پولیس کی گرفتار افراد کو ٹیلر سوئفٹ کے گانے بار بار سنانے کی دھمکی
دریشم 3 نے بیٹے کو قاتل بنا دیا، 2000 کلومیٹر سفر طے کر کے باپ کو کیسے قتل کیا؟
ویڈیو: نوجوان نے بلندی سے گرنے والے بچے کو عین وقت پر بچا لیا
سی این جی بھروانے کے دوران کار میں زوردار دھماکا، فوٹیج جاری
ژاک دریدا کو دنیا ایک فلسفی کی حیثیت سے پہچانتی ہے جو ردِ ساختیات (ڈی کنسٹرکشن) کا بانی بھی ہے۔ دریدا کو فرانس میں سارتر کے بعد بڑا مقام و مرتبہ حاصل ہوا۔ اس کے فلسفے اور نظریات کا علم و ادب کے ہر شعبہ پر گہرا اثر پڑا مگر وہ اپنے افکار اور خیالات کے اظہار کے سبب متنازع بھی رہا۔ اس پر تنقید کرنے والوں میں فرانس کی علمی شخصیات اور اہلِ قلم شامل تھے۔ دریدا کے خیالات کو اس وقت لایعنی اور اس کے فلسفے کو بے معنی کہہ کر مسترد کیا گیا۔ مگر بعد میں اسے ایک عظیم دانش ور تسلیم کیا گیا۔
ژاک دریدا 8 اکتوبر 2004ء کو چل بسا تھا۔ وہ کینسر کے مرض میں مبتلا تھا۔ اس کے عہد کے بعض ناقدین، خاص طور پر برطانوی یونیورسٹی کیمبرج کے اساتذہ نے اس کے بعض مباحث کو لایعنی کہہ کر مسترد کیا تھا اور ان مباحث میں دریدا کا یہ فلسفہ کہ معنیٰ، متن سے ماورا ایسی تہ داری رکھتے ہیں جو تہذیبی اور تاریخی عمل سے نمو پاتی ہے، بھی شامل تھا۔ مگر اسی فلسفے کے ادب، فن، اخلاقیات اور روایتی مابعدالطبعیات پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔
ژاک دریدا الجزائر کے ایک یہودی خاندان کا فرد تھا جو 1930ء میں پیدا ہوا۔ اس دور میں الجزائر پر فرانس کا غلبہ تھا اور وہاں ایک عرصہ تک آزادی کی تحریک بھی چلتی رہی تھی۔ دریدا کے افکار اور اس کا فلسفہ اکثر تورات کے زیرِ اثر نظر آتا ہے۔ ابتدائی تعلیم تو اس نے الجزائر میں مکمل کی تھی لیکن بعد میں فرانس منتقل ہوگیا اور وہاں تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ ہاورڈ اور سوربون میں فلسفہ پڑھانے لگا اور اسی زمانے میں باقاعدہ لکھنے کا آغاز کیا۔ اس کے افکار کو جرمن فلسفی مارٹن ہائیڈیگر، ایڈمنڈ ہسرل اور فرائڈ کے خیالات کی توسیع سمجھا جاتا ہے۔ رفتہ رفتہ وہ فرانس میں شہرت حاصل کرنے لگا اور اس کے افکار کو قبول کیا جانے لگا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کیمبرج ہی نے 1992ء میں دریدا کو اعزازی ڈگری دی۔ اس نے فرانس میں تارکینِ وطن کے حقوق اور چیکو سلواکیہ میں آزادی کی حمایت میں مہم بھی چلائی جب کہ جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت کا مخالف اور نیلسن منڈیلا کا بڑا حامی رہا۔
فرانس کے اس فلسفی کی زندگی پر 2003ء میں دریدا کے نام سے فلم بنائی گئی تھی جس کا دورانیہ 84 منٹ تھا۔ اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ شخص جس کے فلسفے اور افکار کو فرانس میں در و قبول کی مشکل پیش آرہی تھی، اپنا آپ منوا چکا تھا اور اس کے فلسفے کو علم و ادب کے مختلف شعبہ میں اہمیت حاصل ہوگئی تھی۔ اس نے اپنے ذہن و ذکاوت کو بروئے کار لاتے ہوئے نہ صرف افکارِ تازہ کے وسیلے سے جہانِ تازہ تک رسائی کے امکانات کو یقینی بنایا بلکہ اپنے انقلابی تصورات سے نئی نسل کو بھی متأثر کیا۔ اس کے متنوع افکار کی ہمہ گیری اور ان کے اثرات کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ یورپ میں ژاک دریدا کی حیات و خدمات اور فلسفیانہ تصوّرات پر پانچ سو سے زائد مفصل اور جامع تحقیقی مقالات لکھے گئے۔ ریسرچ اسکالرز نے چودہ ہزار سے زائد مقالات لکھ کر اس کے اسلوب کی تفہیم کی کوشش کی اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔
اس فلسفی اور دانش ور کی تصانیف کے تراجم دنیا کی مختلف زبانوں میں کیے گئے اور آج بھی اس کے نظریات اور خیالات پر تحقیق و تنقید ہوتی ہے۔
