• ستمبر 25, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 25, 2026 8:01 شام
  • پاکستان

آرم ریسلر نے بچی کے والد سے جان بوجھ کر ہار کر سب کے دل جیت لیے

2300 سال سے زائد قدیم ارسطو کا اسکول دریافت

ملازم نے 10 ہزار روپے کم تنخواہ دینے پر فیکٹری کو آگ لگادی

شیرخوار بیٹی کو اوون میں ڈالنے والی ماں کو سزا ہوگئی

محی الدین قادری زورؔ اردو کے صاحبِ اسلوب ادیب، ماہرِ لسانیات، نقّاد اور محقق تھے جن کے علمی و ادبی کارناموں کی فہرست طویل ہے۔ زور صاحب کی تصانیف بلاشبہ زبان و ادب کا سرمایہ ہیں۔ یہ ڈاکٹر صاحب ہی تھے جنھوں‌ نے اصولِ تنقید متعارف کرایا اور ان کو لسانیات اور تنقید کے اوّلین علمبرداروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر محی الدین قادری زورؔ حیدرآباد دکن کی ان چند علمی و ادبی شخصیات میں شامل ہیں جن کی زندگی کا نصف صدی سے زائد عرصہ علم و ادب کی خدمت میں گزار گیا۔ محی الدین قادری زور کو اپنی مٹی اور تہذیب و تمدن سے خاص لگاؤ تھا۔ ان کی تصنیفات کے بیشتر حصے دکن کی قدیم یادگاروں، دکن کی زبان، حیدرآبادی ثقافتوں اور روایتوں، ریاست اور نظام کے تذکروں سے معمور ہیں۔

محی الدین زور 25 دسمبر 1905ء کو حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئے۔ ابتدئی تعلیم مدرسہ دارالعلوم سٹی اسکول میں ہوئی۔ 1927ء میں عثمانیہ کالج سے ایم۔ اے کی سند حاصل کی۔ ان کی ذہانت اور ادبی لگاؤ کو دیکھتے ہوئے فرمانروائے دکن کی جانب سے وظیفہ دیا گیا اور 1929ء میں زور صاحب لندن یونیورسٹی پی ایچ ڈی کرنے روانہ ہوئے۔ انھوں نے آریائی زبانوں پر ڈاکٹریٹ کا مقالہ لکھا۔ 1930ء میں فرانس میں لسانی تحقیق پر خصوصی تعلیم حاصل کی اور ہندوستاں لوٹے جہاں چندر گھاٹ کالج کے پرنسپل مقرر ہوئے۔ بعد میں جامعہ عثمانیہ کے شعبۂ اردو کے صدر مقرر ہوئے اور اپنی وفات تک کشمیر کی سری نگر یونیورسٹی میں اردو اور فارسی مطالعات کے شعبے میں خدمات انجام دیتے رہے۔ سید محی الدین قادری زور کا انتقال وہیں 25 ستمبر 1962ء کو ہوا تھا۔

ڈاکٹر زور نے کئی کتابیں لکھیں اور خاص طور پر علمی و ادبی تحقیق میں ان کا کام یادگار ہے۔ ہندوستانی لسانیات، اردو کے اسالیب بیان، ہندوستانی صوتیات، داستان حیدرآباد، متاع سخن، بادہ سخن، سیر گولکنڈہ، گولکنڈہ کے ہیرے، حیات محمد قلی قطب شاہ، کلیات محمد قلی قطب شاہ وغیرہ ان کی مشہور تصانیف ہیں۔ ان کے علاوہ محی الدین قادری زور نے قدیم ہزاروں مخطوطات کا اشاریہ اور اس پر تذکرے لکھے جو پانچ جلدوں میں شائع ہوا۔ محی الدین قادری زورؔ ایک انٹرویو میں بتاتے ہیں کہ ’’میں نے اسکول کے زمانے سے ہی شاعری شروع کر دی تھی جو کالج کے زمانے میں بھی جاری رہی۔ اس وقت حیدرآباد شعر و سخن کا مرکز تھا۔ حیدرآباد کے گلی کوچوں میں شعر و سخن کا چرچا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہر شخص شاعر بن سکتا ہے لیکن ادیب، نقاد اور محقق بننا ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہ تھی۔ ہمارے کالج کے استاد وحید الدین سلیم ہمیشہ اردو کی جدید ضرورتوں کی طرف متوجہ کرتے رہتے تھے اس لیے میں نے بھی عام راستے سے ہٹ کر نئے نئے کام کرنے اور اپنی مادر جامعہ کا نام روشن کرنے کی خاطر شاعری کی جگہ نثر اور اس میں بھی تحقیق و تنقید کی طرف خاص توجہ کی۔‘‘

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے