موسمیاتی خطرات کی شدت مستقبل میں بھی برقرار رہنے کا خدشہ ہے
پاکستان میں ہر مون سون کے دوران آنیوالے سیلاب کو عموماً قدرتی سانحے کے طور پر دیکھاجاتاہے، تاہم اس کے اثرات ملک کے معاشی نظام پر ایک مسلسل اور دہرائے جانے والے مالی بوجھ کی شکل اختیارکر چکے ہیں.
2022 کے تباہ کن سیلاب نے اس خطرے کی شدت کو نمایاں کیا،جب نقصانات کا تخمینہ 14۔9 ارب ڈالر جبکہ وسیع تر معاشی نقصانات 15۔2 ارب ڈالر لگایاگیا، جو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 4۔8 فیصد کے برابر تھا.
سیلاب میں سب سے زیادہ نقصان رہائش کے شعبے کو پہنچا جس کا تخمینہ 5۔6 ارب ڈالر تھا،جبکہ زراعت،مویشی اور ماہی گیری کے شعبے کو تقریباً 3۔7 ارب ڈالرکانقصان برداشت کرنا پڑا۔
سیلاب کے نتیجے میں مالی سال کیلیے جی ڈی پی کی شرح نموکے ابتدائی تخمینے میں بھی نمایاں کمی آئی، جبکہ مختلف اندازوں کے مطابق 90 لاکھ سے ایک کروڑ 20 لاکھ افرادغربت کی طرف دھکیل دیے گئے۔
موسمیاتی خطرات کی شدت مستقبل میں بھی برقرار رہنے کاخدشہ ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بدترین موسمیاتی منظرناموں کے تحت پاکستان کو اوسطاً سالانہ جی ڈی پی کے 9 فیصد سے زیادہ کے مساوی معاشی نقصانات کا سامنا ہونے کا امکان ظاہرکیاگیا.
بعد کے مون سون سیزن میں آنیوالے سیلابوں نے بھی زرعی پیداوار،خوراک کی قیمتوں اور سپلائی چینز پردباؤ برقراررکھاہے۔
ماہرین کے مطابق مسئلہ صرف یہ نہیں کہ سیلاب آتے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ان سے وابستہ مالی خطرات کو پہلے سے مؤثر انداز میں قیمت کاحصہ نہیں بنایاجاتا۔
کسی بھی ترقی یافتہ رسک مارکیٹ میں بار بار سامنے آنیوالے بڑے خطرات عموماً انشورنس پریمیم، قرض کی شرائط، زمین کی قیمتوں یا زرعی فنانسنگ میں شامل ہوجاتے ہیں.
تاہم پاکستان میں موسمیاتی خطرات کی مالی قیمت اب بھی محدودسطح پر ظاہر ہوتی ہے،زراعت ملک کی تقریباً ایک چوتھائی جی ڈی پی سے وابستہ یہ شعبہ بڑی تعداد میں افرادی قوت کو روزگار فراہم کرتاہے، تاہم فصلوں کی انشورنس کی رسائی اب بھی محدود ہے.
2022 کے سیلاب میں سندھ کومجموعی نقصانات اور خسارے کا تقریباً 70 فیصد برداشت کرنا پڑا۔ سیلاب زدہ علاقوں میں بہت سے کسان ہر سال بغیر مؤثر مالی تحفظ کے فصلیں کاشت کرتے ہیں اور تباہی کی صورت میں نقصان براہ راست ان کے گھرانوں کوبرداشت کرنا پڑتاہے۔
اسی طرح سیلاب زدہ علاقوں میں موجودمکانات اور چھوٹے کاروبار بھی مالی خطرات سے دوچار ہیں۔ بینکوں کی جانب سے ایسے علاقوں میں قرض کی شرائط میں موسمیاتی خطرے کو زیادہ نمایاں طور پر شامل کرنے کی ضرورت پر بحث جاری ہے، جبکہ عام گھرانوں کیلیے سیلاب سے متعلق انشورنس کی سہولت بھی محدودہے۔
پاکستان کی غیر رسمی معیشت اس خطرے کو مزید سنگین بناتی ہے،ملک کی 70 فیصدسے زیادہ افرادی قوت غیر رسمی شعبے سے وابستہ ہے اور بڑی تعدادمیں کارکن رسمی سماجی تحفظ سے باہر ہیں۔
