• ستمبر 13, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 13, 2026 2:24 صبح
  • پاکستان

موجودہ علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال میں ایران کے لیے ’’ایٹمی بازدار قوت‘‘ کا حصول ناگزیر ضرورت بن چکا ہے

ایران میں جوہری پروگرام سے متعلق پارلیمانی بحث ایک نئے اور غیر معمولی مرحلے میں داخل ہوگئی۔

ایرانی میڈیا ادارے انتخاب نیوز کے مطابق ایرانی پارلیمان نے حکومت سے جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے (NPT) سے مکمل طور پر دستبردار ہونے کا مطالبہ کر دیا ہے.

ایرانی رکنِ پارلیمنٹ حسین علی حاجی دلیگانی نے کہا ہے کہ این پی ٹی سے دستبرداری کے مطالبے پر مبنی ایک تین ہنگامی سطح کا بل تیار کر کے متعدد ارکان سے دستخط بھی کروا لیے ہیں۔

ان کے مطابق اگر پارلیمنٹ کے پریزائیڈنگ بورڈ کی جانب سے بل کی منظوری دے دی جاتی ہے تو اس پر ایوان میں ووٹنگ ہو سکتی ہے۔

جوہری ہتھیاروں کے تجربات کا مطالبہ

رکنِ پارلیمنٹ حسین علی حاجی دلیگانی نے صرف این پی ٹی سے دستبرداری تک مطالبہ محدود نہیں رکھا بلکہ کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار کی تیاری کے لیے ضروری تجربات جلد از جلد کرنے چاہییں۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال میں ایران کے لیے ’’ایٹمی بازدار قوت‘‘ کا حصول ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔

ان بیانات نے ایران کی پارلیمنٹ میں جوہری ہتھیاروں سے متعلق اُس روایتی احتیاط کو نمایاں طور پر چیلنج کیا ہے جس کے تحت ایرانی حکام عمومی طور پر جوہری ہتھیار بنانے کے بجائے اپنے پروگرام کو پُرامن مقاصد اور جوہری توانائی تک محدود قرار دیتے رہے ہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ میں این پی ٹی سے دستبرداری کی آواز صرف ایک رکن تک محدود نہیں رہی۔

قومی سلامتی کمیشن کے رکن محسن سانی نے بھی کہا ہے کہ این پی ٹی اب ایران کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ انہوں نے ملک کی یورینیم افزودگی کی پالیسی پر بھی نظرِ ثانی کرنے کی تجویز دی۔

ایک اور رکنِ پارلیمنٹ، فدا حسین مالکی، کے مطابق ارکان پر این پی ٹی سے دستبرداری کی منظوری کے لیے دباؤ موجود ہے۔

ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کی قانون ساز اسمبلی میں جوہری پروگرام کے مستقبل پر بحث مزید سخت مؤقف کی طرف بڑھ رہی ہے۔

ایران میں جوہری پالیسی پر دباؤ کیوں بڑھ رہا ہے؟

ایران کے جوہری پروگرام پر مغربی ممالک اور تہران کے درمیان کئی برس سے شدید اختلافات موجود ہیں۔

ایران کا مؤقف رہا ہے کہ اسے پرامن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی اور یورینیم افزودگی کا حق حاصل ہے جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی طویل عرصے سے خدشات ظاہر کرتے رہے ہیں کہ ایران کی افزودگی کی صلاحیت بالآخر جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

حالیہ علاقائی کشیدگی نے ان خدشات اور ایران کے اندر جوہری بازدار قوت کے حامی حلقوں کے مطالبات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

پارلیمنٹ میں بعض ارکان کا کہنا ہے کہ موجودہ سکیورٹی ماحول میں ایران کو ایسی دفاعی صلاحیت درکار ہے جو ممکنہ دشمنوں کو براہِ راست حملے سے روک سکے۔

این پی ٹی سے نکلنا کیا معنی رکھتا ہے؟

جوہری عدم پھیلاؤ کا معاہدہ دنیا کے اہم ترین جوہری معاہدوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنا، جوہری توانائی کے پُرامن استعمال کو فروغ دینا اور عالمی سطح پر جوہری تخفیفِ اسلحہ کی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔

اگر ایران واقعی اس معاہدے سے دستبرداری کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کے عالمی سطح پر انتہائی اہم سفارتی اور سکیورٹی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ایسا قدم امریکہ اور یورپی ممالک کے ساتھ ایران کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا کر سکتا ہے اور خطے میں دیگر ممالک کے درمیان بھی اپنی دفاعی اور جوہری صلاحیت بڑھانے کی بحث کو تقویت دے سکتا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ میں این پی ٹی سے دستبرداری اور جوہری ہتھیاروں کے تجربات کے مطالبات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی شدید سکیورٹی بحران سے دوچار ہے۔

اگر ایران کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے حصول کی سمت کوئی عملی قدم اٹھایا جاتا ہے تو اس سے نہ صرف ایران اور مغربی طاقتوں کے تعلقات متاثر ہوں گے بلکہ مشرق وسطیٰ میں جوہری دوڑ اور علاقائی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کے خدشات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے