’’125 سال سے مسلسل روشن دنیا کا واحد بلب‘‘
اے آئی کو چکما دینے والی شرٹ : حیرت انگیز ایجاد
جب ملازمہ کے سیب کھاتے ہی صدیوں پرانے نایاب ہیرے کی چوری پکڑی گئی
یہ شخص ’عورت‘ کیوں بن گیا؟ شاطرانہ چال!
تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان اور بھارت کی فلمی صنعت کو کئی باکمال گیت نگار ملے جنھوں نے رومانوی، المیہ شاعری کے ساتھ اپنے کلام میں مذہبی اور سماجی زندگی کی ترجمانی بھی نہایت خوب صورتی سے کی اور ان نغمات نے مقبولیت کا ریکارڈ قائم کیا۔ حسرت جے پوری بھارتی فلم انڈسٹری کے ایسے ہی گیت نگار تھے جن کے فلمی گیتوں نے برصغیر میں دھوم مچا دی تھی۔ آج حسرت جے پوری کی برسی ہے۔
فلم برسات 1949ء کی مقبول ترین فلم تھی جس کے لیے حسرت جے پوری نے پہلی مرتبہ گیت "چھوڑ گئے بالم مجھے ہائے اکیلا چھوڑ گئے” تحریر کیا۔ ان کا اصل نام اقبال حسین تھا۔ حسرت جے پوری 17 ستمبر 1999ء کو ممبئی میں انتقال کرگئے تھے۔ وہ 15 اپریل 1922ء کو جے پور میں پیدا ہوئے۔ اپنے شہر کی مناسبت سے اپنے تخلّص کے ساتھ جے پوری لکھنا شروع کیا اور فلمی دنیا میں شہرت کے زینے طے کیے۔ حسرت کو شاعری ورثے میں ملی۔ ان کے نانا فدا حسین فدا مشہور شاعر تھے۔ حسرت کی عمر 20 سال تھی جب شاعری شروع کی۔ فلمی سفر کا آغاز فلم برسات کے دو گانوں سے کیا۔ ان کا فلمی گیت جیا بے قرار ہے، چھائی بہار ہے، آجا مورے بالما تیرا انتظار ہے، آج بھی مقبول ہے۔
یوں تو حسرت جے پوری نے ہر طرح کے فلمی گیت لکھے لیکن فلموں کے ٹائٹل گیت لکھنے کے حوالے سے ان کا نام سرفہرت رہا۔ اس دور میں فلموں کے لیے ٹائٹل گیت لکھنا بڑی بات سمجھی جاتی تھی۔ یہ گیت فلموں کی تشہیر اور کام یابی کی ضمانت بن جاتے تھے۔ حسرت جے پوری کا ایک مقبول عام گیت 1966ء میں فلم سورج میں شامل تھا جس کے بول ہیں، بہارو پھول برساؤ میرا محبوب آیا ہے۔ اس گیت پر حسرت کو فلم فیئر ایوارڈ دیا گیا تھا۔
فلمی دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے حسرت نے بمبئی میں چند سال تک بس کنڈکٹر کے طور پر کام کیا۔ اس دوران شاعری کا شغل جاری رکھا اور مشاعرے بھی پڑھتے رہے۔ ایک مشاعرے میں ان کو پرتھوی راج نے سنا اور انہی کی وساطت سے حسرت جے پوری بطور نغمہ نگار فلمی دنیا سے وابستہ ہوئے تھے۔
