ایک خاتون کو پاکستان کے امن و امان کے لیے خطرہ قرار دینا حکومت کی بوکھلاہٹ ہے، اپوزیشن لیڈر سینیٹ
اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ علیمہ خان کی گرفتاری سے ظاہر ہے کہ حکومت 27 ستمبر مارچ سے ڈر گئی اس لیے گرفتاریاں کررہی ہے۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن نورین خان کی اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس سے ٹیلی فونک گفتگو ہوئی۔
علامہ ناصر عباس نے کہا کہ یہ حکومت گھبرا چکی ہے آپ بہنوں کا عزم ورکرز اور قوم کو حوصلہ دیتا ہے، آپ کی اور عمران خان کی جدوجہد پاکستان میں جبر کے خلاف مزاحمت کا استعارہ ہے، آپ سختیوں کو برداشت کرتے ہوئے آئین پاکستان اور عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، علیمہ خان کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں اور یہ حکومت گھبرائی ہوئی ہے ان کی گرفتاری حکومت کی گھبراہٹ کو بے نقاب کرتی ہے، حکومت 27 ستمبر سے ڈر گئی ہے اس لیے گرفتاریاں کررہی ہے۔
راجا ناصر عباس نے کہا کہ علیمہ خان کی گرفتاری غیر آئینی اور غیر قانونی ہتھکنڈوں کی نشانی ہے، علیمہ خان کسی احتجاج کو لیڈ نہیں کر رہی تھیں، وہ اپنے ذاتی کام کے لیے گھر سے نکلی تھیں، ایک خاتون کو پاکستان کے امن و امان کے لیے خطرہ قرار دینا حکومت کی بوکھلاہٹ ہے، حکمران 23 ستمبر سے ڈرے ہوئے اور سہمے ہوئے ہیں، علیمہ خان کی گرفتاری غلط اقدام ہے، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں، ایسے ہتھکنڈوں سے 23 ستمبر کا مارچ نہیں رکے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے اقدامات کے نتیجے میں 23 ستمبر کو زیادہ لوگ باہر نکلیں گے، پاکستان کے عوام 23 ستمبر کا مارچ کریں گے، نہ ڈریں گے نہ جھکیں گے، پاکستان کے عوام ظالم حکمرانوں کے لیے میدان خالی نہیں چھوڑیں گے، علیمہ خان بانی پی ٹی آئی کی بہادر، شجاع اور بابصیرت بہن ہیں، علیمہ خان پاکستان کی بیٹی اور اس وطن کی بیٹی ہیں، ہم اقتدار کے لیے نہیں بلکہ پاکستان بچانے کے لیے نکلے ہیں، علیمہ خان نے کہا پاکستان کی بقا کے لیے جان دینے کو تیار ہیں، پاکستان کی بیٹیوں کو اس طرح گرفتار کرنے پر حکمرانوں کو شرم آنی چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر سینیٹ نے کہا کہ بزرگ خواتین کو اس طرح گرفتار کرنا غلط اقدام ہے، علیمہ خان کی گرفتاری سے احتجاج کو مزید طاقت ملے گی، حکمران نہ علیمہ خان کو ڈرا سکتے ہیں نہ دھمکا سکتے ہیں، حکومت کے اقدامات سے علیمہ خان کی عوامی حمایت میں اضافہ ہوگا، پنجاب حکومت نے فاشسٹ طرز کے اقدامات شروع کر رکھے ہیں، علیمہ خان کو فوری رہا اور آزاد کیا جائے، ان کی گرفتاری ناقابل قبول اقدام ہے اور مذمت کا لفظ بھی چھوٹا ہے، ان کے خلاف اقدام کم ظرفی کی علامت ہے، پاکستان کا بچہ بچہ علیمہ خان کی گرفتاری کی مذمت کرتا ہے،علیمہ خان کو اکیلا کرنے کی کوشش کا نتیجہ عوامی حمایت میں اضافے کی صورت میں نکلے گا اور حکمران عوام کی نظروں میں مزید گریں گے۔
نورین نیازی نے کہا کہ کہا کہ ہم پاکستانی عوام اور اپنے بھائی کے لیے کوشاں ہیں، ایسی گرفتاریاں ہمارا حوصلہ نہیں توڑ سکتیں ہم اس سے مزید مضبوط ہوتے ہیں، ہم کوششیں جاری رکھیں گے۔
