• ستمبر 30, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 30, 2026 7:47 شام
  • پاکستان

قطری ثالثی میں امریکا اور ایران تک ایک دوسرے کے نکات پہنچادیے گئے ہیں تاہم کشیدگی برقرار ہے

آبنائے ہرمز میں جہاز رانی معمول پر آنے بجائے مزید بگڑتی جا رہی ہے جس سے تیل و گیس کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کی بڑی لہر کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

برطانوی میری ٹائم ادارے یوکے ایم ٹی او کے مطابق آبنائے ہرمز میں 29 ستمبر کو تین تجارتی بحری جہاز نامعلوم سمت سے آنے والے گولہ نما حملوں کی زد میں آئے۔

ان میں ایک خام تیل بردار جہاز، ایک مائع قدرتی گیس بردار جہاز اور ایک تیسرا بحری جہاز شامل تھا۔ ادارے نے 30 ستمبر کو ان واقعات کی اطلاع دی، تاہم جہازوں کے نام، حملہ آور یا استعمال کیے گئے ہتھیار کی نوعیت فوری طور پر واضح نہیں کی گئی۔

رپورٹس کے مطابق خام تیل بردار جہاز کے بائیں جانب نامعلوم گولہ لگا۔ حکام نے ابھی تک جانی نقصان یا نقصان کی مکمل تفصیل جاری نہیں کی اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

ایک الگ رپورٹ میں مائع قدرتی گیس بردار جہاز کو بھی نامعلوم گولہ لگنے کی تصدیق کی گئی ہے۔ واقعہ بھی 28 ستمبر کی شام پیش آیا تھا جس میں ایک نامعلوم جہاز کو گولہ لگا اور آگ بھڑک اٹھی۔

اس طرح آج سامنے آنے والی اطلاعات میں مجموعی طور پر 4 جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کی بات سامنے آئی ہے، جن میں تیل اور گیس لے جانے والے بڑے تجارتی جہاز شامل ہیں۔

دستیاب معلومات میں یہ ثابت نہیں ہوا کہ حملوں میں میزائل، ڈرون یا کسی مخصوص قسم کا ہتھیار استعمال ہوا فی الحال صرف انہیں نامعلوم گولہ قرار دیا ہے۔ کسی گروہ نے بھی فوری طور پر ذمہ داری قبول نہیں کی۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا اہم راستہ ہے، اس لیے ایسے واقعات سے خطے میں تجارتی جہازرانی کی سلامتی کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔

یوکے ایم ٹی او نے گزرنے والے جہازوں کو محتاط رہنے اور مشتبہ سرگرمیوں کی اطلاع دینے کی ہدایت کی ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے