• اکتوبر 3, 2026
  • آخری اپڈیٹ اکتوبر 3, 2026 7:27 صبح
  • پاکستان

آن لائن پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسلام آباد میں قائم نیشنل پولیس اکیڈمی نے سندھ حکومت کو ایک خط بھیجا، جس میں اکیڈمی میں تربیت حاصل کرنے والے سندھ کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس آف پولیس (DSPs) کی انگریزی زبان کی مہارت پر تنقید کی گئی۔

دعویٰ

27 اگست کو صارف نے ایکس، جو پہلے ٹوئٹر کے نام سے جانا جاتا تھا، پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ نیشنل پولیس اکیڈمی نے سندھ پبلک سروس کمیشن کو ایک خط بھیجا ہے، جس میں اکیڈمی میں تربیت کے لیے بھیجے گئے سندھ کے ڈی ایس پیز کی انگریزی زبان کی مہارت پر تنقید کی گئی ہے۔

ویڈیو میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ اکیڈمی نے یہ خط سندھ حکومت، بشمول وزیر اعلیٰ، وزارتِ داخلہ اور انسپکٹر جنرل سندھ پولیس کو بھی بھیجا تھا۔

ویڈیو میں موجود شخص کے مطابق، مبینہ خط میں کہا گیا تھا کہ ڈی ایس پیز کو”پولیس“ سمیت کئی الفاظ کے ہجے اور تلفظ تک معلوم نہیں تھے۔

اس نیوز آرٹیکل کے شائع ہونے کے وقت تک پوسٹ کو35 ہزار 300 مرتبہ دیکھا، 1 ہزار دفعہ لائک اور 685 بار ری پوسٹ کیا گیا ۔

یہ ویڈیو اسی نوعیت کے دعووں کے ساتھ دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی شیئر کی گئی، جن میں یہ، یہ اور یہ پوسٹس شامل ہیں۔

حقیقت

نیشنل پولیس اکیڈمی نے ایسے کسی خط کے اجرا کی تردید کردی جبکہ سندھ حکومت کے حکام نے کہا کہ انہیں ایسا کوئی خط موصول نہیں ہوا۔

اسلام آباد میں نیشنل پولیس اکیڈمی کے اسسٹنٹ کورس کمانڈر محمد جواد اسحاق نے جیو فیکٹ چیک کو بتایا کہ اکیڈمی کی جانب سے ایسا کوئی خط کبھی جاری نہیں کیا گیا۔

جیو فیکٹ چیک نے سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کے ترجمان رشید چنا سے بھی رابطہ کیا، جنہوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ، چیف سیکریٹری یا انسپکٹر جنرل سندھ پولیس کو ایسا کوئی خط نہیں بھیجا گیا۔

رشید چنا نے کہا، ’’میں نے اس معاملے کی تصدیق کی ہے اور انسپکٹر جنرل پولیس، چیف سیکریٹری یا وزیر اعلیٰ کو ایسا کوئی خط نہیں لکھا گیامختصراً، ایسا کوئی خط موجود ہی نہیں۔‘‘

جیو فیکٹ چیک کو سندھ پولیس کے ترجمان کی جانب سے تحریری جواب بھی موصول ہوا، جس میں کہا گیا کہ ڈی ایس پیز کی صلاحیتوں اور کارکردگی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوے مکمل طور پر حقائق کی عکاسی نہیں کرتے۔

فیصلہ: نیشنل پولیس اکیڈمی نے مبینہ خط جاری کرنے کی تردید کردی جبکہ سندھ حکومت کے حکام نے بھی تصدیق کی کہ انہیں ایسا کوئی خط موصول نہیں ہوا۔

ہمیں X (ٹوئٹر) GeoFactCheck@ اور انسٹا گرام geo_factcheck@ پر فالو کریں۔

اگر آپ کو کسی بھی قسم کی غلطی کا پتہ چلے تو [email protected] پر ہم سے رابطہ کریں۔

ماخذ: Geo News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے