بیوی نے باہر گھمانے نہ لے جانے پر شوہر سے طلاق مانگ لی
ایک ماہ کے شیر خوار کو کئی بار بیچ دیا گیا، والدین سمیت 7 افراد گرفتار
باپ کی لاش چار سال تک فریج میں کیوں رکھی؟ خاندان نے حیران کن وجہ بتادی
خلائی مخلوق یا دیوہیکل جہاز؟ اسٹار شپ کی لائیو اسٹریم میں پُراسرار’یو ایف او‘ کی جھلک وائرل
بالی ووڈ اداکارہ جس نے شوہر کے افیئر کے باوجود اس کی تیمار داری کی جبکہ سسرال والوں نے ان کی پائی پائی ہتھیالی۔
معروف اداکارہ زینت امان ایک ایسی شخصیت ہیں جو خاص طور پر نوجوانوں میں مقبول ہیں، نوجوان اکثر محبت، تعلقات اور شادی کے بارے میں ان کے سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے خیالات سے متاثر ہوتے ہیں۔
عروج کے دور میں زینت امان نے روایت شکنی کی اور اپنے جرأت مندانہ کرداروں اور منفرد انداز کے ذریعے بالی وڈ ہیروئن کے روایتی تصور کو چیلنج کیا۔
بے پناہ کامیابی کے باوجود، زینت کی ذاتی زندگی مشکلات سے بھری رہی جس میں آنجہانی اداکار مظہر خان کے ساتھ ان کی شادی بھی شامل تھی۔
1999 میں سیمی گریوال کے ساتھ ایک گفتگو کے دوران اداکارہ نے مظہر خان کے ساتھ اپنی مشکل ازدواجی زندگی پر کھل کر بات کی اور بتایا کہ کس طرح وہ شوہر کی بے وفائی کا علم ہونے کے باوجود 12 سال تک اس رشتے میں جڑی رہیں۔
انہوں نے کہا کہ شادی کے پہلے ہی سال مجھے احساس ہو گیا تھا کہ میں نے غلطی کر دی ہے لیکن چونکہ میں یہ فیصلہ کر چکی تھی اور سب کی مرضی کے خلاف شادی کی تھی اس لیے میں نے اس رشتے کو نبھانے اور کامیاب بنانے کا عزم کیا، میں یہ نہیں کہہ رہی کہ یہ ان (مظہر) کے لیے بھی بہترین فیصلہ تھا، پہلا سال ہی بہت مشکل تھا کیونکہ میں اپنے پہلے بچے کی امید سے تھی اور مظہر میرے پاس نہیں تھے۔ اس وقت اسٹار ڈسٹ میگزین میں اس خاتون کے بارے میں ایک تفصیلی مضمون شائع ہوا تھا جن کے ساتھ مظہر کے تعلقات تھے۔
اداکارہ نے 1985 میں مظہر سے شادی کی تھی اور اس جوڑے کے ہاں دو بیٹوں، اذان اور زہان کی پیدائش ہوئی، انہوں نے بعد میں انکشاف کیا کہ وہ اپنے پہلے بیٹے کی پیدائش کے فوراً بعد ہی شادی ختم کرنا چاہتی تھیں لیکن بچوں کی خاطر اس رشتے میں رہنے کا فیصلہ کیا۔
بعد ازاں ان کے ہاں دوسرے بیٹے کی پیدائش ہوئی اور انہوں نے تہیہ کر رکھا تھا کہ جب چھوٹا بیٹا پانچ سال کا ہو جائے گا تو وہ شادی ختم کر کے اپنے کیریئر کی طرف واپس لوٹ جائیں گی تاہم اسی دوران مظہر شدید بیمار پڑ گئے۔
زینت نے ان کی دیکھ بھال کے لیے شادی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا اور انہوں نے پانچ سال تک ان کی صحت، زندگی بچانے کی جدوجہد میں گزارے اور بعد میں ان سالوں کو اپنی زندگی کے "انتہائی مشکل سال” قرار دیا۔
زینت نے بتایا کہ وہ محض اس رشتے میں موجود نہیں رہیں بلکہ انہوں نے اپنا سب کچھ اس رشتے کے لیے وقف کر دیا اور اپنے شوہر کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔
انہوں نے بتایا کہ اس عرصے کے دوران وہ ممبئی کے تقریباً ہر ہسپتال کے چکر لگاتی رہیں، انہوں نے انجیکشن لگانا اور پٹی (ڈریسنگ) کرنا سیکھا اور یہاں تک کہ اپنے علاج کے لیے ڈاکٹروں کی تلاش میں بیرون ملک بھی گئیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ مظہر 18 ماہ تک اپنے جسم کے ساتھ ایک طبی بیگ (میڈیکل بیگ) لگا کر رہے اور انہوں نے اسے تبدیل کرنے کا طریقہ بھی سیکھا تاہم جب تک ان کے شوہر کا طبی مسئلہ حل ہوا، تب تک برسوں کی تیمارداری نے ان کی اپنی صحت پر گہرا اثر ڈالا تھا اور وہ ذہنی اور اعصابی طور پر ٹوٹنے کے قریب پہنچ چکی تھیں۔
زینت کی کوششوں سے بالآخر مظہر صحت یاب تو ہو گئے لیکن اس کے بعد ایک اور مشکل مرحلہ درپیش آیا، انہیں ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات اور درد کش ادویات (پین کلرز) کی لت پڑ گئی جس نے ان کی صحت اور بالآخر ان کے گردوں کو شدید متاثر کیا۔
اپنے شوہر کو اپنی مدد آپ کے تحت بہتری کی کوشش ترک کرتے اور مسلسل اپنی صحت کو نقصان پہنچاتے دیکھ کر زینت کو بالآخر یہ رشتہ ختم کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
انہوں نے بتایا کہ مظہر ان کے اور بچوں کے منع کرنے کے باوجود روزانہ سات درد کش گولیاں کھاتے تھے، آخرکار ان کے گردے ناکارہ ہو گئے، لیکن یہ واقعہ زینت کے رشتہ ختم کرنے کے بعد پیش آیا جبکہ مظہر کا انتقال 1998 میں گردے فیل ہونے کی وجہ سے ہوا۔
زینت نے انکشاف کیا کہ مظہر کی موت کے بعد خاندان نے انہیں آخری دیدار کی اجازت نہیں دی اور یہ کہ ‘ان کی والدہ اور بہن نے ان کے پاس موجود ایک ایک پیسہ ہتھیا لیا۔
