آرم ریسلر نے بچی کے والد سے جان بوجھ کر ہار کر سب کے دل جیت لیے
2300 سال سے زائد قدیم ارسطو کا اسکول دریافت
ملازم نے 10 ہزار روپے کم تنخواہ دینے پر فیکٹری کو آگ لگادی
شیرخوار بیٹی کو اوون میں ڈالنے والی ماں کو سزا ہوگئی
ملک بھر میں نئے صوبوں کے قیام، خصوصی انتظامی یونٹس بنانے اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرکے بلدیاتی نمائندوں کو زیادہ بااختیار بنانے پر بحث جاری ہے۔ سیاسی و غیر سیاسی جماعتیں اور مختلف تنظیمیں اس کے حق اور مخالفت میں بیانات دے رہی ہیں، لیکن اس پوری بحث میں ایک بنیادی سوال غائب ہے۔ نئے یا موجودہ انتظامی نظام میں کراچی کے بڑھتے ہوئے موسمیاتی اور ماحولیاتی خطرات سے کیسے نمٹا جائے گا؟
اگر شدید گرمی، پانی کی قلت، شہری سیلاب، فضائی آلودگی اور ساحلی خطرات نہ پرانے نظام کی ترجیحات میں شامل تھے اور نہ نئے نظام کی بحث میں انہیں اہمیت دی جا رہی ہے تو کیا صرف انتظامی ڈھانچہ بدلنے سے شہر کی صورتِ حال بہترہو جائے گی؟ نظام کوئی بھی ہو، ماحول کو اس کا بنیادی حصہ بنائے بغیر کراچی کے اصل مسائل بدستور نظرانداز ہوتے رہیں گے۔
کراچی کو الگ صوبہ بنایا جائے، خصوصی انتظامی یونٹ قرار دیا جائے یا اس کے اختیارات بلدیاتی نمائندوں کو منتقل کر دیے جائیں، ان میں سے کوئی بھی فیصلہ اس وقت تک شہر کی تقدیر نہیں بدل سکتا جب تک ماحول اور موسمیاتی تحفظ کو نئے نظام کا مرکزی حصہ نہ بنایا جائے۔ محض اختیارات ایک دفتر سے دوسرے دفتر یا ایک حکومت سے دوسری حکومت کو منتقل کرنے سے پانی، کچرے، آلودگی، شدید گرمی، شہری سیلاب اور ساحلی خطرات ختم نہیں ہوں گے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ اختیار کس کے پاس ہوگا، اصل سوال یہ ہے کہ اختیار کس مقصد، کس سوچ اور کس جواب دہی کے ساتھ استعمال کیا جائے گا۔
ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم کراچی کو صرف آج کی ضرورتوں اور موجودہ سیاسی مفادات کے مطابق دیکھ رہے ہیں۔ ہم یہ طے کرنے میں مصروف ہیں کہ زمین کس ادارے کے پاس ہوگی، ترقیاتی بجٹ کون خرچ کرے گا، عمارتوں کے نقشے کون منظور کرے گا اور شہری آمدنی پر اختیار کس کا ہوگا۔ لیکن ہم یہ نہیں پوچھ رہے کہ آج سے تقریباً پچیس سال بعد 2050 میں کراچی کیسا ہوگا اور ہماری آج کی منصوبہ بندی کے نتائج اس وقت کے شہریوں کو کس صورت میں بھگتنا پڑیں گے۔
آج جو بچے اسکول جا رہے ہیں، وہ 2050 میں اس شہر کی عملی زندگی کا حصہ ہوں گے۔ وہ روزگار کریں گے، خاندان بنائیں گے، گھروں، سڑکوں، ہسپتالوں، پانی، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اسی نظام پر انحصار کریں گے جو ہم آج تعمیر کر رہے ہیں۔ وہ اسی ہوا میں سانس لیں گے جسے ہم آج گاڑیوں، صنعتوں، ڈیزل جنریٹرز، تعمیراتی دھول اور کچرا جلانے سے آلودہ کر رہے ہیں۔ وہ اسی پانی کو استعمال کریں گے جسے ہم آج ضائع یا آلودہ کر رہے ہیں۔ وہ انہی ساحلی علاقوں، برساتی نالوں اور کھلی زمینوں کے درمیان زندگی گزاریں گے جن پر ہم آج تعمیرات کی اجازت دے رہے ہیں۔
کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے سوچا ہے کہ ہم ان کے لیے کیسا کراچی چھوڑ رہے ہیں؟ ممکن ہے کہ 2050 کا کراچی آج سے زیادہ بلند عمارتوں، وسیع شاہراہوں، جدید تجارتی مراکز اور مہنگے رہائشی منصوبوں کا شہر ہو، لیکن اگر وہاں پینے کا صاف پانی دستیاب نہ ہو، ہوا سانس لینے کے قابل نہ رہے، گرمی کے دوران باہر نکلنا خطرناک ہو، چند گھنٹوں کی بارش پورے شہر کو مفلوج کر دے اور ساحلی آبادیاں مسلسل خطرے میں ہوں تو کیا ہم اسے ترقی یافتہ کراچی کہیں گے؟
ہم ترقی کو کنکریٹ کی مقدار سے ناپنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ نئی عمارت، نئی سڑک اور نیا تجارتی منصوبہ ہمیں فوراً نظر آتا ہے، جبکہ محفوظ پانی، صاف ہوا، نکاسی آب، سبزہ، درخت اور قدرتی زمین کے فوائد آہستہ آہستہ سامنے آتے ہیں۔ یہی بنیادی وجہ ہے کہ ہمارے ترقیاتی فیصلوں میں فوری طور پر دکھائی دینے والے منصوبوں کو ترجیح ملتی ہے اور ماحول کو ایک ثانوی مسئلہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ دنیا اب اس حقیقت کو تسلیم کر چکی ہے کہ ماحول ترقی کا الگ شعبہ نہیں بلکہ ہر پائیدار ترقی کی بنیاد ہے۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی 2023 کی مردم شماری کے مطابق کراچی ڈویژن کی آبادی 2 کروڑ 3 لاکھ 82 ہزار 881 تھی (اس پر سوالیہ نشان ثبت ہے) اتنی بڑی آبادی کے باوجود شہر کا انتظام متعدد وفاقی، صوبائی، بلدیاتی، کنٹونمنٹ، بندرگاہی اور ترقیاتی اداروں میں تقسیم ہے۔ کہیں سڑک ایک ادارے کی ذمہ داری ہے، پانی دوسرے کے اختیار میں ہے، نکاسی آب کسی تیسرے کے پاس ہے اور زمین یا عمارت کی منظوری کوئی چوتھا ادارہ دیتا ہے۔ یہ تقسیم صرف انتظامی الجھن پیدا نہیں کرتی بلکہ ذمہ داری سے بچنے کا راستہ بھی فراہم کرتی ہے۔ بارش میں شہر ڈوبے، کچرا نالوں میں جائے، پانی نہ ملے یا درخت کاٹے جائیں تو ہر ادارہ ذمہ داری کسی دوسرے پر ڈال دیتا ہے۔
اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی بھی اسی وقت مفید ہوگی جب اس کے ساتھ ذمہ داری اور جواب دہی بھی منتقل ہو۔ اگر مقامی ادارے کو عمارتیں، سڑکیں اور تجارتی منصوبے منظور کرنے کا اختیار تو مل جائے، لیکن قدرتی نالوں، ساحلی زمین، مینگرووز، پارکوں اور کھلی جگہوں کے تحفظ کی قانونی ذمہ داری نہ دی جائے تو یہی اختیار شہر کے ماحولیاتی نقصان کو مزید تیز کر سکتا ہے۔ہمیں کراچی کو صرف بااختیار شہر نہیں بلکہ موسمیاتی خطرات کا مقابلہ کرنے کے قابل شہر، یعنی کلائمیٹ ریزیلینٹ سٹی بنانے کی ضرورت ہے۔ ایسا شہر جو خطرات کا انتظار نہ کرے بلکہ انہیں پہلے سے پہچانے، اپنی عمارتوں اور شہری سہولتوں کو ان کے مطابق بنائے، کمزور آبادیوں کو تحفظ دے اور کسی آفت کے بعد کم سے کم جانی و مالی نقصان کے ساتھ دوبارہ معمول پر آسکے۔
مئی 2025 میں جاری ہونے والے کراچی کلائمٹ ایکشن پلان نے بھی شہر کی موسمیاتی کمزوری اور فوری اقدامات کی ضرورت کو تسلیم کیا۔ لیکن ہمارے ہاں منصوبے تیار کرنے اور ان پر عمل کرنے کے درمیان ایک طویل فاصلہ موجود رہتا ہے۔ منصوبے، پالیسیاں اور اعلانات اس وقت تک شہر کو محفوظ نہیں بنا سکتے جب تک ان کے ساتھ واضح بجٹ، مدت، ذمہ دار ادارے اور عوامی جواب دہی نہ ہو۔
عالمی اداروں کی پیش گوئیاں بھی ہمارے سامنے ہیں۔ عالمی بینک کی پاکستان کنٹری کلائمیٹ اینڈ ڈیولپمنٹ رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی بگاڑ کے مشترکہ اثرات کی وجہ سے پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار 2050 تک اس سطح سے کم از کم 18 سے 20 فیصد کم ہو سکتی ہے جہاں وہ ان نقصانات کے بغیر پہنچ سکتی تھی۔یہ تخمینہ صرف کراچی کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا ہے، تاہم ملک کے سب سے بڑے صنعتی، مالیاتی، تجارتی اور بندرگاہی مرکز کی حیثیت سے کراچی اس معاشی نقصان سے الگ نہیں رہ سکتا۔ اس کے برعکس، قومی معیشت میں شہر کے غیر معمولی کردار کے باعث موسمیاتی اور ماحولیاتی نقصانات کے اثرات کراچی کی صنعت، تجارت، روزگار، بندرگاہی سرگرمیوں اور شہری سہولتوں پر کہیں زیادہ نمایاں اور دور رس ہو سکتے ہیں۔
شدید گرمی کے باعث کام کے محفوظ اوقات کم ہوں گے تو مزدوروں کی صحت اور آمدنی متاثر ہوگی۔ پانی کی قلت بڑھے گی تو صنعتوں اور کاروباروں کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگا۔ شدید بارش سے سڑکیں اور بندرگاہی راستے بند ہوں گے تو تجارت متاثر ہوگی۔ آلودہ ہوا بیماریوں اور علاج کے اخراجات میں اضافہ کرے گی۔ اس طرح ماحولیاتی نقصان صرف درختوں، پرندوں یا ساحل تک محدود نہیں رہے گا بلکہ معیشت، روزگار اور ہر گھر کے بجٹ تک پہنچے گا۔
بین الحکومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی، یعنی آئی پی سی سی، نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ 2050 تک عالمی اوسط سطحِ سمندر 1995 سے 2014 کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 15 سے 29 سینٹی میٹر بلند ہو سکتی ہے۔ یہ کراچی کے ساحل کا الگ تخمینہ نہیں بلکہ عالمی اوسط ہے، کیونکہ کسی مخصوص مقام پر حقیقی اضافہ مقامی زمینی اور سمندری حالات کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود یہ پیش گوئی کراچی جیسے ساحلی شہر کے لیے واضح انتباہ ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ 2050 میں پورا کراچی اچانک سمندر میں ڈوب جائے گا۔ خطرہ اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ سطحِ سمندر میں اضافہ ساحلی کٹاؤ، بلند لہروں اور سمندری طوفانوں کے اثرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔ نشیبی ساحلی علاقوں میں پانی زیادہ اندر تک پہنچ سکتا ہے، زیرِ زمین پانی میں نمکیات بڑھ سکتی ہیں اور بندرگاہی، صنعتی، رہائشی اور نکاسی آب کے نظام پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔
اس کے باوجود آج کے کراچی میں ساحل کو قدرتی تحفظ اور مشترکہ ماحولیاتی اثاثہ سمجھنے کے بجائے قیمتی تجارتی زمین کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ساحلی علاقوں میں زمین کی بھرائی اور تعمیرات جاری ہیں، مینگرووز اور قدرتی ماحول کو نقصان پہنچ رہا ہے، جبکہ پانی کے فطری بہاؤ میں بھی رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔ ان سرگرمیوں سے موجودہ وقت میں چند افراد یا اداروں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، لیکن ان کے ماحولیاتی اور معاشی نقصانات آنے والی نسلوں کو برداشت کرنا پڑیں گے۔ ساحلی زمین کو ایک مرتبہ کنکریٹ سے بھر دینے اور اس کا قدرتی نظام تباہ کرنے کے بعد اسے اصل حالت میں بحال کرنا انتہائی مشکل اور مہنگا ہو جاتا ہے۔
اگر یہی صورتِ حال برقرار رہی تو 2050 تک کراچی کے ساحلی علاقوں کو بڑھتی ہوئی سطحِ سمندر، بلند لہروں، ساحلی کٹاؤ، سمندری طوفانوں اور بارش کے پانی کی نکاسی میں رکاوٹ جیسے خطرات کا زیادہ شدت سے سامنا ہو سکتا ہے۔ نشیبی بستیاں، ساحلی سڑکیں، صنعتی تنصیبات اور بندرگاہی سرگرمیاں زیادہ غیر محفوظ ہو سکتی ہیں، جبکہ سمندری پانی کے زیرِ زمین ذخائر میں داخل ہونے سے میٹھے پانی کے معیار پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ یوں آج ساحلی زمین سے حاصل کیا جانے والا محدود تجارتی فائدہ 2050 تک شہر کے لیے کہیں زیادہ بڑے مالی، سماجی اور ماحولیاتی نقصان میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
کراچی کے لیے شدید گرمی مستقبل کا خطرہ ہی نہیں بلکہ موجودہ حقیقت بھی ہے۔ جون 2015 کی گرمی کی لہر میں کراچی اور سندھ میں حکومتی اعداد کے مطابق ایک ہزار سے زیادہ افراد جان سے گئے۔ مختلف ذرائع میں اموات کی تعداد کہیں زیادہ بیان ہوئی، لیکن اس سانحے کی شدت پر کوئی اختلاف نہیں اس کے ساتھ تشویشناک امر یہ ہے کہ گرمی کی شدت میں ہر گزرتے سال کے ساتھ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس امر نے ثابت کیا کہ گرمی صرف درجہ حرارت کا نام نہیں۔ بجلی کی بندش، پانی کی قلت، کم درخت، زیادہ کنکریٹ، گنجان آبادیاں، غربت اور کمزور طبی نظام مل کر گرم موسم کو جان لیوا بناتے ہیں۔ شہر کی سڑکیں اور عمارتیں دن کے وقت حرارت جذب کرکے رات کو خارج کرتی ہیں۔ اس وجہ سے کم درختوں اور زیادہ تعمیرات والے علاقوں میں رات کے وقت بھی درجہ حرارت مناسب حد تک کم نہیں ہوتا۔ آنے والے برسوں میں زیادہ شدید اور طویل گرمی کی لہریں کھلے ماحول میں کام کرنے والے مزدوروں، ٹریفک پولیس، تعمیراتی کارکنوں، رکشہ اور موٹر سائیکل سواروں، بزرگوں، بچوں اور کچی آبادیوں کے رہائشیوں کو سب سے زیادہ متاثر کریں گی۔
پانی کے معاملے میں بھی ہماری سوچ موجودہ بحران سے آگے نہیں بڑھ رہی۔ کراچی میں پانی کی قلت صرف محدود فراہمی کی وجہ سے نہیں بلکہ ناقص تقسیم، پرانی لائنوں، رساؤ، چوری اور غیر مساوی رسائی سے بھی پیدا ہوتی ہے۔ بعض علاقوں کو سرکاری لائنوں سے پانی ملتا ہے، جبکہ بہت سے شہری مہنگے ٹینکر خریدنے پر مجبور ہیں۔ نئے رہائشی اور تجارتی منصوبے تو منظور کیے جاتے ہیں، لیکن اکثر یہ واضح نہیں کیا جاتا کہ ان کے لیے اضافی پانی کہاں سے آئے گا اور ان کا سیوریج کہاں جائے گا۔2050تک آبادی اور پانی کی طلب میں مزید اضافہ ہوگا۔ اگر آج پرانی لائنوں کی مرمت، رساؤ کی روک تھام، منصفانہ تقسیم، بارش کے پانی کو محفوظ کرنے اور استعمال شدہ پانی کو صاف کرکے دوبارہ کام میں لانے کا نظام قائم نہ کیا گیا تو آنے والی نسلوں کو ایسا شہر مل سکتا ہے جہاں صاف پانی شہری حق کے بجائے مہنگی تجارتی چیز بن جائے۔
یہ کتنی بڑی ستم ظریفی ہے کہ کراچی ایک ہی وقت میں پانی کی قلت اور شہری سیلاب کا شکار ہے۔ گرمی میں لوگ پانی کے لیے پریشان ہوتے ہیں اور بارش کے دوران یہی پانی گھروں، سڑکوں اور بازاروں میں داخل ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ صرف شدید بارش نہیں بلکہ نالوں پر تعمیرات، کچرے کی رکاوٹ، سیوریج اور برساتی پانی کا ملا ہوا نظام، نشیبی علاقوں میں آبادیاں اور کھلی زمین کا مسلسل ختم ہونا ہے۔ہم نے بارش کے پانی کے قدرتی راستوں کو عمارتوں، سڑکوں اور تجارتی منصوبوں کے لیے استعمال کیا اور پھر بارش کو شہری تباہی کا ذمہ دار قرار دے دیا۔ ہم ہر سال نالوں کی صفائی کے عارضی اقدامات کرتے ہیں، لیکن یہ نہیں پوچھتے کہ شہر کی زمین پانی جذب کرنے کی صلاحیت کیوں کھو رہی ہے۔ 2050 میں زیادہ بڑی آبادی اور زیادہ پھیلے ہوئے شہر کو شدید بارش سے بچانا آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل اور مہنگا ہوگا۔کیا ہم اس کے لیے کوئی بات کر رہے ہیں۔
فضائی آلودگی بھی کراچی کے مستقبل پر خاموش حملہ ہے۔ پرانی گاڑیاں، ناقص ایندھن، صنعتی اخراج، تعمیراتی دھول، کچرا جلانے اور ڈیزل جنریٹرز شہر کی ہوا کو متاثر کر رہے ہیں۔ باریک آلودہ ذرات، خصوصاً پی ایم 2.5، پھیپھڑوں میں گہرائی تک داخل ہو سکتے ہیں اور دل، پھیپھڑوں اور سانس کی بیماریوں کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔ اس کے باوجود کراچی میں فضائی معیار کی مستقل، قابلِ اعتماد اور عوام کے لیے دستیاب نگرانی کا مؤثر نظام موجود نہیں۔ جب ہمیں یہ بھی معلوم نہ ہو کہ کس علاقے کی ہوا کتنی آلودہ ہے اور آلودگی کا بڑا ذریعہ کیا ہے تو ہم اس مسئلے کے حل کی کامیابی کیسے ناپ سکتے ہیں؟ آنے والی نسلوں کو صاف ہوا دینے کے لیے صرف شجرکاری مہم کافی نہیں ہوگی۔ صاف عوامی ٹرانسپورٹ، بہتر ایندھن، صنعتی نگرانی، تعمیراتی دھول پر قابو اور کچرا جلانے کی روک تھام بھی ضروری ہے۔
کراچی میں موسمیاتی خطرات سب کو یکساں طور پر متاثر نہیں کریں گے۔ خوش حال شہری پانی خرید سکتے ہیں، متبادل بجلی پیدا کر سکتے ہیں، ایئرکنڈیشنر استعمال کر سکتے ہیں اور بہتر علاج حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن کراچی کی 60 فیصد سے زائدآبادیوں، ساحلی بستیوں اور صنعتی علاقوں کے قریب رہنے والے خاندانوں کے پاس ایسے وسائل موجود نہیں۔ اس لیے کراچی کا موسمیاتی بحران ماحولیاتی مسئلے کے ساتھ معاشرتی انصاف کا مسئلہ بھی ہے۔ شہر کا کوئی بھی نیا انتظامی نظام اسی وقت منصفانہ ہوگا جب وہ غریب اور کمزور آبادیوں کو ترقیاتی منصوبوں کی قیمت ادا کرنے پر مجبور نہ کرے۔ انہیں محفوظ مکانات، صاف پانی، نکاسی آب، سایہ دار مقامات، بنیادی صحت اور ہنگامی پناہ گاہیں فراہم کرنا کسی بھی نظام کی موسمیاتی منصوبہ بندی کا بنیادی حصہ ہونا چاہیے۔ کراچی کے مستقبل کے لیے ہمیں ترقی کا پیمانہ بدلنا ہوگا۔ کسیبھی نئے یا پرانے نظام کی کامیابی صرف اس بات سے نہیں ناپی جانی چاہیے کہ اس نے کتنی سڑکیں، فلائی اوورز، بلند عمارتیں یا تجارتی مراکز بنائے۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ اس نے صاف پانی تک رسائی کتنی بڑھائی، فضائی آلودگی کتنی کم کی، کتنے درخت اور کھلے مقامات محفوظ کیے، نکاسی آب کتنی بہتر بنائی اور شدید گرمی اور سیلاب سے کتنی جانیں بچائیں۔
ہر بڑے منصوبے کی منظوری سے پہلے یہ معلوم کرنا ضروری ہونا چاہیے کہ وہ 2050 میں کراچی کی گرمی، پانی، آلودگی، ٹریفک، سیلاب اور ساحلی خطرات پر کیا اثر ڈالے گا۔ ماحولیاتی اثرات کا جائزہ محض منظوری حاصل کرنے کی رسمی کارروائی نہیں بلکہ فیصلہ سازی کی اصل بنیاد ہونا چاہیے۔ اس جائزے میں آزاد ماہرین، جامعات، مقامی آبادیوں، ماہی گیروں، صحافیوں اور شہری تنظیموں کی مؤثر شرکت بھی ضروری ہے۔
کراچی کے اختیارات آج یا کل جس ادارے کے بھی پاس ہوں اسے ہر سال اپنی ماحولیاتی کارکردگی عوام کے سامنے پیش کرنے کا پابند بنایا جائے۔ اسے بتانا چاہیے کہ شہر میں کتنے درخت کاٹے اور کتنے محفوظ کیے گئے، پانی کی کتنی مقدار ضائع ہوئی، کتنے علاقوں میں فضائی معیار کی نگرانی ہوئی، کتنے نالوں اور قدرتی راستوں کو تجاوزات سے بچایا گیا اور ترقیاتی بجٹ کا کتنا حصہ موسمیاتی تحفظ پر خرچ ہوا۔
اختیار اگر جواب دہی کے بغیر دیا جائے تو وہ خدمت کے بجائے زمین، وسائل اور تعمیرات پر کنٹرول کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ کراچی کو صرف زیادہ اختیارات نہیں بلکہ ماحول دوست، سائنسی اور جواب دہ اختیارات درکار ہیں۔20250کوئی بہت دور کا زمانہ نہیں۔ آج کے بچے اس وقت اسی شہر کے شہری، والدین، ملازمین، کاروباری افراد، صحافی، اساتذہ، سائنس دان اور فیصلہ ساز ہوں گے۔ وہ ہم سے پوچھیں گے کہ جب عالمی ادارے مسلسل خبردار کر رہے تھے، جب کراچی شدید گرمی، شہری سیلاب، پانی کی قلت اور آلودگی کا سامنا کر رہا تھا اور جب تمام نشانیاں ہمارے سامنے موجود تھیں تو ہم نے بروقت اقدام کیوں نہیں کیا؟
وہ پوچھیں گے کہ کیا ہمارے لیے زمین کی قیمت انسانی زندگی سے زیادہ اہم تھی؟ کیا چند برسوں کا تجارتی فائدہ شہر کے طویل مستقبل سے بڑا تھا؟ کیا ہم نے صرف اپنے گھروں، کاروباروں اور سہولتوں کے بارے میں سوچا اور ان لوگوں کو بھول گئے جو ہمارے بعد اس شہر میں زندگی گزارنے والے تھے؟سچ تو یہ ہے کہ ہم کراچی کو اپنی ملکیت سمجھ کر استعمال کر رہے ہیں، حالاں کہ یہ شہر آنے والی نسلوں کی امانت بھی ہے۔ ہمیں اس سے ضروریات پوری کرنے کا حق ضرور حاصل ہے، لیکن اس کی ہوا، پانی، زمین، ساحل اور قدرتی تحفظ تباہ کرکے اگلی نسل کے حوالے کرنے کا اخلاقی حق حاصل نہیں۔
کراچی کی انتظامی حیثیت جو بھی ہو، اس کے مستقبل کا فیصلہ آج ہوگا اور اس کا حساب 2050 میں لیا جائے گا۔ اگر ماحول کو شہر کی حکمرانی کا مرکزی نقطہ بنا دیا گیا تو کسی بھی قسم کے اختیارات کی منتقلی کراچی کو زیادہ محفوظ، صحت مند اور قابلِ رہائش شہر بنانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ لیکن اگر ماحول کو ایک ثانوی موضوع سمجھ کر نظرانداز کیا گیا تو نئے صوبے، انتظامی یونٹ یا بااختیار بلدیاتی نظام کے باوجود شہر کے بنیادی مسائل اپنی جگہ برقرار رہیں گے۔
2050 میں بلند عمارتیں بھی موجود ہوں گی، نئی سڑکیں بھی، بڑے تجارتی منصوبے بھی اور کوئی نیا یا پرانا نظام بھی لیکن کراچی زیادہ گرم، زیادہ آلودہ، پانی کے لیے زیادہ پریشان اور قدرتی آفات کے سامنے زیادہ بے بس ہوگا۔ تب آنے والی نسلیں ہمیں شاید کبھی معاف نہ کریں، کیونکہ انہیں معلوم ہوگا کہ ہم خطرات سے ناواقف نہیں تھے۔ ہمارے پاس معلومات بھی تھیں، ممکنہ حل بھی اور عمل کرنے کا وقت بھی، لیکن ہم نے کراچی کے مستقبل کے بجائے صرف اپنے آج کے بارے میں سوچا۔ اور سب سے تکلیف دہ لمحہ وہ ہوگا جب آج ہماری آنکھوں کے تارے، کل تاریخ کے سامنے کھڑے ہوکر ہماری نسل کے بارے میں یہ فیصلہ دیں گے کہ ہم انہیں محفوظ مستقبل دے سکتے تھے، مگر ہم نے ایسا نہیں کیا۔ وہ ہمارے بارے میں کیا محسوس کریں گے، شاید یہ خیال ہی آج ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی ہو۔
