• ستمبر 15, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 15, 2026 3:38 صبح
  • پاکستان

بند دروازوں کے پیچھے قتل المیہ نہیں، اصل المیہ یہ ہے کہ وہ دروازے سچائی کیلیے بند ہوں

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ ازدواجی رازداری کو ایسی ڈھال نہ بننے دیا جائے جس کے پیچھے مجرم جوابدہی سے بچ سکیں،کسی بھی مجرم کو یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ وہ کسی عورت کے کردار کو اس کے قتل کے جواز کے طور پر استعمال کر سکتا ہے اور نہ ہی کسی تفتیشی ادارے کو رشتہ داروں کے ہاتھوں عورت کی موت کو ایسے کیس کے طور پر لینا چاہیے جس کی انتہائی سنجیدگی کے ساتھ تفتیش نہ کی جائے، اگر کسی تفتیشی افسر کی غفلت یا لاپرواہی کی وجہ سے کوئی کوتاہی ہوتی ہے تو اسے لازماً جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہئے۔

یہ ریمارکس جسٹس محمد ہاشم کاکڑ نے شوہر کے ہاتھوں بیوی کے قتل کیس میں 10 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں دئیے عدالت نے بیوی کے کے قتل میں ملوث شوہر کی عمر قید برقرار ر رکھی۔

عدالت کا کہناتھا کہ خواتین کے خلاف تشدد کا موثر طریقے سے مقابلہ کرنے کے لیے صوبائی حکومتوں کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ پولیس افسران کو صنفی تعصبات کو پہچاننے اور ان پر قابو پانے کے لیے مناسب تربیت دی جائے۔

اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ دستیاب ہر شواہد کی صحیح طریقے سے شناخت کی جائے، اسے محفوظ کیا جائے اور ریکارڈ پر لایا جائے۔ڈویژن بنچ نے خواتین کے خلاف تشدد کے مقدمات میں تؑصب اور صنفی امتیاز کے رویہ پر مبنی خطرناک رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گھریلو قتل میں المیہ صرف یہ نہیں ہے کہ ایک عورت کو بند دروازوں کے پیچھے قتل کیا جا سکتا ہے، بلکہ اصل المیہ یہ ہے کہ وہ دروازے سچائی کے لیے بھی بند ہو سکتے ہیں، اور اس لیے قانونی نظام کا کام ان دروازوں کے پیچھے چھپی سچائی کو باہر لانا ہے۔

کسی عورت کی جان لینے کے بعد مجرم اکثر وہیں نہیں رکتا بلکہ اس کا کردار کشی کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے تاکہ جرم کو جواز فراہم کیا جا سکے یا ایسا ظاہر کیا جائے جیسے اس کی جان لینا کوئی جرم ہی نہیں۔

سالوں کے ظلم کے بعد کوئی عورت اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے، اور اس کے بعد مجرم اسے بدچلن یا برے کردار کی حامل کے طور پر پیش کرتا ہے۔

اس طرح، ایک عورت کو نہ تو اپنی زندگی میں سکون سے رہنے دیا جاتا ہے اور نہ ہی مرنے کے بعد وقار دیا جاتا ہے۔

یہ رجحان ایک گہرے جڑ پکڑے ہوئے مردانہ بالادستی کے مائنڈ سیٹ کی عکاسی کرتا ہے جہاں عورت کی زندگی، اس کے فیصلوں اور وقار کو کم اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے، اور مجرم اپنے مجرمانہ فعل کا سامنا کرنے کے بجائے سارا الزام عورت پر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔

اس سے بھی زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ ایسا تعصب خود نظامِ انصاف میں بھی سرایت کر سکتا ہے، جہاں کسی عورت کی موت کے حالات کی ویسی سنجیدگی اور احتیاط کے ساتھ تفتیش نہیں کی جاتی جس کی وہ حقدار ہوتی ہے، یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس کی زندگی کم اہمیت کی حامل تھی، عدالت نے پاکستان بھر میں خواتین کے خلاف صنفی بنیادوں پر تشدد کے مقدمات کی تفصیلات کا بھی حوالہ دیا۔

عدالت نے کہا کہ خواتین کے خلاف تشدد کے ایک بڑی تعداد میں مقدمات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔کسی بھی عورت، کمزور متاثرہ، یا سوگوار خاندان کو کبھی بھی یہ سوچنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے کہ گھریلو قتل میں خون سے رنگے ہاتھ لاتعلقی، تعصب، یا تفتیشی ناکامی کے دستانے کے پیچھے چھپے رہیں گے، جس سے انصاف کا تقاضا پورا نہیں ہو پائے گا۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے