• ستمبر 15, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 15, 2026 4:18 صبح
  • پاکستان

سہیل آفریدی کا رات کو لاہور میں پارٹی رہنما کے گھر قیام کا امکان ہے

لاہور میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی قیادت میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اظہار یکجہتی کے لیے اسٹریٹ موومنٹ جاری رہی جس کے دوران مختلف مقامات پر کارکنوں کی بڑی تعداد نے ان کے قافلے کا استقبال کیا پولیس اور کارکنوں میں دھکم پیل ہوئی، وزیراعلیٰ پولیس وین کے سامنے کھڑے ہوگئے اور بعد ازاں احتجاجاً پولیس گاڑی میں بیٹھ گئے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے لاہور پہنچنے پر پولیس کی جانب سے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے تھے۔ سہیل آفریدی نے اشتیاق خان مرحوم کے اہل خانہ سے تعزیت کی، جس کے بعد داتا دربار کے لیے روانہ ہوئے تو راستے میں مختلف مقامات پر کارکنوں اور شہریوں نے ان کے قافلے کا بھرپور استقبال کیا۔

سہیل آفریدی جگہ جگہ قافلہ روک کر گاڑی کی چھت پر آتے اور کارکنوں کے نعروں کا جواب دیتے رہے۔ ایک موریہ پل کے قریب وزیراعلیٰ گاڑی سے باہر نکل آئے، جہاں درجنوں کارکنوں نے انہیں گھیر لیا۔ وزیراعلیٰ نے کارکنوں کو اپنی گاڑی کی چھت پر بھی بلایا، جبکہ کئی کارکن ان سے ملاقات کے دوران آبدیدہ ہوگئے۔

سہیل آفریدی کارکنوں سے گرمجوشی سے ملتے رہے اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کے حق میں لگائے جانے والے نعروں کا جواب بھی دیتے رہے۔

مختلف مقامات پر کارکنوں اور پولیس اہلکاروں کے درمیان دھکم پیل اور تلخ کلامی کے واقعات بھی پیش آئے، اس دوران سہیل آفریدی پولیس اہلکاروں سے کارکنوں کو چھڑواتے رہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے پنجاب پولیس کی سیکیورٹی لینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے پنجاب پولیس کی ضرورت نہیں، میں پنجابی ہوں، میں پاکستانی ہوں، مجھے آپ کی سیکیورٹی نہیں چاہیے، میں آپ کی سیکیورٹی لینے سے انکار کرتا ہوں۔ تاہم لاہور پولیس، ڈولفن اور ایلیٹ فورس کے اہلکار قافلے کے ہمراہ موجود رہے اور سیکیورٹی فراہم کرتے رہے۔

ریگل چوک پہنچنے پر بھی کارکنوں کی بڑی تعداد نے سہیل آفریدی کا استقبال کیا۔ وزیراعلیٰ گاڑی پر کھڑے ہوکر عمران خان کے حق میں نعرے لگاتے رہے اور اپنے موبائل فون سے سیلفی ویڈیو بھی بنائی۔

بعد ازاں پولیس کی جانب سے کارکنوں کی مبینہ گرفتاریوں پر سہیل آفریدی پولیس پریزنر وین کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ انہوں نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک میرے کارکنوں کو رہا نہیں کیا جائے گا، میں آگے نہیں جاؤں گا۔

سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ پولیس ان کے ایم پی اے اور کارکنوں کے ساتھ بدتمیزی کر رہی ہے اور پولیس کا رویہ درست نہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اس معاملے پر معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ کے اراکین خیبرپختونخوا آئے تو ہم نے ان کے ساتھ ایسا رویہ اختیار نہیں کیا، پھر ن لیگ ایسا رویہ کیوں اختیار کر رہی ہے۔

بعد ازاں سہیل آفریدی احتجاجاً پولیس وین کے قریب موجود رہے اور پولیس گاڑی میں بیٹھ گئے۔ پولیس افسر کی جانب سے گاڑی سے اترنے کا کہا گیا تاہم وہ نہ اترے، جس کے بعد پولیس وین روانہ ہوگئی۔ سہیل آفریدی کے پولیس گاڑی سے نکلنے کے بعد کارکن مشتعل ہوگئے۔

پولیس کی گاڑی سہیل آفریدی کو لکشمی چوک لے گئی، جہاں انہیں اتار دیا گیا۔ وزیراعلیٰ لکشمی چوک کے فٹ پاتھ پر بیٹھ گئے اور کارکنوں کے ہمراہ دھرنا دے دیا۔ بڑی تعداد میں کارکن بھی لکشمی چوک پہنچ گئے اور علاقہ پارٹی کے حق میں نعروں سے گونج اٹھا۔ بعد ازاں سہیل آفریدی فٹ پاتھ سے اٹھ کر اپنی گاڑی کی چھت پر کھڑے ہوگئے۔

اس دوران لکشمی چوک کی بجلی بند ہونے سے علاقہ کچھ دیر کے لیے اندھیرے میں ڈوب گیا جبکہ پولیس کی بھاری نفری بھی موقع پر موجود رہی۔ پولیس کے مطابق سہیل آفریدی کو گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ وہ اپنی مرضی سے پولیس کی گاڑی میں بیٹھ کر لکشمی چوک پہنچے تھے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی نے الزام عائد کیا کہ وزیراعلیٰ کو پولیس گاڑی میں لے جانے کے ذریعے انہیں اغوا کرنے کی کوشش کی گئی۔

لکشمی چوک میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ ایک وزیراعلیٰ کو پولیس وین میں اٹھا کر لکشمی چوک میں پھینک دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اپنی سیکیورٹی بھی موجود نہیں تھی اور وہ تقریباً 15 منٹ تک بغیر سیکیورٹی سڑک پر موجود رہے، بعد ازاں کارکن ان تک پہنچے۔

سہیل آفریدی نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے مبینہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں تین صوبوں سے خطرہ ہے اور بھارت سے خطرہ نہیں تو یہ پاکستان کو تقسیم کرنے کی کوشش ہے۔

بعد ازاں سہیل آفریدی کا قافلہ لکشمی چوک سے شملہ پہاڑی، ایبٹ روڈ اور ایمپریس روڈ کی جانب روانہ ہوا۔ منٹگمری چوک میں قافلہ گاڑیوں میں پیٹرول ڈلوانے کے لیے ایک پٹرول پمپ پر پہنچا، تاہم قافلے کی آمد سے قبل مبینہ طور پر پٹرول پمپ اور ملحقہ مارکیٹ بند کرا دی گئی۔ وزیراعلیٰ کا قافلہ تقریباً 10 منٹ تک پیٹرول کا انتظار کرتا رہا، بعد ازاں پولیس کی مداخلت پر کمپنی مالک نے قافلے کی گاڑیوں میں پیٹرول ڈلوایا۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا قافلہ ایمپریس روڈ سے گزرتا ہوا مال روڈ کلب چوک پہنچا، جہاں سے لبرٹی چوک کی جانب روانہ ہوا۔ بعد ازاں قافلہ مال روڈ مسجد خضری سے کینال روڈ کی جانب گامزن ہوگیا۔

قافلے کے جگہ جگہ رکنے اور کارکنوں کی بڑی تعداد میں شرکت کے باعث لاہور کے مختلف علاقوں میں ٹریفک کا شدید دباؤ بھی دیکھا گیا۔ ریلوے اسٹیشن، ایک موریہ پل، اکبری مارکیٹ روڈ، دہلی گیٹ، وانساں والا بازار اور شاہ عالم مارکیٹ سمیت متعدد علاقوں میں ٹریفک جام رہا اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹریفک پولیس اہلکار ٹریفک کی روانی بحال رکھنے کے لیے مختلف مقامات پر موجود رہے۔

ترجمان وزیراعلیٰ ہاؤس کے مطابق لاہور اسٹریٹ موومنٹ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل خان آفریدی کی قیادت میں جاری رہی، جس میں عوام اور کارکنوں کی بڑی تعداد بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اظہار یکجہتی کے لیے شریک ہوئی۔ ترجمان نے دعویٰ کیا کہ پنجاب پولیس کے دباؤ اور گرفتاریوں کے باوجود لاہور کے عوام خوف کی دیوار توڑ کر سڑکوں پر نکل آئے اور عمران خان کے حق میں پُرجوش نعرے لگائے۔

بعد ازاں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے گھر پہنچ گئے۔ ترجمان کے مطابق سہیل آفریدی علیمہ خان کے گھر پر موجود رہے جبکہ انتظامیہ کی جانب سے علاقے کی بجلی بند کردی گئی۔

پولیس نے میڈیا نمائندوں سمیت کارکنوں کو علیمہ خان کے گھر کی جانب جانے سے روک دیا جبکہ اسکاچ کارنر اپر مال کے علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی۔ سہیل آفریدی تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ علیمہ خان کے گھر میں موجود رہے، جس کے بعد وہ وہاں سے روانہ ہوگئے۔

وزیراعلیٰ کے قافلے کے ہمراہ پولیس کی بھاری نفری بھی موجود رہی۔ ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی کا رات کو لاہور میں پارٹی رہنما کے گھر قیام کا امکان ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کے شوکت خانم روڈ پر واقع نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں پارٹی رہنما سینیٹر مرزا محمد آفریدی کے گھر قیام کا بھی امکان ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے