• اکتوبر 4, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 4, 2026 2:11 صبح
  • پاکستان

ہمارا دین انسانی جان کو احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے

چار سال پہلے میرا جواں سال بھانجا بہادری سے زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا تھا۔ اس کی اکلوتی اور لاڈلی بیٹی باپ کی اس حالت کو دیکھ رہی تھی۔ خوب جانتی تھی کہ باپ کس سفر پہ رواں دواں ہیں۔ چند سال پہلے گردے کی بیماری کا انکشاف ہوا۔ تمام تر علاج معالجے اور کوششوں کے بعد نوبت یہاں آگئی کہ ڈاکٹروں نے وضاحت کر دی کہ گردے کا ٹرانسپلانٹ ہی واحد علاج ہے۔

جب بھی مجھے اس کی وہ خوبصورت سیاہ سوال کرتی آنکھیں یاد آتی ہیں ،کیا اس دنیا میں کوئی نہیں جو مجھے چند سال اور زندگی کے دے سکے، میں بھی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ خوش و خرم رہ سکوں۔

پھر وہ وقت آیا جس کے آنے کا ہر ایک کو یقین تو تھا مگر اس کا تصور بھی محال تھا اور وہ ہم سب کو چھوڑ کر اس دنیا فانی سے چلا گیا۔ اسپتال سے ملحق ایس آئی یو ٹی میں زیر علاج رہا، جو انسانوں کی خدمت اور محبت کا ایک لازوال ادارہ ہے ۔

بہترین علاج کے باوجود۔ کتنے ہی مریض وہاں اپنی آخری سانسیں گن رہے تھے، کسی فرشتے کے منتظر جو ایک گردہ عطیہ کرسکے۔ پاکستان میں ہر سال تقریباً پچاس ہزار افراد گردے کی بیماری کے آخری مرحلے میں مبتلا ہوتے ہیں، مگر صرف دو سے تین ہزار کو گردے کی پیوند کاری کا موقع ملتا ہے۔

ہر سال تقریباً پندرہ سے بیس ہزار افراد اعضا کی پیوند کاری کے انتظار میں انتقال کر جاتے ہیں۔ پاکستان میں فی ملین آبادی صرف تین سے چار افراد اعضا عطیہ کرتے ہیں، جبکہ اسپین میں یہ شرح چالیس فی ملین اور امریکا میں تیس فی ملین ہے۔

ایک عطیہ دہندہ اپنے اعضاء سے آٹھ تک جانیں بچا سکتا ہے۔ ایک آنکھ کا قرنیہ دو افراد کی بینائی واپس لا سکتا ہے۔ پاکستان میں نوے فیصد سے زائد گردوں کی پیوند کاری زندہ عطیہ دہندگان سے ہوتی ہے، جبکہ مرنے والے عطیہ دہندگان کا تناسب انتہائی کم ہے۔

دنیا بھر میں ہر سال تقریباً ڈیڑھ لاکھ اعضا کی پیوند کاری کی جاتی ہے۔ دنیا میں تقریباً دس لاکھ افراد اعضا کی پیوند کاری کے انتظار میں ہیں۔ ہر دس منٹ میں کوئی نہ کوئی شخص اعضا کی پیوند کاری کے انتظار میں انتقال کر جاتا ہے۔

سائنسی ریسرچ کہتی ہے کہ انسان کے نو اجزاء ایسے ہیں جو مرنے کے بعد بھی قابل استعمال ہیں، جبکہ گردہ، بون میرو، جگر کا ٹکڑا اور پھیپھڑے کا ٹکڑا زندگی میں بھی عطیہ کیا جا سکتا ہے۔ عطیہ کرنے والا کسی بھی قسم کی سخت اذیت اور موت کا شکار نہیں ہوتا۔

عزیز و اقارب کے لیے تو عطیہ دینا ایک جذباتی اور محبت کا تقاضا بھی ہے، مگر اجنبی کی مدد ایک اعلیٰ ترین جذبہ ہے۔طبی تحقیق اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ انسان کے مرنے کے چند گھنٹوں بعد تک انسان کے بعض اعضاء قابل استعمال رہتے ہیں اور اگر انھیں بروقت منتقل اور محفوظ کر لیا جائے تو وہ کسی بھی انسان کی پیوند کاری میں معاون ہوتے ہیں جس سے ایک اور زندگی بچائی جا سکتی ہے۔

خصوصاً وہ صحت مند نوجوان افراد جو کسی حادثے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔اس شعور کی بیداری ضروری ہے کہ انسان موت کے بعد بھی کسی کی جان بچا سکتا ہے۔ دینی نقطہ نظر سے اعضا کی منتقلی میں دینے والے کی جان کو خطرہ نہیں ہونا چاہیے اوریہ محض کسی کی جان بچانے کے لیے ہو۔

کوئی معاشی فائدہ حاصل نہ کیا جا ئے اور یہ بات یقینی ہو کہ جان بچانے کے امکانات بہت زیادہ ہیں اور اس عمل میں پیشہ ورانہ شفافیت ہو۔اس موضوع پر دنیا بھر کے جید اور لائق علمائے کرام، مسلم اداروں اور اسلامی تنظیموں نے نہایت عرق ریزی سے غور و خوض کے بعد انسانی جان کو بچانے کے لیے اعضاء کی منتقلی اور پیوند کاری جائز قرار دیا ہے۔

اس میں پاکستان سمیت سعودی عرب، کویت، مراکش، قطر، امریکا، برطانیہ، سنگاپور، ملائیشیا اور انڈونیشیا کے علماء کرام کے فتاوی موجود ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ علماء کرام اس پر مختلف رائے بھی رکھتے ہیں۔ ہمارا دین انسانی جان کو احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے، خصوصاً یہ احساس زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے جب ایک بیمار کی جان بچانے کے لیے اعضاء کی پیوند کاری بہت سہولت سے ممکن ہو۔ یہ بات خوش آیندہے کہ ملک میں صوبائی اور وفاقی سطح پر ایسے سرکاری اور نجی ادارے موجود ہیں۔

Organs Transplant Authority Human ، سرکاری اتھارٹی بھی موجود ہے جو قانونی ضروریات اور طبی سہولیات کو یقینی بنانے میں معاون کردار ادا کرتی ہے۔البتہ قومی سطح پر اعضا کے عطیہ کی رجسٹری کے نظام کو موثر بنانے کی ضرورت ہے جس کی براہ راست عوام تک رسا ئی ممکن ہو اور انھیں متعلقہ معلومات ہوں۔

جہاں ہر اس شہری کو قومی شناختی کارڈ کے ساتھ رجسٹریشن کی سہولت بھی میسر ہو جو ضرورتمند ہو یا جو مدد کرنا چاہتا ہو۔ اس ڈیجیٹل ڈیٹا بیس کو اسپتالوں، پولیس تھانوں اور نادرا سے منسلک کیا جا سکتا ہے، جبکہ ڈرائیونگ لائسنس اور شناختی کارڈ پر اعضا کے عطیہ کی نشاندہی بھی کی جا سکتی ہے۔

اس کے علاوہ، ایک خصوصی کارڈ بھی جاری کیا جا سکتا ہے جس میں عطیہ دینے والے کی تمام معلومات موجود ہوں۔ کیا عوام کے علم میں بھی ہیں، ہمارے ادارے کیا کرتے ہیں اور کتنے موثر ہیں اور خود وہ کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟

لازمی ہے کہ یہ شعور پیدا ہو کہ زندگی میں اگر وہ اپنے کسی عضو سے کسی انسان کی مدد کر سکتا ہو جس سے اس کی جان اور صحت متاثر نہ ہو تو اس کے لیے وہ آگے بڑھے۔ دوم یہ کہ مرنے کے بعد بھی وہ بہت کچھ کرسکتا ہے وہ اس کے لیے اپنے آپ کو اور اپنے اہل خانہ کو تیار کرے کہ ضرورت پڑنے پر اس کے اعضاء استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

کیا مرنے والے کے لواحقین اس چیز کی اجازت دیں گے یا نہیں۔ یہ ایک بہت بہت جذباتی اور حساس معاملہ ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ہر زندہ انسان اپنی زندگی میں یہ وصیت کر دے؟ اس کے لیے ہمارے معاشرے میں یہ شعور عام ہونا چاہیے کہ ایک انسان مرنے کے بعد بھی نیکی کا عمل جاری رکھ سکتا ہے اور اس کا جسم بھی ایک نئی زندگی کو آباد کرنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

کسی بھی خاندان کے لیے یہ منظر ناقابل برداشت ہے کہ اس کی آنکھوں کے سامنے گھر کا ایک فرد اس دنیا سے جا رہا ہو اور وہ بے بسی سے دوسروں کی طرف امداد کے لیے دیکھ رہے ہوں۔ اعضا کی منتقلی اور اس کی پیوند کاری کے لیے ایک منظم کوشش شروع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عام آدمی کو اس کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے۔

حکومت کی سطح پر ایسی فہرست تیار کی جا سکے جو متعلقہ اسپتالوں اور مریضوں کو مہیا کی جائے کہ جب کبھی اعضا میسر ہوں تو مریض کو منتقل کیا جا سکے۔ واضح قانون بنانا اور اس کی تشہیر بھی لازمی ہے، غیر قانونی اعضا کی تجارت پر سخت سزائیں دے، عطیہ دہندگان کو قانونی تحفظ فراہم کرے اور ٹی وی، ریڈیو، سوشل میڈیا، مدارس، اسکولوں اور جمعہ کے خطبات کے ذریعے عوامی شعور بیدار کرنے کی مہم چلائے، جس میں مشہور شخصیات بطور سفیر شامل ہوں۔

زندگی اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ جب ہم اس نعمت کو دوسروں کے ساتھ بانٹ سکتے ہیں تو کیوں نہ بانٹیں؟ ایک گردہ، ایک قرنیہ، ایک دل۔ یہ سب مرنے کے بعد بھی کسی کے لیے زندگی کا چراغ بن سکتے ہیں۔

آئیے! ہم سب عہد کریں کہ ہم اپنی زندگی میں اعضا عطیہ کی وصیت کریں گے اور اپنے پیاروں کو بھی اس نیکی کی ترغیب دیں گے، کیونکہ ایک دن ہم سب کو جانا ہے، مگر سوال یہ ہے۔ کیا ہم جا کر بھی کسی کے لیے زندگی کا تحفہ چھوڑ جائیں گے؟

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے