• ستمبر 25, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 25, 2026 4:38 صبح
  • پاکستان

بدقسمتی سے بچوں کے اغوا ہونے اور لاپتہ ہونے کا باقاعدہ ڈیٹا بھی ہمارے پاس موجود نہیں

پاکستان میں ہر سال بڑی تعداد میں بچے لاپتہ یا اغوا ہونے کی خبریں سامنے آتی ہیں۔ کچھ بچے چند گھنٹوں میں مل جاتے ہیں، کچھ چند دنوں میں، کچھ کئی ماہ بعد اور بعض برسوں تک اپنے والدین سے دور رہتے ہیں یا پھر ملتے ہی نہیں۔ بہت سے بچے اپنے والدین سے کسی سبب بچھڑ کر کسی فلاحی ادارے وغیرہ میں پہنچ جاتے ہیں مگر جدید ٹیکنالوجی کے دور میں ان اداروں یا ریاستی سطح پر کچھ ایسا انتظام نہیں ہے کہ بروقت والدین تک ایسے بچوں کی اطلاع پہنچ جائے یا عام لوگوں تک پہنچ جائے۔ ریاستی سطح پر ایسا ڈیجیٹل پورٹل وغیرہ ہونا چاہیے کہ جس پر تمام فلاحی اداروں میں آنے والے بچوں کی تصاویر اور تفصیل دستیاب ہو جائے جہاں کوئی بھی خاندان اپنے گمشدہ بچوں کو تلاش کرسکے۔

بدقسمتی سے بچوں کے اغوا ہونے اور لاپتہ ہونے کا باقاعدہ ڈیٹا بھی ہمارے پاس موجود نہیں، تاہم ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ تعداد سالانہ اعتبار سے اب ہزاروں تک جا چکی ہے جب کہ بہت سے واقعات کی رپورٹ بھی درج نہیں ہوتی۔17 ستمبر 2026 کو ایک اخبار میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق کمسن بچیوں کو اغوا کرکے ملک کے دوسرے صوبوں میں منتقل کیے جانے کے واقعات کی تفتیش اور بازیابی کے دوران پولیس کو قانونی اور انتظامی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

دوسرے صوبے میں چھاپہ مار کارروائی یا مغوی بچیوں کی بازیابی کے لیے محکمہ داخلہ سے اجازت لینے کا موجودہ طریقہ کار اتنا طویل ہے کہ تفتیشی افسر کی درخواست مختلف مراحل سے گزر کر سیکریٹری داخلہ کے دفتر تک پہنچنے میں کم و بیش ایک ماہ یا اس سے بھی زیادہ وقت لے سکتی ہے۔ اس دوران اغوا کاروں کو اپنا ٹھکانہ تبدیل کرنے یا مغوی بچیوں کو مزید کسی مقام پر منتقل کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔

جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں یہ خبر انتہائی تشویش ناک ہے۔ اس ضمن میں صرف اعلیٰ حکام ہی کو نہیں، متعلقہ وزارت کو بھی فوری ایکشن لیتے ہوئے نظام کی خرابیوں اور کوتاہیوں کو ختم کرتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ اغوا کار کو محسوس ہوجائے کہ پولیس اس تک پہنچنے والی ہے تو وہ اپنا ٹھکانہ فوراً بدل سکتا ہے، موبائل فون بند کرسکتا ہے، شہر تبدیل کرسکتا ہے اور سب سے تشویش ناک بات، مغوی بچوں کو کسی اور جگہ منتقل کرسکتا ہے۔جیسا کہ مذکورہ خبر میں پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بعض معاملات میں پولیس کو مشتبہ ملزمان اور ممکنہ ٹھکانوں کے بارے میں معلومات بروقت ملنے کے باوجود اجازت کے مرحلے کی تکمیل تک صورت حال تبدیل ہوچکی ہوتی ہے۔

بچوں کے خلاف جرائم کے اعدادوشمار بھی ایک بڑے مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم کے مطابق 2025 میں پاکستان میں اخبارات کے ذریعے رپورٹ ہونے والے بچوں کے خلاف جرائم کے 3,630 واقعات سامنے آئے، جن میں 1,107 اغوا کے واقعات شامل تھے۔

آج پولیس کے پاس وہ سہولتیں موجود ہیں جو چند دہائیاں پہلے تصور بھی نہیں کی جاسکتی تھیں۔ شہر بھر میں CCTV کیمرے، سیف سٹی سسٹمز، موبائل فون سے متعلق قانونی طور پر دستیاب معلومات، گاڑیوں کی شناخت کے نظام، جیو فینسنگ، ڈیجیٹل نقشے، مصنوعی ذہانت پر مبنی ویڈیو اینالیٹکس اور سوشل میڈیا جیسے ذرائع ایسے مقدمات میں تفتیش کی رفتار کو نمایاں طور پر بڑھا سکتے ہیں۔حال ہی میں اسلام آباد پولیس نے ایک آٹھ ماہ کی مغوی بچی کو مختصر وقت میں بازیاب کرنے کے واقعے میں جدید تکنیکی ذرائع، انسانی انٹیلی جنس اور پیشہ ورانہ پولیسنگ کے استعمال کا ذکر کیا۔ ہری پور میں پانچ سالہ بچی کے اغوا کے ایک مقدمے میں بھی پولیس نے CCTV فوٹیج اور جیو فینسنگ سے مدد حاصل کی۔ رپورٹ کے مطابق انھی ذرائع کی مدد سے مشتبہ افراد اور ان کی نقل و حرکت تک پہنچنے میں تفتیش کاروں کو مدد ملی۔

یہ مثالیں بتاتی ہیں کہ ہم کس طرح جدید ٹیکنالوجی استعمال کرکے جلد ہی بچوں کو بازیاب کراسکتے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر بڑے شہر میں بچوں کے اغوا کے کیسز کے حوالے سے ایک تیز تر نظام قائم کیا جائے۔جیسے ہی کسی کمسن بچے یا بچی کے اغوا کی اطلاع ملے، پولیس کا ایک مخصوص ڈیجیٹل الرٹ سسٹم فوری فعال ہوجائے۔

بچے کی تصویر، عمر، لباس، آخری معلوم مقام اور دیگر ضروری معلومات متعلقہ پولیس یونٹس کو پہنچائی جائیں، اگر ممکن ہو تو قریبی CCTV کیمروں کی فوٹیج فوری حاصل کی جائے، مشتبہ گاڑیوں کی نقل و حرکت دیکھی جائے اور جیو فینسنگ کے ذریعے اس علاقے میں موجود متعلقہ ڈیجیٹل شواہد کا جائزہ لیا جائے۔اگر پولیس کو معلوم ہوجائے کہ بچی کسی دوسرے صوبے کی طرف لے جائی گئی ہے تو پھر اس کے لیے ایک بین الصوبائی Child Recovery Alert ہونا چاہیے جس سے اس سلسلے میں مدد لی جائے۔مثلاً کراچی میں کسی بچی کے اغوا کی اطلاع ملتی ہے اور تفتیش سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے پنجاب کی طرف لے جایا گیا ہے تو صرف ایک افسر کی فائل سیکریٹری داخلہ کے دفتر تک پہنچنے کا انتظار نہ ہو۔

دونوں صوبوں کے متعلقہ پولیس افسران کے درمیان ایک محفوظ اور قانونی ڈیجیٹل رابطہ قائم ہو، جس میں فوری طور پر کیس کی بنیادی معلومات شیئر کی جاسکیں۔ ضروری قانونی اجازت کے عمل کو بھی ہنگامی نوعیت کے مقدمات کے لیے تیز کیا جاسکے۔اسی طرح آج ایک تصویر چند منٹ میں ہزاروں اور لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے، اگر کسی بچے کے اغوا کے بعد پولیس تصدیق شدہ معلومات کے ساتھ فوری طور پر سوشل میڈیا پر الرٹ جاری کرے تو عوام بھی تلاش کا حصہ بن سکتے ہیں۔

بڑے شہروں میں ہزاروں کیمروں کی ویڈیو کو انسان ہر وقت نہیں دیکھ سکتا۔ ایسے نظام میں AI مشکوک حرکات، کسی مخصوص گاڑی، راستے یا وقت سے متعلق ویڈیو کو تیزی سے فلٹر کرنے میں مدد کرسکتا ہے۔ بڑے شہروں کے داخلی اور خارجی راستوں پر موجود کیمروں اور گاڑیوں کی شناخت کے نظام کو بھی بچوں کے اغوا کے کیسز میں فوری الرٹ کے ساتھ جوڑا جاسکتا ہے۔ضرورت صرف ٹیکنالوجی خریدنے کی نہیں بلکہ ایک مربوط نظام بنانے کی ہے۔ایک کمسن بچی یا بچے کے اغوا کے بعد پہلے 24 گھنٹے کو خصوصی اہمیت دی جانی چاہیے۔ اس دوران پولیس، CCTV، موبائل تفتیش، جیو فینسنگ، ٹرانسپورٹ ریکارڈ، بین الصوبائی پولیس رابطہ اور تصدیق شدہ سوشل میڈیا الرٹ کو ایک ہی کیس مینجمنٹ سسٹم میں مربوط کیا جاسکتا ہے۔

یہاں پولیس کے مسائل کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ افرادی قوت، وسائل، تربیت اور قانونی اختیارات کی اپنی اہمیت ہے۔ مذکورہ اخباری خبر میں بھی اسپیشل سیکسول آفنس انویسٹی گیشن یونٹ کے باوجود افرادی قوت، وسائل اور بین الصوبائی کارروائیوں سے متعلق انتظامی مشکلات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

آج ہمارے پاس CCTV ہے، جیو فینسنگ ہے، ڈیجیٹل نقشے ہیں، موبائل ٹیکنالوجی ہے، AI ہے، سوشل میڈیا ہے اور بین الصوبائی رابطے کے جدید ذرائع موجود ہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ ہم ان سب کو ایک مربوط نظام میں کب تبدیل کرتے ہیں؟

ریاست کا اصل امتحان صرف یہ نہیں کہ وہ مجرم کو گرفتار کرسکتی ہے یا نہیں۔اصل امتحان یہ ہے کہ جب ایک کمسن بچہ یا بچی غائب ہوتی ہے تو ریاست کتنی جلدی اسے تلاش کرنے کے لیے حرکت میں آتی ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے