• ستمبر 30, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 30, 2026 6:48 شام
  • پاکستان

درخت کی ٹہنی گرنے سے زخمی شہری کو 8 کروڑ معاوضہ دینے کا حکم

بھارت میں کیا اب گدھے نرس کی ذمہ داریاں نبھائیں‌ گے؟ نرسنگ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری

کیا دن رات کا دورانیہ ہمیشہ 24 گھنٹے ہی رہتا ہے؟ تحقیق میں نیا انکشاف

نیپال میں پہاڑ چند سیکنڈز میں ٹوٹ کر دریا میں گر گیا، ویڈیو وائرل

ایران کا کہنا ہے کہ اسے تازہ ترین تجویز پر امریکہ کا جواب موصول ہو گیا ہے جبکہ واشنگٹن عراق سے انخلا کر رہا ہے۔

ایران نے بدھ کے روز کہا کہ اسے خلیج میں ٹوٹ جانے والی جنگ بندی کو بحال کرنے کی اپنی تازہ ترین تجویز پر امریکا کا جواب موصول ہو گیا ہے۔

یہ پیش رفت صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس تجویز کو مسترد کرنے کے اعلان کے چند دن بعد سامنے آئی ہے۔

ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کو اب آٹھواں مہینہ شروع ہو چکا ہے اس دوران گزشتہ ہفتے ایران نے ایک تجویز پیش کی تھی جس کے تحت امریکا ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ ختم کرے اور ایران سات دنوں کے اندر آبنائے ہرمز میں معطل شدہ آمدورفت بحال کر دے۔

ٹرمپ نے اتوار کے روز کہا کہ انہوں نے یہ تجویز مسترد کر دی ہے، اگرچہ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ تہران کو اس حوالے سے کوئی باضابطہ تردیدی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔ بدھ کے روز ‘ایکس’ (X) پر ایک پوسٹ میں ایرانی حکومت کے ترجمان نے بتایا کہ عراقچی نے امریکی ردعمل سے ایرانی حکومت کو آگاہ کر دیا ہے۔

ایران کے اتحادی بدھ کے روز اس وقت جشن منا رہے ہیں جب واشنگٹن نے پڑوسی ملک عراق سے اپنی آخری فوجی دستے بھی واپس بلا لیے۔

عراق اس صدی کی سب سے بڑی امریکی جنگ کا مرکز رہا ہے جس میں 4,500 امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ سن 2003 میں امریکی افواج کے ہاتھوں صدام حسین کے تختہ الٹے جانے کے بعد پیدا ہونے والی افراتفری کے دوران 2 لاکھ سے زائد عراقی شہری بھی جاں بحق ہوئے۔

تہران اس انخلاء کو اپنے اتحادی مسلح گروہوں پر مشتمل "محورِ مزاحمت” کی فتح اور امریکی افواج کو خطے سے نکالنے کے اپنے مقصد کی جانب ایک پیش رفت کے طور پر دیکھتا ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے