کراچی میں لڑکیاں ای بائیکس بھی تیار کرنے لگیں
ایک رات میں 1500 افراد غائب : آسیب زدہ گاؤں کا 200 سال پرانا خوفناک راز آج بھی زندہ
ٹریفک پولیس اہلکاروں کے یونیفارم سفید ہی کیوں ہوتے ہیں؟
جوڑے کی جنگل میں انسٹاگرام لائیو کے دوران خودکشی، اہل خانہ بھی دیکھتے رہے
نئی دہلی(7 اکتوبر 2026): دہلی ہائی کورٹ نے فلم "کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگیسی” کے پروڈیوسر پروڈیوسر کی درخواست پر اداکار سلمان خان کو نوٹس جاری کردیا۔
دہلی ہائی کورٹ نے فلم "کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگیسی” کے پروڈیوسر کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر سماعت کرتے ہوئے بالی ووڈ اداکار سلمان خان کو نوٹس جاری کر دیا ہے، جس میں ان کے دائر کردہ مقدمے کی سماعت پر روک لگانے کی استدعا کی گئی ہے۔
عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت 26 دسمبر مقرر کرتے ہوئے سلمان خان سے جواب طلب کر لیا ہے۔
سماعت کے دوران فلم کے پروڈیوسر امیت جانی کے وکیل نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سلمان خان اس سے قبل بھی فلم کی ریلیز، ٹیزر اور پروموشن کو رکوانے کے لیے الگ سے مقدمہ دائر کر چکے ہیں۔
فلم ’کالا ہرن‘ تنازع: سلمان خان کے حق میں عدالتی فیصلہ آگیا
پروڈیوسر کا کہنا تھا کہ ایک ہی معاملے یعنی ذاتی حقوق کی خلاف ورزی پر دو الگ الگ مقدمات کی بیک وقت پیروی کرنا غیر منصفانہ ہے، لہٰذا سلمان خان کی جانب سے دائر کردہ نئے مقدمے کی کارروائی روکی جائے۔
واضح رہے کہ سلمان خان نے فلم کی تیاری اور تشہیری مواد پر شدید اعتراضات اٹھائے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ اس فلم میں ان کے 1998 کے کالے ہرن کے غیر قانونی شکار کے تنازع اور ان کی ذاتی زندگی کے دیگر واقعات کو استعمال کیا گیا ہے، جو ان کے ذاتی حقوق کی سراسر خلاف ورزی ہے اور اس سے ان کی عوامی شبیہ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
پچھلی سماعتوں میں پروڈیوسر کے وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ فلم کو تاحال سینسر بورڈ کی جانب سے کلیئرنس نہیں ملی تھی اور وہ اس وقت ریلیز کی پوزیشن میں بھی نہیں ہے، جبکہ فلم کا ٹریلر تک ریلیز نہیں کیا گیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل 27 جولائی کو ہائی کورٹ نے سلمان خان کی درخواست پر ہی فلم کے ٹیزر کی نمائش پر پابندی عائد کرنے کا حکم دیا تھا۔
Lifestyle News – Latest Entertainment News, Celebrity Gossip
