• اکتوبر 4, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 4, 2026 2:58 صبح
  • پاکستان

یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کی نمائندگی محض ایک رسمی سرگرمی نہیں

دنیا کے سب سے بڑے سفارتی ایوان میں کسی ملک کے سربراہ کی آواز دراصل اس ملک کے قومی مفادات، عوامی مسائل، خارجی ترجیحات اور مستقبل کی امیدوں کی ترجمان ہوتی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے وزیراعظم محمد شہباز شریف کا خطاب بھی اسی تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔

انھوں نے عالمی برادری کے سامنے پاکستان کا موقف مختلف علاقائی اور عالمی معاملات کے حوالے سے واضح کیا اور اس امر پر زور دیا کہ موجودہ پیچیدہ عالمی حالات میں جنگ، تصادم اور طاقت کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری، تعاون اور باہمی احترام کو ترجیح دی جانی چاہیے۔وزیراعظم نے اپنے خطاب کا آغاز قرآن کریم کی آیات سے کیا اور اقوام متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں، بالخصوص امن، انصاف، ریاستوں کی خودمختاری اور انسانی حقوق سے پاکستان کی وابستگی کا اظہار کیا۔

قائداعظم محمد علی جناح کے امن اور عالمی تعاون کے وژن کا حوالہ دے کر انھوں نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے تاریخی تصور کو موجودہ عالمی حالات سے جوڑنے کی کوشش کی۔مسئلہ کشمیر وزیراعظم کے خطاب کے اہم موضوعات میں شامل رہا۔

انھوں نے کشمیری عوام کے حق خود ارادیت اور مسئلہ کشمیر کے پُرامن حل کی ضرورت پر زور دیا۔ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن کے لیے دیرینہ تنازعات کا حل ناگزیر ہے اور کشمیر کا مسئلہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک مستقل باب ہے۔

اقوام متحدہ کے عالمی فورم پر اس مسئلے کا ذکر پاکستان کے دیرینہ مؤقف کی تجدید بھی ہے اور عالمی برادری کو اس تنازع کی طرف متوجہ کرنے کی سفارتی کوشش بھی۔فلسطین کا مسئلہ بھی وزیراعظم کی تقریر کا نمایاں حصہ تھا۔

انھوں نے فلسطینی عوام کو درپیش انسانی بحران اور ان کے بنیادی حقوق کی طرف عالمی برادری کی توجہ مبذول کرائی۔ وزیراعظم نے ایک آزاد، خودمختار، قابلِ عمل اور مسلسل جغرافیائی وحدت رکھنے والی فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا اور فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

پانی کے مسئلے پر بھی وزیراعظم نے پاکستان کا موقف واضح اور دوٹوک انداز میں پیش کیا۔ دریاؤں کے پانی کو سیاسی دباؤ یا تنازع کا ذریعہ بنانے کی مخالفت کرتے ہوئے انھوں نے پاکستان کے آبی حقوق کے تحفظ پر زور دیا۔

پاکستان کے لیے پانی محض خارجہ پالیسی کا موضوع نہیں بلکہ زراعت، خوراک، صنعت، توانائی اور کروڑوں شہریوں کی زندگی سے براہِ راست وابستہ معاملہ ہے۔ اس لیے پانی کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا پاکستان کی اہم سفارتی ضرورت ہے۔

حرمین شریفین کی حرمت اور سلامتی کے حوالے سے بھی وزیراعظم نے واضح مؤقف اختیار کیا۔ انھوں نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مقدس مقامات کی سلامتی کو انتہائی اہم قرار دیا اور خطے میں امن، استحکام اور باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے اہم سمندری راستوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل میں ان کی اہمیت واضح کی۔ ان راستوں میں کسی طویل تعطل کے اثرات صرف متعلقہ خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی قیمتوں، خوراک کی ترسیل اور ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

اسی لیے ان اہم بحری گزرگاہوں کو محفوظ اور عالمی آمدورفت کے لیے کھلا رکھنا پوری عالمی برادری کے مفاد میں ہے۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی طویل جدوجہد اور اس دوران دی جانے والی انسانی و معاشی قربانیوں کو بھی وزیراعظم نے دنیا کے سامنے رکھا۔

پاکستان کئی دہائیوں سے دہشت گردی کیخلاف جنگ کے اثرات برداشت کرتا آیا ہے۔ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونیوالی دہشت گرد کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے واضح کیا کہ کسی بھی ملک کی سرزمین دوسرے ملک کیخلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

یہ اصول علاقائی امن اور ریاستوں کے باہمی تعلقات کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے پاکستان کا مقدمہ بھی وزیراعظم نے مؤثر انداز میں پیش کیا۔ پاکستان عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں معمولی حصہ رکھنے کے باوجود موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات سے متاثر ہونیوالے ممالک میں شامل ہے۔

شدید بارشیں، سیلاب، گرمی کی لہریں اور دیگر موسمیاتی خطرات انسانی زندگی کیساتھ ملکی معیشت اور بنیادی ڈھانچے کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے ترقی یافتہ ممالک سے موسمیاتی مالی معاونت، نقصانات کے ازالے اور موسمیاتی موافقت کے لیے تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔معاشی ترقی بھی وزیراعظم کی تقریر کا اہم موضوع رہی۔

انھوں نے ترقی پذیر ممالک کے لیے قرضوں میں سہولت، قابلِ برداشت طویل المدتی مالی معاونت اور عالمی مالیاتی اداروں میں ترقی پذیر ممالک کی زیادہ مؤثر نمائندگی کی ضرورت اجاگر کی۔

اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کی خدمات کا ذکر بھی وزیراعظم کے خطاب کا اہم حصہ تھا۔ پاکستانی اہلکار کئی دہائیوں سے دنیا کے مختلف علاقوں میں اقوام متحدہ کے امن مشنز کے تحت خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔

یہ کردار عالمی امن اور سلامتی کے لیے پاکستان کی عملی وابستگی کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔وزیراعظم کے خطاب کا ایک نمایاں پہلو یہ بھی تھا کہ انھوں نے پاکستان کے قومی مفادات کو عالمی مسائل سے الگ کرکے پیش کرنے کے بجائے انھیں ایک وسیع بین الاقوامی تناظر میں رکھا۔

کشمیر، فلسطین، پانی، دہشت گردی، موسمیاتی تبدیلی، معاشی عدم مساوات، جدید ٹیکنالوجی اور اقوام متحدہ میں اصلاحات ایسے موضوعات ہیں جن کا تعلق پاکستان کی داخلی اور خارجی ترجیحات دونوں سے ہے۔

یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کی نمائندگی محض ایک رسمی سرگرمی نہیں۔ یہ وہ عالمی فورم ہے جہاں ایک ملک اپنے قومی مفادات، عوامی ترجیحات، علاقائی مسائل اور عالمی امن کے بارے میں اپنا نقطہ نظر دنیا کے سامنے رکھتا ہے۔ تاہم کسی خطاب کی اصل اہمیت اس کے بعد ہونیوالی سفارتی سرگرمیوں اور عملی پیش رفت سے متعین ہوتی ہے۔

عالمی سطح پر مؤثر آواز کے لیے مسلسل سفارتی رابطہ، واضح پالیسی اور داخلی استحکام ضروری ہیں۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب اسی وسیع سفارتی عمل کی ایک اہم کڑی ہے۔

انھوں نے کشمیر سے فلسطین، پانی سے موسمیاتی تبدیلی، دہشتگردی سے معاشی ترقی اور عالمی اداروں کی اصلاحات تک متعدد اہم موضوعات پر پاکستان کی ترجیحات دنیا کے سامنے رکھیں۔ ان کی تقریر میں امن، مذاکرات، تعاون، خودمختاری اور عالمی ذمے داری کے اصول نمایاں رہے۔

پاکستان کے عوام کی خواہش ہے کہ ملک عالمی سطح پر امن، ترقی اور استحکام کے لیے اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا کرتا رہے اور دنیا کے سامنے پاکستان کا پُرامن، ذمے دار اور ترقی پسند تشخص مزید مضبوط ہو۔

اقوام متحدہ جیسے عالمی فورم پر قومی مؤقف کی مؤثر ترجمانی اسی سفارتی عمل کا حصہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی ایوانوں میں اٹھائی جانے والی آواز کو مستقل سفارتی کوششوں، معاشی استحکام اور عملی اقدامات کے ساتھ مربوط کیا جائے تاکہ پاکستان کے قومی مفادات کے تحفظ اور عالمی امن کے فروغ کی کوششیں مزید نتیجہ خیز بن سکیں۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے