• ستمبر 27, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 27, 2026 5:48 شام
  • پاکستان

اے آئی سے ایک ارب افراد کی اموات، بل گیٹس نے خبردار کردیا

دو شوہروں اور بیٹے کا پراسرار قتل : پھانسی پانے والی عورت کی لرزہ خیز کہانی

شہزادہ ہیری نے وعدہ پورا کرنے کے لیے کینیڈا میں طیارے سے چھلانگ لگادی

شوہر کے دوسری لڑکی کیساتھ ڈانس کرنے پر ناراض بیوی نے انتہائی قدم اٹھا لیا

پاکستانی فلموں کے لیے منیر حسین نے کئی نغمات اپنی آواز میں‌ ریکارڈ کروائے جو آج بھی ہماری سماعتوں میں رس گھول رہے ہیں۔ ان میں وہ سدا بہار اور لازوال رومانوی گیت بھی شامل ہیں جنھیں شاید ایک نسل اپنے عہدِ شباب میں اکثر گنگناتی رہی ہے۔ یہ وہ نغمات ہیں‌ جن کے بول محبوب کے لیے شیریں اور لطیف احساسات سے سجے ہوئے ہیں، لیکن حیرت انگیز طور پر ایک گیت ایسا بھی ہے جس کے بول ایک عاشق کی زبان سے نکلی ہوئی بد دعائیں ہیں۔ اس کے چند بول ہیں:

قرار لوٹنے والے تو پیار کو ترسے میری وفا کو میرے اعتبار کو ترسے خدا کرے تیرا رنگیں شباب چھن جائے تیری شراب جوانی خمار کو ترسے تو روئے رات کی تنہائیوں میں اٹھ اٹھ کر تجھے قرار نہ آئے، قرار کو ترسے خدا کرے تیرے دل کی کلی کبھی نہ کھلے بہار آئے مگر تُو بہار کو ترسے

منیر حسین کی آواز میں یہ گیت بہت مقبول ہوا جو فلم ‘سات لاکھ’ میں شامل ہے۔ گلوکار منیر حسین 27 ستمبر 1995ء کو انتقال کرگئے تھے۔ آج ان کی برسی ہے۔ منیر حسین 1930ء میں‌ پیدا ہوئے۔ نوجوانی ہی سے سُر ساز اور آواز کو اپنے کیریئر کے طور پر دیکھنے لگے تھے۔ قیام پاکستان کے بعد منیر حسین نے یہاں فلم انڈسٹری میں‌ اپنی قسمت آزمائی اور کام یاب ہوئے۔ ان کا تعلق فنِ موسیقی سے وابستہ فن کاروں کے گھرانے سے تھا۔ یوں سُر اور ساز سے محبّت منیر حسین کو شروع ہی سے ہوگئی تھی۔ منیر حسین نے کلاسیکی موسیقی کی تربیت بھی پائی تھی۔ انھیں موسیقار صفدر حسین کے طفیل فلم ’’حاتم‘‘ کے لیے پہلی مرتبہ گانے کا موقع ملا۔ اس فلم کے لیے انھوں نے’’تیرے محلوں کی چھاؤں میں قرار اپنا لٹا بیٹھے‘‘ گایا اور بعد میں مشہور موسیقار رشید عطرے، خواجہ خورشید انور اور اے حمید نے بھی منیر حسین کو اپنی دھنوں پر آواز کا جادو جگانے کا موقع دیا۔ منیر حسین نے انھیں مایوس نہ کیا اور ان کے گیت مقبول ہوئے۔ منیر حسین کی آواز میں ’’قرار لوٹنے والے قرار کو ترسے نے ہر طرف دھوم مچا دی جس کے بعد نثار میں تری گلیوں پہ، دلا ٹھیر جا یار دار نظارا لیندے، اور اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارے جیسے گیتوں کے علاوہ منیر حسین نے خواجہ خورشید انور کی موسیقی میں رم جھم رم جھم پڑے پھوار جیسا گیت گایا اور بے مثال شہرت اور مقبولیت ان کے حصّے میں آئی۔ یہ گیت فلم کوئل میں شامل تھا۔

پاکستانی فلم انڈسٹری کے اس مشہور گلوکار کی تدفین لاہور میں مومن پورہ کے قبرستان میں کی گئی۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے