• اکتوبر 3, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 3, 2026 6:19 صبح
  • پاکستان

ایک ماہ کے شیر خوار کو کئی بار بیچ دیا گیا، والدین سمیت 7 افراد گرفتار

باپ کی لاش چار سال تک فریج میں کیوں رکھی؟ خاندان نے حیران کن وجہ بتادی

خلائی مخلوق یا دیوہیکل جہاز؟ اسٹار شپ کی لائیو اسٹریم میں پُراسرار’یو ایف او‘ کی جھلک وائرل

امریکا میں 200 سال بعد سزائے موت پانے والی خاتون نے 2 بار موت کو چکما دے دیا

اسلام آباد : پاکستان سمیت غیر یورپی ممالک کے شہریوں کو یورپی یونین کے رکن ممالک میں آزادانہ طور پر کام کرنے کے خودکار حقوق حاصل نہیں لہٰذا شرائط پر عمل لازمی امر ہے۔

یورپی ملک میں ملازمت کے لیے متعلقہ ملک کے قوانین کے مطابق درست ورک ویزا، ورک پرمٹ یا رہائشی اجازت نامہ حاصل کرنا اور مقررہ امیگریشن شرائط پوری کرنا ضروری ہے۔

بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق ہر یورپی ملک میں غیرملکی کارکنوں کے لیے داخلے، رہائش، ملازمت اور آجر تبدیل کرنے کے قوانین مختلف ہوسکتے ہیں۔ کسی ایک یورپی ملک کا ورک پرمٹ عموماً پورے یورپی یونین میں آزادانہ طور پر ملازمت کرنے کی اجازت نہیں دیتا، اس لیے بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ جس ملک میں کام کرنا چاہتے ہیں، اسی ملک کے قوانین اور اجازت نامے کی شرائط کو پہلے سمجھیں۔

کارکنوں کے بنیادی حقوق

جو غیر یورپی شہری کسی یورپی ملک میں قانونی حیثیت کے ساتھ ملازمت کررہے ہوں، انہیں ان کی امیگریشن حیثیت اور متعلقہ ملکی قوانین کے تحت مقامی کارکنوں کے مساوی یا مماثل متعدد حقوق حاصل ہوسکتے ہیں۔

ان حقوق میں تنخواہ اور ملازمت کی شرائط، کام کے اوقات، چھٹیوں اور برطرفی سے متعلق قواعد، پیشہ ورانہ صحت و سلامتی کے تحفظات اور بعض صورتوں میں ٹریڈ یونین یا کارکنوں کی تنظیم میں شمولیت شامل ہوسکتی ہے۔ بعض مخصوص حالات میں سماجی تحفظ، تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت سے متعلق حقوق بھی دستیاب ہوسکتے ہیں۔

تاہم ان حقوق کی نوعیت اور دائرہ کار اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ کارکن کے پاس کس نوعیت کا ویزا یا رہائشی اجازت نامہ ہے اور متعلقہ ملک کے قوانین کیا کہتے ہیں۔

پاکستانی شہریوں کے لیے یہ بات خاص طور پر قابلِ توجہ ہے کہ پاکستان کا یورپی یونین کے ساتھ ایسا کوئی عمومی فری ورک معاہدہ موجود نہیں جس کے تحت تمام پاکستانی شہریوں کو یورپی ممالک میں آزادانہ ملازمت کا حق حاصل ہوجائے۔

غیر یورپی شہریوں کے لیے اہلیت اور مخصوص شرائط پوری کرنے کی صورت میں ملازمت کے مختلف قانونی راستے موجود ہوسکتے ہیں۔

ان میں عام ملازمت یا سنگل پرمٹ، اعلیٰ مہارت رکھنے والے افراد کے لیے ای یو بلیو کارڈ ، موسمی ملازمت، انٹرا کارپوریٹ ٹرانسفر، محقق یا طالب علم کی مخصوص حیثیت، فیملی ری یونیفکیشن اور بعض صورتوں میں طویل مدتی قانونی رہائش شامل ہیں۔

یورپ جانے سے پہلے کن باتوں کی تصدیق ضروری ہے؟

پاکستانیوں کو ملازمت کے لیے یورپ روانہ ہونے سے پہلے متعلقہ ملک کے سرکاری امیگریشن پورٹل سے ویزا کیٹیگری اور ورک پرمٹ کی شرائط کی تصدیق کرنی چاہیے۔ اس کے ساتھ تصدیق شدہ جاب آفر اور تحریری ملازمت کا معاہدہ حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔

جاب قبول کرنے سے پہلے تنخواہ، کام کی نوعیت، اوقاتِ کار، رہائش، دیگر سہولتوں، ورک پرمٹ اور آجر سے متعلق پابندیوں کی تفصیلات واضح طور پر معلوم کرلینی چاہئیں۔ ایمپلائمنٹ ویزے پر بیرون ملک روانگی کی صورت میں متعلقہ تقاضوں کے مطابق پروٹیکٹر رجسٹریشن مکمل کرنا اور تمام اہم دستاویزات کی نقول اپنے پاس محفوظ رکھنا بھی ضروری ہے۔

یورپی یونین کے یورپی امیگریشن پورٹل پر متعلقہ ملک اور اپنی ملازمت یا امیگریشن کیٹیگری منتخب کرکے قواعد و ضوابط کی معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔

ورک پرمٹ اور رہائشی اجازت نامے کی درخواست عموماً اسی ملک کی مجاز اتھارٹی کو دی جاتی ہے جہاں ملازمت کے لیے منتقل ہونا ہو۔

ماہرین کے مطابق بیرون ملک ملازمت کے خواہش مند افراد کو غیرمصدقہ ایجنٹوں یا سوشل میڈیا پر کیے جانے والے دعوؤں پر انحصار کرنے کے بجائے متعلقہ ملک کے سرکاری ذرائع سے معلومات کی تصدیق کرنی چاہیے، کیونکہ صرف جاب آفر، یورپ پہنچ جانے یا کسی ایجنٹ کے وعدے سے قانونی طور پر کام کرنے کا حق حاصل نہیں ہوتا۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے