• اکتوبر 6, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 6, 2026 10:18 شام
  • پاکستان

وائٹ ہاؤس نے امریکی صدر کے ایران کو لاس اینجلس اور سان ڈیاگو کو تباہ کرنے کے بیان کی وضاحت جاری کردی

وائٹ ہاؤس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس متنازع بیان کی وضاحت کرتے ہوئے تردید کی ہے جس میں انھوں نے ایران کو لاس اینجلس اور سان ڈیاگو کو نشانہ بنانے کی بات کی تھی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے پیر کو ریاست نیبراسکا میں وسط مدتی انتخابات کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ایران جنگ کے باعث بلند تیل قیمتوں کا دفاع کیا اور کہا کہ یہ دنیا اور امریکا کو محفوظ رکھنے کی قیمت ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ یہ قیمت تھوڑی زیادہ ہے لیکن دنیا کو اور اپنے ملک کے جان و مال کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ بہت معمولی قیمت ہے۔

انھوں نے اپنے مؤقف کے دفاع میں یہاں تک بھی کہا کہ وہ (ایران) ایک شہر کو ختم کرسکتے ہیں۔ انھیں لاس اینجلس کو ختم کرنے دیں، انھیں سان ڈیاگو کو ختم کرنے دیں۔ یہ بہت معمولی قیمت ہے اور یہ (جنگ کا سلسلہ) بہت جلد ختم ہونے والا ہے۔

صدر ٹرمپ کی تقریر کے ان الفاظ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئی جسے اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس نے الزام عائد کیا کہ صدر ٹرمپ ایران کے ہاتھوں امریکی شہروں کو تباہ کیے جانے کی بات کررہے ہیں۔

کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوسم نے کہا کہ صدر ٹرمپ اب کہہ رہے ہیں کہ غیر ملکی دشمن لاس اینجلس اور سان ڈیاگو کو ختم کردیں جبکہ ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک اقلیتی رہنما حکیم جیفریز نے کہا کہ کسی امریکی شہر کی جوہری تباہی مذاق کا موضوع نہیں۔

تاہم وائٹ ہاؤس نے ڈیموکریٹس کی اس تشریح کو مسترد کردیا۔ وائٹ ہاؤس کے ڈائریکٹر برائے مواصلات اسٹیون چیونگ نے کہا کہ صدر ٹرمپ واضح طور پر یہ بتارہے تھے کہ اگر ایران کو جوہری طاقت بننے سے نہ روکا جاتا تو امریکی شہر خطرے میں پڑسکتے تھے۔

وائٹ ہاؤس کے ریپڈ رسپانس اکاؤنٹ نے بھی لاس اینجلس ٹائمز کی اس سرخی پر اعتراض کیا جس میں کہا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کو لاس اینجلس اور سان ڈیاگو کو ختم کرنے کی اجازت دینے کی بات کی۔

ان کے بقول صدر ٹرمپ کا مطلب یہ تھا کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے جنگ کررہا ہے کیونکہ ایسی صورت میں ایران ان شہروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل کرسکتا تھا۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے