• ستمبر 16, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 16, 2026 4:46 شام
  • پاکستان

عمان : سمندر کے اوپر سے گزرنے والا کیبل کار منصوبہ تیار

اے آئی انسانوں کی موت کا سبب بن سکتی ہے، خوفناک انکشاف

اسمارٹ گلاسز : خواتین کی خفیہ ویڈیوز کیخلاف اہم اقدام

چلتی ٹرین کے ساتھ مسافر کے گھسٹنے کی لزرہ خیز ویڈیو

مشہور امریکی ریپر میکلمور کو ایک کانسرٹ کے دوران فلسطین کی آزادی کے حق میں نعرے لگانے پر برطانوی گلوکار ایڈ شیرن کے امریکی ٹور سے نکال دیا گیا ہے۔

ٹور منتظمین کے مطابق جن امریکی اسٹیڈیمز اور مقامات پر کنسرٹس ہونے ہیں، وہاں کے مالکان نے میکلمور کو پرفارم کرنے کی اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا ہے، جبکہ اس سے قبل اسرائیلی امریکن کونسل نے بھی ان کے خلاف مہم شروع کی تھی۔

ادھر ایڈ شیرن نے واضح کیا ہے کہ یہ ان کا ذاتی فیصلہ نہیں تھا، بلکہ ٹور کے منتظمین اور مقامات کے مالکان کا اقدام ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے پورا ہفتہ مختلف مقامات کے منتظمین سے تفصیلی بات چیت کی اور فریقین کے درمیان فاصلے مٹانے کی کوشش کی، تاہم آخرکار پروموٹنگ کمپنی ‘میسینا ٹورنگ گروپ’ نے میکلمور کو دورے سے الگ کرنے کا حتمی فیصلہ کیا۔

ایڈ شیرن نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری تنازع پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں جانب ہونے والا جانی نقصان ایک انسانی المیہ ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ وہ سیاسی معاملات پر عوامی سطح پر بات کیوں نہیں کرتے، اور لکھا کہ وہ اپنے پیشہ ورانہ پلیٹ فارم کو سیاست کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہتے کیونکہ ان کے کنسرٹس میں ہر پس منظر کے نوجوان اور بچے شریک ہوتے ہیں جو کسی سیاسی فورم کی توقع نہیں رکھتے۔

تاہم، انہوں نے میکلمور کے اپنے مؤقف پر قائم رہنے کے عزم کی تعریف کی اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ تبدیلی لانے کے لیے سب کے طریقے مختلف ہو سکتے ہیں۔

ایڈ شیرن کے اس بیان کا بظاہر الٹا اثر پڑا اور ٹور میں شامل دیگر فنکاروں نے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ لوکاس گراہم نے انسٹاگرام پر لکھا کہ ہمیں جنگ، عام شہریوں کے قتل اور بچوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی مکمل آزادی ہونی چاہیے۔

اسی طرح آسٹریلیا اور امریکی ٹور کی معاون فنکار ایرن رو نے بھی اپنے خدشات کا اظہار کیا، جبکہ آئرش فوک بینڈ ‘بیوگا’ نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ ایسے مقامات پر پرفارم کرنا جہاں آزاد فلسطین کے حق میں آواز اٹھانے والوں کو خاموش کروایا جاتا ہے، ان کے لیے بالکل بھی قابلِ قبول نہیں ہے۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے