افغانستان میں القاعدہ اور داعش خراسان کی سرگرمیوں کی اطلاعات نے نائن الیون کے بعد کے دور کی یادیں تازہ کر دی ہیں
نائن الیون حملوں کے 25 سال بعد افغانستان ایک بار پھر عالمی دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں کے حوالے سے بین الاقوامی تشویش کا مرکز بن گیا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد القاعدہ اور اس سے وابستہ گروہوں نے افغانستان میں اپنی موجودگی کو منظم کرنا شروع کر دیا ہے اور گزشتہ چند برسوں کے دوران کم از کم آٹھ اڈے قائم کیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں اقوام متحدہ سے وابستہ ایک ادارے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ القاعدہ اور اس کے اتحادی گروہوں نے افغانستان کے کم از کم 14 صوبوں میں اپنی موجودگی قائم کی ہے جبکہ ملک میں داعش کے علاقائی دھڑے داعش خراسان نے بھی تربیتی مراکز قائم کیے ہیں۔
طالبان کے دور میں ’’سازگار ماحول‘‘ کا دعویٰ
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں ایسا ’’سازگار ماحول‘‘ پیدا ہوا جس نے القاعدہ کو اپنی تنظیم مضبوط کرنے کا موقع دیا۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان کے مختلف علاقوں میں محفوظ رہائش گاہیں اور تربیتی کیمپ موجود ہونے کی اطلاعات ہیں۔
تاہم امریکی اور مغربی حکام کے مطابق افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں کی موجودہ سرگرمیوں کا محور ماضی کی طرح فوری طور پر مغربی ممالک میں بڑے حملے کرنا نہیں بلکہ زیادہ تر علاقائی تنازعات اور پڑوسی ممالک میں کارروائیوں پر مرکوز دکھائی دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق طالبان بھی کسی ایسی سرگرمی کی حوصلہ افزائی نہیں کرنا چاہتے جس کے نتیجے میں افغانستان میں دوبارہ بڑے پیمانے پر غیر ملکی فوجی یا انٹیلی جنس کارروائیاں شروع ہو جائیں۔
القاعدہ کے کم از کم 100 جنگجو؟
اقوام متحدہ کی دہشت گرد گروہوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کے کوآرڈی نیٹر کولن اسمتھ کے اندازے کے مطابق افغانستان میں القاعدہ کے بنیادی ڈھانچے سے وابستہ جنگجوؤں کی تعداد تقریباً 100 یا اس سے کم ہے۔
تاہم تعداد نسبتاً کم ہونے کے باوجود القاعدہ کا کردار صرف اپنے جنگجوؤں تک محدود نہیں رہا۔
اسمتھ کے مطابق القاعدہ اب دیگر مسلح تنظیموں کو ایک طرح کی ’’مشاورتی خدمات‘‘ فراہم کر رہی ہے، جن میں خفیہ کارروائیوں، معلوماتی سکیورٹی اور دیگر عملی امور سے متعلق تربیت اور مشاورت شامل ہے۔
تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ تعلقات
رپورٹ میں خاص طور پر تحریک طالبان پاکستان (TTP) کا ذکر کیا گیا ہے۔اقوام متحدہ کی 2024 کی ایک رپورٹ کے حوالے سے بتایا گیا کہ افغانستان میں موجود القاعدہ کے ارکان نے ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کو خودکش حملہ آوروں کی تربیت فراہم کی۔
یہ معاملہ پاکستان کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اسلام آباد طویل عرصے سے افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں اور اس کی سرحد پار سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے۔
القاعدہ واحد گروہ نہیں جس کی افغانستان میں سرگرمیوں کے بارے میں تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق القاعدہ کی سب سے بڑی حریف تنظیم داعش خراسان نے بھی افغانستان کے شمالی علاقوں کو اپنی سرگرمیوں کے لیے ایک اہم مرکز بنا لیا ہے۔
حکام اور اقوام متحدہ کی رپورٹس کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ داعش خراسان نے تقریباً 2,000 ارکان بھرتی کیے ہیں اور افغانستان میں تربیت اور آئندہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے لیے مراکز استعمال کر رہی ہے۔
القاعدہ اور داعش خراسان ایک دوسرے کی شدید مخالف تنظیمیں ہیں اور عالمی جہادی تحریک پر اثر و رسوخ کے لیے ایک دوسرے کے مدِمقابل ہیں۔
9/11 سے افغانستان کا پرانا تعلق
افغانستان میں القاعدہ کی دوبارہ موجودگی کی اطلاعات کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کی تیاری میں افغانستان میں موجود القاعدہ کے تربیتی کیمپوں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔
امریکی 9/11 کمیشن کے مطابق طیاروں کو ہائی جیک کرنے کا منصوبہ 1990 کی دہائی میں افغانستان میں القاعدہ کے ایک کمپلیکس میں زیر بحث آیا تھا، جبکہ اسامہ بن لادن نے بعد میں قندھار کے قریب ایک مقام پر حملوں کے منصوبے کی منظوری دی۔
نائن الیون حملوں میں ملوث تمام 19 ہائی جیکرز نے بھی حملوں سے قبل افغانستان میں موجود القاعدہ کے تربیتی کیمپوں یا محفوظ رہائش گاہوں میں وقت گزارا تھا۔
بن لادن کے سابق کمپاؤنڈ کی بھی تحقیقات
رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ اور دیگر سکیورٹی حکام نے حال ہی میں ان دعوؤں کی بھی تحقیقات کیں کہ القاعدہ قندھار ایئرپورٹ کے قریب واقع ترناک فارمز میں دوبارہ سرگرمیاں شروع کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہ وہی کمپاؤنڈ ہے جو ماضی میں اسامہ بن لادن سے منسلک رہا تھا۔
تاہم واشنگٹن پوسٹ کی جانب سے سیٹلائٹ تصاویر کے جائزے میں وہاں القاعدہ کی دوبارہ سرگرمی کے واضح آثار نظر نہیں آئے۔
جدید ٹیکنالوجی بھی تربیت کا حصہ
نئے تربیتی مراکز میں صرف روایتی جنگی طریقوں کی تربیت نہیں دی جا رہی۔
رپورٹ کے مطابق ان کیمپوں میں ہتھیاروں، دھماکا خیز مواد اور گوریلا جنگ کی تکنیکوں کے ساتھ ساتھ انکرپشن، ڈرونز اور مصنوعی ذہانت (AI) جیسی جدید ٹیکنالوجیز سے متعلق مہارتوں پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔
یہ تبدیلی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دہشت گرد گروہ اپنی کارروائیوں کے لیے روایتی طریقوں کے ساتھ جدید ڈیجیٹل اور تکنیکی ذرائع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امریکی انٹیلی جنس صلاحیتوں کو دھچکا
2021 میں امریکی افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کی نگرانی کے لیے امریکی انٹیلی جنس صلاحیتوں میں کمی آئی ہے۔
امریکی اور دیگر سکیورٹی حکام کے مطابق اس صورتحال کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ واشنگٹن کو اپنی انٹیلی جنس اور سکیورٹی ترجیحات کا ایک بڑا حصہ ایران اور دیگر عالمی بحرانوں کی جانب منتقل کرنا پڑا۔
تاہم 2022 میں کابل میں امریکی ڈرون حملے میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی ہلاکت نے ظاہر کیا کہ امریکہ اب بھی افغانستان میں اپنے انٹیلی جنس نیٹ ورک اور دور مار کارروائی کی کچھ صلاحیت برقرار رکھتا ہے۔
القاعدہ کی قیادت کہاں ہے؟
رپورٹ کے مطابق القاعدہ کی قیادت اس وقت مصری نژاد سیف العدل کے پاس ہے، جو تنظیم کے افغان تربیتی کیمپوں کے سابق رکن رہے ہیں۔
سکیورٹی حکام کے مطابق سیف العدل کے ایران میں چھپے ہونے کا خیال کیا جاتا ہے۔
القاعدہ کی قیادت کی موجودہ جغرافیائی صورتحال اور افغانستان میں اس کے محدود مگر منظم ڈھانچے کے درمیان تعلق بھی بین الاقوامی انٹیلی جنس اداروں کی توجہ کا اہم موضوع ہے۔
’’لون وولف‘‘ حملوں پر بڑھتی توجہ
افغانستان میں تربیتی کیمپوں تک غیر ملکی جنگجوؤں کی آمد اب ماضی کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہو گئی ہے۔
نائن الیون کے بعد دنیا بھر میں سفری نگرانی، بارڈر سکیورٹی اور انٹیلی جنس نظام مضبوط کیے جانے کے باعث القاعدہ اور داعش کے لیے بڑی تعداد میں غیر ملکی جنگجو افغانستان منتقل کرنا خطرناک ہو گیا ہے۔
اسی وجہ سے دونوں تنظیمیں اب آن لائن بھرتی اور ایسے افراد کو متاثر کرنے پر زیادہ توجہ دے رہی ہیں جو اپنے ممالک میں رہتے ہوئے خود کارروائی کر سکتے ہیں۔
ماہرین اسے ’’لون وولف‘‘ یا انفرادی حملوں کے خطرے میں اضافے کے طور پر دیکھتے ہیں۔
کیا افغانستان دوبارہ عالمی دہشت گردی کا مرکز بن رہا ہے؟
افغانستان میں القاعدہ اور داعش خراسان کی سرگرمیوں کی اطلاعات نے نائن الیون کے بعد کے دور کی یادیں تازہ کر دی ہیں۔ تاہم سکیورٹی ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال کو 2001 سے براہِ راست مماثل قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
القاعدہ کی موجودہ افرادی قوت ماضی کے مقابلے میں بہت کم ہے اور عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف نگرانی اور انٹیلی جنس کا نظام بھی زیادہ مضبوط ہو چکا ہے۔
اس کے باوجود افغانستان میں متعدد دہشت گرد گروہوں کی موجودگی، تربیتی مراکز کا قیام اور پڑوسی ممالک میں سرگرم تنظیموں کے ساتھ روابط خطے کے لیے ایک اہم سکیورٹی چیلنج ہیں۔
