بیوی نے باہر گھمانے نہ لے جانے پر شوہر سے طلاق مانگ لی
ایک ماہ کے شیر خوار کو کئی بار بیچ دیا گیا، والدین سمیت 7 افراد گرفتار
باپ کی لاش چار سال تک فریج میں کیوں رکھی؟ خاندان نے حیران کن وجہ بتادی
خلائی مخلوق یا دیوہیکل جہاز؟ اسٹار شپ کی لائیو اسٹریم میں پُراسرار’یو ایف او‘ کی جھلک وائرل
ایک جانب اگر بھارت کے فالس فلیگ آپریشن خطّے میں کشیدگی بڑھانے کا سبب بن رہے ہیں تو دوسری طرف اسرائیل بھی تل ابیب جانے والی پرواز میں لڑائی جھگڑے کے بعد ہائی جیکنگ کا ڈرامہ رچا رہا ہے۔ دونوں ملکوں کی قیادت کو دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ ہالی ووڈ اور بولی ووڈ کی فلموں سے متاثر ہیں مگر یہ حرکتیں ان کی جگ ہنسائی کا باعث بن رہی ہیں۔
بھارت کی جانب سے جھوٹ اور غلط بیانی کے ساتھ ساتھ کشمیر میں فالس فلیگ آپریشن کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک ایس ایس جی سی کے ریٹائرڈ پاکستانی فوجی کی شہادت کی خبر چلانے والے بھارت کو ایک بار پھر منہ چھپانا پڑ رہا ہے، جب کہ اس سے قبل اسرائیل نے دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز کی ہائی جیکنگ کا ڈرامہ رچایا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے یہ ڈرامہ اس وقت رچایا گیا جب امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات تقریباً بحال ہوچکے ہیں۔ دوسری طرف اسرائیل میں انتخابات کا عمل بھی شروع ہوچکا ہے۔ ادھر بھارت نے اپنے فالس فلیگ آپریشن کے ساتھ پاکستانی سرحدوں کے قریب اپنی فضائی مشقوں کا نوٹم (نوٹس ٹو ایئرمین) جاری کیا ہوا ہے۔
اس پوری صورتحال کا گہری نظر سے جائزہ لیا جائے تو اسرائیل اور بھارت کا ہدف ایک ملک نظر آرہا ہے اور وہ ہے سعودی عرب۔ اسی تناظر میں یہ تحریر پیشِ خدمت ہے۔
پہلے بات کرتے ہیں فلائی دبئی کے طیارے میں کیا ہوا۔ اس طیارے میں ہونے والے واقعات میں چونکہ چار ملکوں کے مقامی وقت کی وجہ سے کچھ کنفیوژن ہوسکتی ہے، اس لئے عالمی سطح پر استعمال ہونے والے جی ایم ٹی وقت سے اس ٹائم لائن کا جائزہ پیش کیا جارہا ہے۔ ابو ظہبی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 نے 3 بج کر 5 منٹ پر اڑان بھری اور تقریبا دو گھٹنے کے بعد 5 بج کر 31 منٹ پر طیارے میں اس وقت شدید افراتفری پھیل گئی جب اس کی پرواز کی بلندی کم ہونے لگی۔ فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق اردن کی فضائی حدود میں داخل ہوئی تو اس کی بلندی انتہائی تیزی کم ہونے لگی اور نوے سکینڈز میں طیارہ 34,000 فٹ کی بلندی پر گر کر 16,500 سے 17,000 فٹ پر آ گیا۔ پائلٹ نے 5 بج کر 38 منٹ پر ہائی جیکنگ کا کوڈ 7700 جاری کیا اور طیارے کا رخ بدل کر اس کو سعودی عرب کے شہر تبوک میں 6 بج کر 58 منٹ جی ایم ٹی اور سعودی وقت کے مطابق صبح 9 بج کر 45 منٹ پر اتارا گیا۔ یعنی طیارہ ہنگامی صورتحال کے بعد بھی ایک گھٹنے سے زائد دورانیہ تک پرواز کرتا رہا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جس وقت طیارے میں ہنگامی صورتحال پیدا ہوئی اس وقت وہ اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب سے بھی تقریبا ایک گھنٹے کی مسافت پر تھا۔
مسافروں کے بیان کے مطابق جب طیارے نے اچانک تیزی سے نیچے جانا شروع کیا تو ایک اسرائیلی شہری یانیو حیون جو کہ پیشے کے اعتبار سے پلمبر ہے، نے طیارے کا دروازہ کھولا اور اس نے حملہ آور پائلٹ پر قابو پایا، زخمی پائلٹ کو ہٹایا اور طیارے کا کنٹرول سنبھالتے ہوئے اسے دوبارہ سیدھا کر لیا۔ اور آٹو پائلٹ پر ڈال دیا جس کے بعد پرواز میں موجود مبینہ طور پر یوکرینی اور روسی پائلٹس نے مل کر اس طیارے کو تبوک کے ایئرپورٹ پر لینڈ کرایا۔ معاون پائلٹ جس کو حملہ آور قرار دیا جارہا ہے۔ اس کی شہریت کے حوالے سے متضاد اطلاعات ہیں۔ مگر کہا جارہا ہے کہ وہ عمان کا شہری تھا۔ اسرائیل اور عمان کے براہ راست سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور اسرائیل کے پروٹوکولز کے مطابق کوئی بھی ایسا پائلٹ اسرائیل کے لئے کمرشل پرواز نہیں کر سکتا جس سے اس کے براہ راست سفارتی تعلقات نہ ہوں۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اس واقعے کے فوری بعد یہ دعویٰ کیا کہ حملہ آور پائلٹ ایک انتہا پسند شخص تھا۔ اور اس نے باقاعدہ تربیت حاصل کی تھی اور طیارے کو تباہ کرنا چاہتا تھا۔ اس واقعے کے فوری بعد صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے بات چیت کے بعد ذرائع ابلاغ کو جس انداز میں تفصیلات بتائیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ کے بھی اس واقعہ پر شکوک و شبہات ہیں۔
اب یہ جان لیتے ہیں کہ فلائی دبئی کے واقعے میں کیا باتیں اسے مشکوک بناتی ہیں۔ ان تمام واقعات کو ایک ایک کر کے بیان کرتے ہیں۔
بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ فلائی دبئی کے واقعے میں جو پائلٹ زخمی ہوا ہے، اس کا نام سمِت مچھر ہے اور تعلق بھارت سے ہے۔ اس واقعے پر بھارتی میڈیا ایک طرف تو پائلٹ کی تعریف کر رہا ہے اور ساتھ ساتھ وہ اپنے اسلامو فوبک ایجنڈے کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اس پائلٹ کی تعریف کی اور واقعے کی مذمت میں بیان دیا۔
ابوظبی ایئر پورٹ کی ناقص سکیورٹی فلائی دبئی ایک سستی سفری سہولت فراہم کرنے والی ایئرلائن ہے۔ جس میں اگرآپ کو کھانا یا پانی درکا ہو تو اس کی ادائیگی الگ سے کرنا ہوتی ہے۔ فلائٹ میں کسی قسم کے دھاتی چمچے، چھری یا کانٹے دستیاب نہیں ہوتے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ کوئی بھی دھاتی تیز دھار آلے کو پائلٹ ایئرپورٹ کی سکیورٹی چیک سے گزار کر لایا ہوگا۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایئرپورٹ کی سیکورٹی میں شدید نقص موجود ہے۔
پائلٹ کی انتہا پسندی کی تربیت اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ حملہ آور معاون پائلٹ عمانی شہری ہے اور وہ طیارے کو گرانے کی کوشش کررہا تھا کیونکہ وہ انتہا پسندانہ سوچ رکھتا ہے اس اس کی تربیت حاصل کر چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ نیتن یاہو کو یہ بات اتنی جلدی معلوم کیسے ہوگئی۔ اور اس سے اہم بات کہ ایک تربیت یافتہ دہشت گرد کس طرح فلائی دبئی میں پائلٹ کی نوکری کررہا تھا۔
طیارے کا تربیت یافتہ عملہ کچھ نہ کرسکا، پلمبر نے سب کو بچایا ابتدائی اطلاعات میں سامنے آیا کہ اسرائیلی شہری نے سب سے پہلے مداخلت کی۔ یعنی نوے سیکنڈ میں اس شخص نے تیزی سے نیچے گرتے ہوئے طیارے میں اپنی نشت سے اٹھ کر، کاک پٹ کا دروازہ کھولا، حملہ آور پائلٹ کو قابو کیا، زخمی پائلٹ کو راستے سے ہٹایا اور طیارے میں پائلٹ کی نشست سنبھالتے ہوئے اس کو سیدھا کردیا۔ یہ فلموں میں تو ممکن ہے، مگر حقیقی زندگی میں نہیں۔ اس حوالے سے پائلٹوں کا کہنا ہے کہ اگر کوئی تربیت یافتہ پائلٹ جس نے متعلقہ طیارے کی پرواز کی تربیت بھی حاصل کی ہو اور اس کی کمانڈو تربیت بھی ہو تو وہ بھی اتنے کم وقت میں ایسی پیچیدہ صورتحال پر قابو نہیں پا سکتا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک پلمبر نے جو پہلی مرتبہ طیارے کے کاک پٹ میں داخل ہوا، گرتے ہوئے طیارے کو سنبھال لیا۔
اب سوال فلائی دبئی کے عملے کی تربیت پر بھی اٹھتا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال میں کوئی کارروائی کیوں نہ کرسکا جس کی انہیں تربیت دی جاتی ہے۔ پرواز میں تعینات ایئر گارڈز کیوں بروقت متحرک نہ ہوئے اور کیبن کریو نے اپنی ذمہ داری کیوں نہ نبھائی۔
کیبن میں صورت حال معمول کے مطابق کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ہیں جن میں دیکھا جاسکتا ہے کہ صورت حال قابو میں آنے کے بعد مسافر خوشی سے تالیاں بجا رہے ہیں۔ مگر ڈرامہ ڈرامہ ہوتا ہے اور اس میں بہت سی خامیاں رہ جاتی ہیں۔ جو ویڈیوز سامنے آئی ہیں۔ ان کے تجزیے سے بہت سی ایسی باتوں کی نشاندہی ہوتی ہے جس سے پوری سازش بے نقاب ہوتی ہے۔
سب سے پہلے واقعے کے بعد کیبن میں صورتحال معمول کے مطابق ہوتی ہے۔ اگر کوئی طیارہ تیزی سے نیچے کی جانب آئے جیسا کہ کبھی کبھار ایئر پاکٹ میں آنے کی وجہ سے ہوتا ہے تو سب سے پہلے آکسیجن ماسک خود بہ خود سامنے آجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اوپری سطح پر رکھا ہوا سامان مسافروں اور کیبن کے فرش پر گر جاتا ہے۔ اور اوپری کمپارٹمنٹ کھل جاتے ہیں۔ ان ویڈیوز میں ایسا کچھ نہیں جب کہ طیارے میں مسافروں کے سامنے لگی ڈیجیٹل اسکرینز بھی بند ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ یہ ویڈیو فرضی ہے اور ایسے وقت میں بنائی گئی ہے جب طیارے کے انجن اسٹارٹ نہیں تھے۔
کاک پٹ کے دروازے کا کھل جانا امریکا میں ستمبر گیارہ کے حملوں کے بعد شہری ہوا بازی میں یہ اصول وضع کیا گیا ہے کہ دوران پرواز طیارے کا کاک پٹ بند رہے گا اور اس کو کھولنے کا اختیار کاک پٹ میں بیٹھے پائلٹ کے پاس ہوگا۔ مگر ایک پلمبر نے طیارے کا دروازہ کھول لیا۔ بعد ازاں اس ڈرامے میں تبدیلی کی گئی اور کہا گیا کہ زخمی پائلٹ نے کاک پٹ کا دروازہ کھولا تو ایک زخمی پائلٹ نیچے گرتے ہوئے طیارے کی نشت سے کیسے اٹھا اور اس نے طیارے کے مقفل دروازے کو ایسی صورت حال میں کھولا جب کہ اس پر ایک طرف سے چاقو سے حملہ ہورہا ہے اور دوسری جانب طیارہ کا رخ زمین کی طرف ہوچکا ہے اور وہ تیزی سے نیچے جارہا ہے۔
اب بات کرتے ہیں بھارت کے فالس فلیگ آپریشن کی جس کا بھانڈا پھوٹ گیا ہے۔ بھارت کی چنار کور نے ایک بیان جاری کیا جس میں دعوی کیا کہ انہوں نے پاکستان آرمی کے اسپیشل سروسز گروپ کے سابق حولدار کو آپریشن میں مار دیا ہے بھارتی مسلح افواج کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں جوائنٹ سرچ آپریشن کے دوران لشکرِ طیبہ کا کمانڈر یا پاکستانی فوج (ایس ایس جی) کا حوالدار محمد آصف الیاس مارا گیا ہے اور اس کی لاش بھی مل گئی ہے۔ بھارت نے حولدار محمد آصف کے شناختی کارڈ کا عکس بھی جاری کردیا۔ لیکن پھر جلد ہی بھارتی ڈرامہ سب کے سامنے کھل گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے حوالدار محمد آصف کو میڈیا کے سامنے پیش کردیا اور بتایا کہ بھارت نے جس کی ہلاکت کا دعوی کیا ہے وہ پاکستانی شہری راولپنڈی میں زندہ موجود ہے۔ بھارت نے یہ فالس فلیگ آپریشن ایسے وقت میں کیا جب بھارتی فضائیہ نے پاکستانی سرحد سے ملحقہ علاقوں میں 26 ستمبر سے 12 اکتوبر کے دوران فضائی مشق ترنگ شکتی کا اعلان کیا ہے اور یہ فضائی مشقیں شروع بھی ہوچکی ہیں جس میں بھارتی فضائیہ کے رافیل سمیت تمام اثاثے استعمال کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
اب وہ بات کہ ان سب معاملات میں سعودی عرب کے گرد کیسے جال بننے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سب سے پہلے طیارہ ہائی جیکنگ کیس کا جائزہ لیتے ہیں۔ جس وقت طیارے میں گراوٹ شروع ہوئی وہ سعودی عرب کی فضائی حدود سے نکل کر اردن کی فضائی حدود میں داخل ہوچکا تھا۔ اور ایک گھنٹے بعد تل ابیب پر لینڈنگ کرنا تھی۔ مگر نئے پائلٹس نے اس طیارے کو منزل کی جانب لے جانے کے بجائے ایسے ملک کی طرف موڑا جس سے اسرائیل کے سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور تل ابیب سے زائد دوری والے ایئرپورٹ پر لینڈ کروایا۔ یہاں اسرائیل نے سعودی عرب سے اعلی سطح پر رابطہ کرکے پہلے اپنے فوجی طیارے بھیجنے کی بات کی مگر یہ درخواست مسترد کر دی گئی جس کے بعد اسرائیل نے اپنے کمرشل طیارے بھیجنے کی درخواست کی، سعودی عرب نے اس کو بھی مسترد کردیا جس کے بعد فلائی دبئی نے اپنا متبادل طیارہ بھیج کر مسافروں کو اسرائیل پہنچایا۔
اسرائیل نے اس واقعے کی آڑ میں سعودی عرب کو سفارتی سطح پر ٹریپ کرنے کی کوشش کی ہے۔ سب سے پہلے تو اس نے اس واقعے کے بعد اپنا فوجی اور پھر کمرشل طیارہ بھیجنے کی درخواست کی جس کو سعودی قیادت نے ناکام بنایا۔ دوسری طرف اسرائیل کا خیال تھا کہ اس طیارے کو سعودی عرب میں اتار کر ہائی جیکنگ کا مقدمہ سعودی عرب میں چلایا جائے گا۔ مگر یہ حربہ بھی سعودی حکومت نے ناکام بنا دیا اور متاثرہ طیارے کے حملہ آور اور زخمی دونوں پائلٹس کو نہ تو اپنے پاس قید رکھا اور نہ ہی اسرائیل کے حوالے کیا بلکہ دونوں کو متحدہ عرب امارات کے حوالے کردیا جس سے مستقبل میں اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب کی سفارت کاری کے امکانات بھی معدوم ہوگئے ہیں۔
اب یہ جان لیں کہ پاکستان کے خلاف بھارت کے فالس فلیگ آپریشن کا سعودی عرب سے تعلق کیا ہے۔ دراصل سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ ہوچکا ہے اور اس معاہدے کی روشنی میں ایک ملک پر حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا۔ مگر اس معاہدے پر عمل درآمد کرنے اور تینوں افواج کو مشترکہ آپریشن کی تیاری کے لئے بہت سا کام کرنا باقی ہے، ابھی اس معاہدے کے تحت مشترکہ سیکریٹریٹ قائم کرنے کا عمل جاری ہے، اس کے بعد تینوں ملکوں کی مسلح افواج مل کر مشترکہ دفاعی حکمت عملی وضع کریں گی۔ بھارت اس سے قبل ہی پاکستان پر حملہ کر کے گزشتہ سال مئی میں ہونے والی اپنی بے عزتی کا بدلہ لینا اور سعودی عرب کو یہ جتانا چاہتا ہے کہ وہ پاکستان پر ضرورت سے زیادہ بھروسہ کر رہا ہے۔
