شادی کی تقریب میں دولہا کی مشین گن سے فائرنگ
جب 24 سال سے قید بچوں نے پہلی بار سورج کی روشنی دیکھی
آگ اور بجلی کے بغیر کھانا پکانے کا بیگ، حیرت انگیز ایجاد
لندن سے بنگلادیش جانے والی پرواز میں مسافر لڑ پڑے، ویڈیو وائرل
امیر خسرو اپنے زمانے میں ایک امیر خسرو تھے۔ ہمارے زمانے تک آتے آتے ایک سے کئی بن گئے۔ جامع اور سالم شخصیتوں کے ساتھ مشکل یہی تو ہوتی ہے کہ تصور میں ان کا اکٹھا سمانا مشکل ہوتا ہے۔ اُدھر آدمی بہت پھیلا ہوا تھا۔ ادھر روز بروز نظر کمزور اور تصور محدود ہوتا جا رہا تھا تو مختلف گروہوں نے بڑے امیر خسرو میں سے اپنے اپنے تصور کے حساب سے اپنی اپنی پسند کے امیر خسرو تراش لیے۔ صوفی امیر خسرو، موسیقار امیر خسرو، فارسی شاعر امیر خسرو مگر ایسے کئی خسرو تراشے جانے کے بعد بھی بہت سا خسرو بچ رہا۔
طہارت پسند مسلمانوں نے اس بچے ہوئے کو شخصیت کا فالتو حصہ جانا اور گم کر دیا۔ مگر خلقت کے حافظہ نے طہارت پسندوں کے ساتھ دشمنی کی۔ اس کے بیچ سے گم ہو جانے والا خسرو خلقت کے درمیان موجود پایا گیا۔ بہت سا کلام غتر بود ہو چکا تھا۔ مگر خلقت نے تھوڑے ہی کو بہت سمجھا اور حافظہ میں محفوظ کر لیا۔ محققوں نے گمشدہ کلام کو ڈھونڈنے کی بجائے یہ سوال کھڑا کر دیا کہ یہ کلام امیر خسرو کا ہے بھی یا نہیں۔ جواب بالعموم یہ تھا کہ نہیں ہے۔ مگر میری دِقّت یہ ہے کہ میں خلقت کے حافظہ کو محققوں کی تحقیق سے بڑی سچائی جانتا ہوں۔ خلقت کا حافظہ جھوٹ نہیں بولتا، اضافہ اور رنگ آمیزی البتہ کر دیتا ہے۔ اسے اجتماعی حافظہ کا تخلیقی عمل کہہ لیجیے۔ اس عمل میں شکلیں مسخ نہیں ہوتیں، نکھر آتی ہیں۔
اور جاننا چاہیے کہ شاعر دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک شاعر وہ ہوتا ہے جو تخلیقی جوہر پرتن تنہا شاعری کرتا ہے۔ دوسرا شاعر وہ ہوتا ہے جو اجتماعی حافظہ کو شریک بناکر تخلیق کرتا ہے۔ امیر خسرو کی ذات میں یہ دو شاعر اکٹھے ہو گئے تھے۔ عجمی امیر خسرو اپنے تخلیقی جوہر کے زورپر تن تنہا شاعری کر رہا تھا اور دلّی کے دربار سے شیراز تک مار کر رہا تھا۔ دیسی امیر خسرو خلقت کے حافظہ کو شریک بناکر تخلیق کر رہا تھا اور برصغیر کی وسعتوں اور پہنائیوں میں سرایت کر رہا تھا۔ مگر میں نے غلط کہا۔ امیر خسرو دو نہیں تھے، ایک تھا، جو دو سطحوں پر کارفرما تھا۔
’غرۃ الکمال‘ کے دیباچہ کے ایک بیان کا سہارا لے کر یہ کہا گیا کہ امیر خسرو نے تو خود ہی اپنے دوہوں، گیتوں کو غیراہم گردانا اور اپنے کلام میں شامل نہیں کیا۔ بس بانگی کے طور پر جہاں تہاں نقل کر دیا۔ یوں ہی سہی پھر کیا ہوا۔ غالب نے بھی تو کہہ دیا تھا کہ میرے اردو کلام کو دفع کرو اور میری فارسی کو دیکھو۔ دوستوں، مداحوں اور ادب کے قاریوں نے کیا ان کا کہا مان لیا۔
چلیے مان لیا کہ امیر خسرو اپنی فارسی شاعری ہی کو وقیع سمجھتے تھے اور اردو کلام کا معاملہ لے دے کے یہ تھا کہ بی جموں نے فرمائش کی تو ہنسی ونسی میں ان کے لیے کچھ کہہ دیا، جھولنے والیاں پیچھے پڑیں توان کے لیے لکھ دیا، کسی بھٹیاری نے باتیں ملائیں تو چلتے چلتے اسے کچھ لکھ کر دے دیا، مگر اس رویے کے ساتھ کتنا کہا جا سکتا تھا۔ سود وسو نہ سہی، ہزار دو ہزار شعر سہی۔ مگر یہی محقق حضرات یہ کہتے ہیں، یہ کلام چار پانچ لاکھ اشعار میں پھیلا ہوا تھا اور اس کے فارسی کلام سے زیادہ تھا۔ وہ کیا شاعر تھا جس نے غیرسنجیدہ اور غیروقیع شاعری اس فراوانی سے کی کہ وہ اس کی سنجیدہ اور وقیع شاعری سے بڑھ گئی۔ مگر یہ دوہا کیا کہتا ہے،
گوری سووے سیج پہ اور مکھ پہ ڈارو کیس چل خسرو گھر اپنے سانجھ بھئی چوندیس
کیا اس دوہے کو غیر سنجیدہ شاعری کے ذیل میں ڈالیں گے۔ کیا حضرت نظام الدینؒ اولیا کا وصال امیر خسرو کے لیے کوئی سرسری تجربہ تھا۔ حضرت نظام الدینؒ اولیا کی موت امیر خسرو کے لیے ایک جان لیوا واردات بنی جس نے انہیں دنیا و مافیہا سے بے خبر کر دیا اور چھ ماہ کے اندر اندر انہیں خالق حقیقی سے جا ملایا۔ اس واردات کا بے ساختہ اور بھرپور اظہار متذکرہ بالا دوہے کی صورت میں ہوا۔ یہ دوہا یہ ثابت کرنے کے لیے بہت کافی ہے کہ امیر خسرو کے لیے یہ زبان اور یہ اسلوب اتنا ہی سنجیدہ ذریعہ اظہار ہے جتنا فارسی غزل یا مثنوی تھی۔ ہاں یہ ممکن ہے جیسا کہ غرّۃ الکمال کے دیباچہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ امیر خسرو کو اپنی اس صورت حال کا پوری طرح احساس نہ ہوا ور یہ ایسی کوئی عجب بات بھی نہیں ہے۔
امیر خسرو نے فارسی شاعری میں جو کچھ کہا اس کی اہمیت اور معنویت سے وہ اپنے زمانے کے مسلمان اشراف کے ادبی معیارات اور مذاق سخن کے واسطے سے باخبر تھے۔ مگر نئی زبان میں وہ جو کچھ کہہ رہے تھے اور کر رہے تھے اس کے معنی تو مستقبل میں پوشیدہ تھے۔ امیر خسرو کے صرف باطن کو اس کی خبر تھی۔
امیر خسرو نے فارسی شاعری خوب کی۔ مگر اس پر قانع نہیں ہوئے۔ انہوں نے گیت کہے، دوہے، پہیلیاں، کہہ مکرنیاں، دو سخنے، انمل۔ یہ ان کی نئی شاعری تھی، کوئی نمود کرتی ہوئی تہذیب اور کوئی اُبھرتا ہوا تخلیقی جوہر روایت میں مقید ہوکر نہیں رہ سکتا۔ ایک نئے گرد و پیش میں نمو کرتی ہوئی یہ تہذیب ورثے میں ملی ہوئی شعری روایت پر قانع نہیں رہ سکتی تھی۔ اس کے تجربے اہلِ عجن کے تجربوں سے مختلف تھے۔ یہ تجربے نیا اظہار مانگتے تھے۔ صحیح ہے کہ امیر خسرو نے اپنی فارسی شاعری میں ان تجربوں کو سمنے کیبہت کوشش کی۔ صحیح ہے کہ انہوں نے اپنی غزل اور مثنوی کو عجمیت کی ڈبیا میں بند کرکے نہیں رکھا۔ یہاں کے رنگوں اور خوشبوؤں کے لیے یہاں کے لفظوں اور لہجوں کے لیے انہوں نے اپنی فارسی غزل اور مثنوی کے سارے دریچے کھول رکھے تھے۔ مگر اصناف کو بہرحال اپنی عجمی روایت کی بھی اطاعت کرنی تھی۔
بس یہیں سے امیر خسرو کو اپنی فارسی شاعری کے ناکافی ہونے کا احساس ہوا اور یہاں سے انہیں بیان میں وسعت کی تلاش ہوئی کہ جو تجربے اس مٹی کی دین ہیں، ان کے اظہار کی گنجائش نکل سکے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے امیر خسرو ایک باغی شاعر کا روپ دھارتے نظر آتے ہیں۔ خالص فارسی سے گزر کر دو رنگی زبان میں غزل کہنے کی کوشش اور غزل، مثنوی اور قصیدہ جیسی اصناف سے گزر کر ان گری پڑی اصناف میں اظہار کی کوشش جنہیں فارسی کی ادبی روایت سنجیدہ شعری اصناف ماننے کے لیے تیار نہیں تھی۔ یہ کم وبیش اسی نوع کی بغاوت تھی جو بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں ہمارے شاعروں نے نظم آزاد اور نظم معرّیٰ کو اپنا کر کی تھی۔ مگر یہ کہ امیر خسرو کی بغاوت زیادہ بڑی اور زیادہ بامعنی بغاوت تھی۔
امیر خسرو کی یہ شاعری دو اعتبارات سے نئی شاعری ہے۔ ایک تو اپنے عہد کے حوالے سے کہ امیر خسرو نے اپنے عہد میں زندگی کی نئی حقیقتوں اور نئی واردات کے اظہار کے لیے ان اصناف کے حلقہ سے نکل کر، جو مسلمان اشراف میں مروج و مقبول تھیں، دوسری اور بظاہر غیر مستند اور غیر ثقہ اصناف کو برتا اور ہیئت کے نت نئے تجربے کیے۔ دوسرے وہ آج کے حوالے سے بھی نئی شاعری ہے۔ وہ اس طرح کہ اس شاعری میں جو طرز احساس ملتا ہے وہ آج کے بیسویں صدی کے طرز احساس سے ہم رشتہ ہے۔
کہہ مکرنیوں میں امیر خسرو نے ایک کلید دریافت کر لی ہے جس کی مدد سے حیات و کائنات میں ایک معنی دیکھے اور پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ یہاں محبت کے واسطے سے چیزیں شناخت ہوتی ہیں اور معنی پاتی ہیں۔ کیا فطرت کے مظاہر اور کیا آدمی کی بنائی ہوئی چیزیں، ابتدا میں ہر چیز کا بیان ساجن کا بیان نظر آتا ہے، پھر وہاں سے پہچان کا راستہ نکلتا ہے اور ہر چیز اپنے اصلی نام کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ اس صوفی شاعر کے لیے معنی کی کلید محبت میں ہے کہ اس واسطے سے یہ بکھری ہوئی اشیا ایک وحدت میں سمٹی ہوئی بھی نظر آتی ہیں اور اپنی ایک الگ پہچان بھی رکھتی ہیں۔
(ممتاز فکشن نگار اور کالم نویس انتظار حسین کے مضمون سے چند پارے)
