• ستمبر 24, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 24, 2026 3:28 شام
  • پاکستان

آپ پولیس کو گھر کی لونڈی نہیں بناسکتے، کمانڈ اسٹرکچر تباہ کردیا، پارلیمنٹ میں جائیں گے اور قانون سازی کری گے

وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ کے پی میں جو پولیس قانون لگایا گیا ہے اس کے ملک پر کیا اثرات ہوں گے؟ صوبے مادر پدر آزاد نہیں ہیں، سندھ اپنی نیوی، پنجاب اپنی ریلوے بنانا چاہے تو وہ نہیں بنا سکتا، صوبے پی ایس پی رولز کو تبدیل نہیں کرسکتے، یہ رولز سیٹلڈ قوانین ہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان پولیس سروس رولز کو اوور رائٹ نہیں کیا جاسکتا، ایسی پولیس جو دہشتگردی سے لڑرہی ہے جو نہتی ہونے کے باوجود اپنی خدمات دے رہی ہے، آپ کے پی پولیس کے کمانڈ سٹرکچر کو تباہ نہیں کرسکتے، ایسی قانون سازی جو آئین و قانون سے متصادم ہے، آپ نے پولیس کا کمانڈ سٹرکچر ہی تباہ کردیا ہے۔

طلال چوہدری نے کہا کہ آپ نے ڈی ایس پی سے اعلی پولیس افسران کو لگانے کا اختیار اپنی جیب میں رکھنے کی کوشش کی، اس طرح پولیس یہ نہیں دیکھے گی کہ سیاسی جماعت کیا چاہتی ہے؟ کیا اس طرح پولیس کا ڈسپلن متاثر نہیں ہوگا؟ پولیس افسران کی پوسٹنگ کیلئے مشاورت کے اختیار پہلے ہی چاروں وزرائے اعلی کے پاس ہیں۔

وزیر مملکت نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اداروں کو سیاست سے پاک کرنے کی بات کرتے تھے، ڈسپلنڈ فورس کا بیڑہ غرق کرکے آپ چاہتے ہیں فورس کا مورال تباہ کیا جائے، آپ اپنے گھروں کے لوگوں کو ڈی ایس پی بھرتی کرنا چاہتے ہیں، کے پی پولیس کی تنخواہیں اور شہداء پیکیج دیگر صوبوں کی پولیس سے کم تھا، وہ صوبہ جو 20سال سے دہشتگردی کیخلاف جنگ لڑرہا ہے وہاں سی ڑی ڈی کے دفاتر کرائے کی عمارتوں میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 800ارب جو آپ کو این ایف سی سے دہشتگردی کیخلاف جنگ کیلئے ملاتھا بتائیں وہ کہاں لگا ہے، ایک ایک دہشتگرد کے پاس 10سے15ہزار ڈالر کا سامان ہوتا ہے، کے پی پولیس کا سپاہی بغیر بلٹ پروف جیکٹ ڈیوٹی دیتا ہے، آپ نے پولیس کا کمانڈ سٹرکچر تباہ کرکے اختیار اپنے پاس رکھنے کی کوشش کی۔

ان کا کہنا تھا کہ امن کمیٹیوں کیلئے آپ نے کسی سول سوسائٹی یااپوزیشن لوگوں کو شامل نہیں کیا گیا، کے پی حکومت کے پاس قانون سازی کا مادر پدر آزاد اختیار نہیں ہے۔

طلال چوہدری نے کہا کہ کوہاٹ سانحے میں شہید ہونیوالوں کے جنازوں میں کئی صوبائی وزیر نہیں تھا، آپ تو شہداء کے ساتھ بھی کھڑے نہیں ہوتے، آپ ایسا کرکے فورس کا مورال خراب نہیں کرسکتے، وفاق ہر چیز کو آئین اور قانون کی نظر سے دیکھتا ہے، آپ پولیس کو اپنے گھر کی لونڈی نہیں بناسکتے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی قوانین ہی صوبائی قوانین کے اوپر ہوں گے، ایسی صورتحال بنی تو ہم پارلیمنٹ میں جائیں گے اور قانون سازی کریں گے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے