عمر بڑھنے کے ساتھ دن چھوٹے ہونے کا احساس کیوں ہوتا ہے؟ تحقیق
شادی کی تقریب میں دولہا کی مشین گن سے فائرنگ
جب 24 سال سے قید بچوں نے پہلی بار سورج کی روشنی دیکھی
آگ اور بجلی کے بغیر کھانا پکانے کا بیگ، حیرت انگیز ایجاد
بنگلورو : بھارت میں خواتین کے ہاتھوں کیے گئے سنگین جرائم کی تاریخ میں کے ڈی کیمپمّا، جسے سائنائیڈ ملکہ کے نام سے جانا جاتا ہے، کا نام نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔
اگرچہ اس بات کا کوئی باضابطہ سرکاری ریکارڈ موجود نہیں کہ وہ بھارت کی پہلی خاتون سیریل کلر تھی، تاہم متعدد میڈیا رپورٹس میں اسے بھارت کی پہلی سزا یافتہ خاتون سیریل کلر قرار دیا جاتا ہے۔
کیمپمّا مبینہ طور پر بنگلورو کے مضافات میں واقع گاؤں کگلی پورہ کی رہائشی تھی۔ اس کی شادی ایک درزی سے ہوئی تھی جبکہ وہ خود کسی اور کاروبار سے وابستہ اور تین بچوں کی ماں تھی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 1998 میں نقصان کے بعد اسے کاروبار ختم کرنا پڑا، اسی سال چوری کے ایک کیس میں اسے ایک سال کی قید کی سزا ہوئی جس کے بعد شوہر نے اسے چھوڑ دیا اور بعد ازاں اسے گھر سے بھی نکال دیا گیا۔
مندر میں خواتین کو نشانہ بنانے کا آغاز
کیمپمّا کے جرائم کا آغاز 1999 میں 30 سالہ ممتا راجن کے قتل سے ہوا، رپورٹس کے مطابق وہ عبادت کے لیے مندر آئی ہوئی تھی اور اسی دوران کیمپمّا نے اسے پہلا نشانہ بنایا۔
تحقیقات اور بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق کیمپمّا کا طریقہ واردات تقریباً ایک جیسا تھا۔ وہ مندروں میں آنے والی ایسی خواتین پر نظر رکھتی تھیں جو کسی پریشانی یا مشکل میں دکھائی دیتیں۔ بعد ازاں وہ ان سے دوستی کرکے ان کے مسائل حل کرنے کے لیے پوجا یا مذہبی رسم ادا کرنے کی پیشکش کرتی۔
رپورٹس کے مطابق رسم کے اختتام پر وہ متاثرہ خواتین کو پانی یا کوئی مشروب دیتی جس میں سائنائیڈ شامل ہوتا تھا، متاثرہ خاتون کے بے ہوش یا ہلاک ہونے کے بعد کیمپمّا مبینہ طور پر اس کے زیورات اور دیگر قیمتی سامان لے کر فرار ہوجاتی۔
پہلی گرفتاری
سال 2000 میں کیمپمّا کو ایک گھر سے قیمتی سامان چرانے کی کوشش کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اسے وہاں ایک مذہبی رسم ادا کرنے کے لیے بلایا گیا تھا، تاہم متاثرہ خاتون نے شور مچا دیا اور اہل خانہ کی مدد سے خود کو بچانے میں کامیاب ہوگئی۔
کیمپمّا کو اس جرم میں پہلی بار گرفتار کیا گیا، تاہم اسے صرف 6 ماہ قید کی سزا بھگتنا پڑی اور وہ آزاد ہوگئی۔
قتل اور لوٹ مار کا سلسلہ
سال 2007میں کیمپمّا پر ایک مرتبہ پھر قتل اور لوٹ مار کا سلسلہ شروع کرنے کا الزام عائد ہوا۔ رپورٹس کے مطابق تین ماہ سے بھی کم عرصے میں 5 خواتین کو قتل کیا گیا۔
ان واقعات میں بھی مبینہ طور پر وہی طریقہ استعمال کیا گیا، پریشان حال خواتین کو مذہبی رسم یا روحانی علاج کے ذریعے مسائل حل کرنے کا جھانسہ دیا جاتا اور بعد ازاں انہیں سائنائیڈ ملا مشروب دیا جاتا۔
متاثرہ خواتین کو مختلف مسائل کے حل کی امید دلائی جاتی تھی، جن میں دمے سے نجات اور اولاد میں بیٹے کی پیدائش جیسے معاملات بھی شامل تھے۔
قتل کے 7 مقدمات
سال 2009 میں پانچ لاپتہ خواتین کے مقدمات کی تحقیقات کے دوران پولیس کو ان واقعات میں کیمپمّا کا تعلق سامنے آنے کا شبہ ہوا، لاپتہ خواتین میں سے ایک کی لاش برآمد ہوئی، جس کا تعلق کیمپمّا سے جوڑا گیا۔ اس طرح اس کے خلاف قتل کے مقدمات کی تعداد 7 تک پہنچ گئی۔
دیگر لاپتہ خواتین کے اہل خانہ اور پولیس نے بھی شبہ ظاہر کیا کہ ان واقعات کے پیچھے کیمپمّا کا ہی ہاتھ ہوسکتا ہے، کیونکہ تمام کیسز میں اس کا تعلق ایک کڑی کے طور پر سامنے آیا تھا۔
زیورات فروخت کرنے کی کوشش
کیمپمّا کو 2008 میں مبینہ طور پر مقتول خواتین سے حاصل کیے گئے زیورات فروخت کرنے کی کوشش کے دوران گرفتار کیا گیا، پولیس کو اس حوالے سے اطلاع ملی تھی کہ وہ ’جایمّا‘ کے نام سے کام کررہی ہے۔
دسمبر 2008 میں گرفتاری کے بعد کیمپمّا نے اپنے جرائم کا اعتراف کیا پولیس کے مطابق اس نے بتایا کہ قتل کے پیچھے بنیادی مقصد لوٹ مار اور قیمتی سامان حاصل کرنا تھا۔
دو مرتبہ سزائے موت
کیمپمّا کو مختلف مقدمات میں متعدد قتل کا مجرم قرار دیا گیا، عدالت نے اسے ابتدائی طور پر دو مقدمات میں سزائے موت سنائی۔ جن میں 60 سالہ منی امّا اور 30 سالہ ناگاوینی کے قتل کے مقدمات شامل تھے۔
بعد ازاں ان میں سے کچھ وجوہات کی بنا پر ایک مقدمے میں سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا گیا۔
سابق وزیرِاعلیٰ کی قریبی ساتھی سے تعلق
بعد ازاں کیمپمّا کا نام 2017 میں ایک مرتبہ پھر بھارتی میڈیا میں نمایاں ہوا، جب وہ کرناٹک کی سنٹرل جیل میں سابق تامل ناڈو وزیرِاعلیٰ جے للتا کی سیاسی ساتھی سسی کلا کے ساتھ ایک ہی جیل میں تھی، جس کے بعد ’سائنائیڈ ملکہ‘ ایک مرتبہ پھر بھارتی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئی۔
