگر خلیجی عرب ممالک کے ساتھ بھی اپنے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔

عراق کی سرزمین سے کسی خلیجی ملک کے خلاف ڈرون حملہ بغداد کے لیے خاص طور پر حساس معاملہ ہے، کیونکہ اس سے یہ تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ عراقی سرزمین علاقائی تنازعات میں کارروائیوں کے لیے استعمال ہورہی ہے۔

اسی لیے سرحدی گزرگاہوں کی بندش اور میسان کے فوجی کمانڈر کو برطرف کرنے کا اقدام بغداد کی جانب سے اپنی سرزمین پر سکیورٹی کنٹرول مضبوط کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔

عراق جغرافیائی طور پر ایران اور عرب خلیجی ممالک کے درمیان واقع ہے، اس لیے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا براہِ راست اثر بغداد پر پڑتا ہے۔

عراق میں مسلح گروہوں کی موجودگی بھی چیلنج ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے استعمال ہونے سے روکے، جبکہ ملک کے اندر موجود بااثر مسلح گروہوں کے ساتھ بھی تعلقات کا انتظام کرے۔

سعودی عرب کے لیے بھی اہم پیش رفت

سعودی عرب کی توانائی تنصیبات ماضی میں بھی ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنتی رہی ہیں۔ سعودی تیل کے بنیادی ڈھانچے پر کوئی بھی نیا حملہ عالمی توانائی منڈیوں کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔

اگرچہ موجودہ حملے کی ذمہ داری کسی گروہ نے قبول نہیں کی لیکن عراق اور سعودی عرب کی جانب سے ڈرونز کے عراق سے لانچ کیے جانے کا دعویٰ اس واقعے کو مزید حساس بنا دیتا ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے