• ستمبر 24, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 24, 2026 2:28 شام
  • پاکستان

2300 سال سے زائد قدیم ارسطو کا اسکول دریافت

ملازم نے 10 ہزار روپے کم تنخواہ دینے پر فیکٹری کو آگ لگادی

شیرخوار بیٹی کو اوون میں ڈالنے والی ماں کو سزا ہوگئی

نوجوان لڑکوں کو سفاکی سے قتل کرنیوالے سیریل کلر کا بھیانک انجام

نیویارک: شام کے صدر احمد الشرع نے اقوام متحدہ میں عزم کا اظہار کیا ہے کہ گولان کی پہاڑیاں شام کا حصہ رہیں گی۔

شامی صدر احمد الشرع نے بدھ کو اقوام متحدہ میں کہا کہ متنازع گولان کی پہاڑیاں اسرائیل کے مسلسل فوجی قبضے کے باوجود ’’شام کا حصہ رہیں گی‘‘۔ شامی صدر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دوسری بار خطاب کرتے ہوئے اپنے ملک پر اسرائیل کے مسلسل حملوں کی بھی مذمت کی۔

اے ایف پی کے مطابق احمد الشرع نے اقوام متحدہ میں عالمی رہنماؤں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شام کی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرنے والی کسی بھی کوشش کو روکا جائے گا اور ’’گولان شام کا علاقہ رہے گا۔‘‘

گزشتہ ماہ کولمبیا نے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کی خودمختاری کو تسلیم کیا تھا۔ کولمبیا کی نئی دائیں بازو کی حکومت نے اگست میں گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کے دعوے کو تسلیم کیا، جن پر اسرائیل نے 1967 میں شام سے قبضہ کیا تھا۔ اس کے بعد امریکا واحد ملک تھا جس نے 1981 میں گولان کی پہاڑیوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کے اقدام کو تسلیم کیا تھا۔

’آئینہ دکھایا تو برا مان گئے‘ ایرانی صدر کی تقریر کے دوران امریکی وفد واک آؤٹ کر گیا

اقوام متحدہ کا مؤقف ہے کہ گولان کی پہاڑیاں اسرائیلی فوجی قبضے میں شام کا علاقہ ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جولائی میں ایک بار پھر کہا تھا کہ گولان کی پہاڑیاں شام کا حصہ ہیں اور اسرائیلی قبضے کو ’’مکمل طور پر ناقابل قبول‘‘ قرار دیا تھا۔

اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے اس کے جواب میں کہا کہ گولان کی پہاڑیاں ’’ہمیشہ‘‘ اسرائیلی خودمختاری کے تحت رہیں گی۔ اسرائیل کے وزیر دفاع نے ایک ویڈیو بیان میں کہا ’’شامی صدر کو میرا واضح جواب، جنھوں نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے بلند بانگ دعوے کیے: اسرائیلی خودمختاری کے تحت گولان ہمیشہ کے لیے ریاست اسرائیل کا ناقابلِ تقسیم حصہ ہے۔‘‘

احمد الشرع نے اقوام متحدہ میں اپنے دوسرے خطاب کے دوران سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد شام پر اسرائیل کے مسلسل حملوں کی بھی مذمت کی۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیل شام پر حملے کر رہا ہے، 500 فضائی حملے، ایک ہزار 200 سے زائد دراندازیاں اور 300 گرفتاریاں ہو چکی ہیں۔ ان کے بقول یہ صورت حال عالمی سطح پر نظر آنے والے رجحان سے مطابقت نہیں رکھتی۔

احمد الشرع نے کہا کہ یہ سب ایسے دور کی یاد دلاتا ہے جس کے بارے میں خیال تھا کہ وہ بہت پہلے گزر چکا ہے۔ تاہم انھوں نے امید ظاہر کی کہ اسرائیل کی جانب سے بار بار کی جانے والی ’’جارحیت‘‘ کے باوجود امن اور سلامتی کے خواہاں افراد کے لیے امن کا موقع موجود ہے، ایسا منصفانہ امن جو تمام فریقوں کے حقوق برقرار رکھے۔

انھوں نے واضح کیا کہ ہماری خودمختاری کی خلاف ورزی کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگی، گولان شام کا حصہ رہے گا، کسی بھی دوسری کوشش کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 497 کے تحت ناکام بنا دیا جائے گا۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے