• ستمبر 22, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 22, 2026 12:35 شام
  • پاکستان

مرغیوں کی پُراسرار گمشدگی کا معمہ حل ہوگیا

عمر بڑھنے کے ساتھ دن چھوٹے ہونے کا احساس کیوں ہوتا ہے؟ تحقیق

شادی کی تقریب میں دولہا کی مشین گن سے فائرنگ

جب 24 سال سے قید بچوں نے پہلی بار سورج کی روشنی دیکھی

ریاض (22 ستمبر 2026): حوثیوں کے تیل کی پائپ لائن پر حملے کے بعد سعودی عرب نے تیل کی برآمدات بڑھانے کے لیے بڑا قدم اٹھا لیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق حوثیوں کے تیل کی پائپ لائن پر حملے کے بعد پیدا صورتحال میں اعداد وشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب نے خلیج سے تیل کی برآمدات بڑھا دی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سعودی آرامکو نے گزشتہ اتوار کو مشرق وسطیٰ کی خلیج میں سات سپر ٹینکرز (انتہائی بڑے خام تیل بردار جہازوں) پر تقریباً 14 ملین بیرل تیل لوڈ کیا۔

مملکت نے خلیجی برآمدی ٹرمینلز سے لوڈنگ میں یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا جب ایک حملے کے باعث بحیرہ احمر کی طرف جانے والی مشرق، مغرب پائپ لائن کے ذریعے ترسیل متاثر ہوئی تھی۔

جب کہ ایک اور جریدے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 12 ستمبر سے سعودی خلیج سے خام تیل کی لوڈنگ اوسطاً 3.7 ملین بیرل یومیہ (bpd) تک بڑھ گئی ہے۔

جے پی مورگن نے ایک حالیہ نوٹ میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے سعودی تیل کے بہاؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

تیل کی مقدار میں اضافے کی توقعات نے پیر کے روز تیل کی قیمتوں پر دباؤ ڈالا اور برینٹ (Brent) بینچ مارک کو 9 ستمبر کے بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے لانے میں مدد کی۔

تاہم آرامکو کے ترجمان نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

واضح رہے کہ ڈرون حملوں کے باعث سعودی عرب کو 13 ستمبر کو اپنی مشرق – مغرب پائپ لائن بند کرنا پڑی تھی، جس سے بحیرہ احمر پر واقع مملکت کی ینبع (Yanbu) آئل پورٹ پر خام تیل کی لوڈنگ رک گئی۔

اس کے نتیجے میں، آرامکو نے یورپی صارفین کو خام تیل کی فروخت کے کچھ سودے منسوخ کر دیے، جبکہ آبنائے ہرمز کے اندر واقع اپنی مشرقی بندرگاہوں سے لوڈ کیے جانے والے تیل کی ایشیا کو فروخت میں اضافہ کیا تھا۔

حوثیوں کا اہم شہر پر قبضہ، سعودی تیل کی برآمدات کو خطرہ

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے