• اکتوبر 1, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 1, 2026 5:58 شام
  • پاکستان

ڈرون کو ماہرین کے حوالے کردیا گیا ہے تاکہ اس میں موجود معلومات اور ڈیٹا حاصل کیا جاسکے، ایرانی حکام

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی پاسدارانِ انقلاب کی بحری افواج نے آبنائے ہرمز میں ایک اور جدید امریکی بغیر پائلٹ زیرِ آب ڈرون قبضے میں لے لیا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ ایک خودکار زیرِ آب گاڑی ہے جو آبنائے ہرمز میں نگرانی اور جاسوسی کی سرگرمیوں میں مصروف تھی۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سرکاری میڈیا ادارے ’سپاہ نیوز‘ کے مطابق ڈرون کو ایک مربوط اور پیچیدہ کارروائی کے دوران قابو کیا گیا، جس میں انٹیلی جنس معلومات اور الیکٹرانک وارفیئر کی صلاحیتیں استعمال کی گئیں۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ قبضے میں لیے گئے ڈرون کو ماہرین کے حوالے کردیا گیا ہے تاکہ اس میں موجود معلومات اور ڈیٹا حاصل کیا جاسکے۔

ایران کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ اس نوعیت کا دوسرا امریکی زیرِ آب ڈرون ہے جسے حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز میں پکڑا گیا ہے۔ اس سے قبل ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ستمبر کے آغاز میں ایک ڈائیو ایل ڈی نامی امریکی خودکار زیرِ آب گاڑی کو بھی قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا تھا۔

تاہم اس دعوے کی امریکی جانب سے تصدیق نہیں ہوئی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایرانی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اپنے تمام فعال ڈرون اثاثوں کا کنٹرول برقرار رکھتا ہے۔ امریکی حکام نے ایرانی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا ہے۔

Iran says its forces have captured another "advanced smart" unmanned submarine belonging to the US Army in the Strait of Hormuz. In a statement on the IRGC's official news outlet Sepah News, the navy said the autonomous underwater vehicle (AUV), which was carrying out… pic.twitter.com/R74nvrEk3P — TRT World (@trtworld) October 1, 2026

Iran says its forces have captured another "advanced smart" unmanned submarine belonging to the US Army in the Strait of Hormuz. In a statement on the IRGC's official news outlet Sepah News, the navy said the autonomous underwater vehicle (AUV), which was carrying out… pic.twitter.com/R74nvrEk3P

بعد میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے زیرِ آب گاڑی کی شناخت موڈ ٹو کنگ فش کے طور پر بھی کی، جبکہ ابتدائی بیان میں اسے ریمس 600 سے کیا گیا تھا۔ اس لیے ڈرون کی حتمی شناخت سے متعلق ایرانی بیانات میں کچھ فرق سامنے آیا ہے۔

آبنائے ہرمز اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا ایک اہم مرکز ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے اور یہاں کسی بھی فوجی یا بحری واقعے کے عالمی توانائی مارکیٹ اور بین الاقوامی جہاز رانی پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے