چلتی ٹرین کے ساتھ مسافر کے گھسٹنے کی لزرہ خیز ویڈیو
ڈاکٹروں کا انوکھا کارنامہ، مریض کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ پر پلاسٹر کے بجائے گتا باندھ دیا
نوجوان لڑکوں کو لوٹنے والی لٹیری دلہن فرضی رشتے داروں سمیت گرفتار، طریقہ واردات بھی سامنے آگیا
انڈہ ابالنے کا حیرت انگیز طریقہ : من پسند زردی کیسے بنے گی؟
جوہر قریشی مرحوم ندیم جگر نمبر میں اپنے جگر صاحب کے شاگرد ہونے کے دل چسپ واقعہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ نور محل میں نیاز فتح پوری کے ساتھی حسن اسمٰعیل عرف اچھو میاں رہا کرتے تھے۔ شاعری سے انھیں گہرا لگاؤ تھا۔ پہلے غالب تخلّص کرتے تھے، لیکن لوگوں کے تمسخر اور تضحیک سے بچنے کے لیے اپنا تخلّص مجبور رکھا۔ بھوپال میں وہ تنہا شخص تھے جو جگر صاحب کے کلام پر تنقید کیا کرتے تھے اور ان کی عظمت سے انکار کرتے تھے۔ وہ جوہر مرحوم کو جگر کی زمین کی غزلیں لکھ کر دیا کرتے تھے تاکہ وہ جگر صاحب کے سامنے اپنا کلام کہہ کر پڑھیں۔ چنانچہ جوہر مرحوم جگر صاحب کے سامنے وہ غزلیں پڑھتے۔ جگر صاحب اس کلام کو سن کر کبھی تعریف کرتے اور کبھی ہنس دیتے۔
ایک دن انہوں نے مولوی مہدی صاحب سے کہا کہ کوئی صاحب اس لڑکے (جوہر مرحوم) کی فطری صلاحیتوں کو تباہ کر رہے ہیں۔ جوہر صاحب لکھتے ہیں کہ جگر صاحب کی یہ بات انھیں بے حد بری معلوم ہوئی۔ چنانچہ وہ اٹھ کر چلے آئے۔ اور کئی روز تک جگر صاحب کے سامنے نہیں گئے۔ ایک روز جگر صاحب خود ان کے گھر پہنچے اور زینہ پر چڑھ کر آواز دی۔ جوہر صاحب جب آئے تو انہوں نے کہا کہ ہماری مولوی مہدی بلا رہے ہیں، مولوی مہدی صاحب انھیں دیکھ کر مسکرائے اور کہا کہ بھئی سنا ہے کہ تم جگر صاحب سے ناراض ہو گئے ہو۔ جگر صاحب بیچ میں بول پڑے کہ میاں مجھ سے اگر کوئی قصور ہو گیا ہے تو معاف کر دو اور جب جوہر صاحب شرمندگی محسوس کرنے لگے تو کہا۔ میاں دوسرے سے غزلیں لکھوا کر اپنی زندگی برباد مت کرو۔ آخر تم خود غزل کہنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے۔ جوہر مرحوم لکھتے ہیں، کچھ دنوں بعد کچھ بے جوڑ، بے ربط، بے وزن سے بے معنی اشعار انہوں نے کہے جس کا مطلع تھا۔
نہ جانے کون سا جلوہ دکھا دیا تو نے مجھے تو اپنا ہی شیدا بنا لیا تو نے
جب غزل مکمل ہو گئی تو اصلاح کا خیال پیدا ہوا۔ مولوی مہدی صاحب سے انہوں نے اس خیال کا اظہار کیا تو انہوں نے جگر صاحب سے صلاح لینے کا مشورہ دیا۔ جب جوہر مرحوم نے جگر صاحب سے سفارش کے لیے کہا تو مولوی صاحب نے کہا کہ سفارش سے زیادہ بہتر طریقہ جگر صاحب کو راضی کرنے کا خدمت اور خاطر مدارات ہے۔ جوہر قریشی تحریر کرتے ہیں، چنانچہ مہدی میاں کے بتائے ہوئے نسخہ کے مطابق ایک بڑے تھال میں انواع و اقسام کے کھانے، مٹھائی اور پھل وغیرہ سجا کر اور اس کے خوان پوش پر اپنی ارشاد فرموده غرل رکھ کر جگر صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
جگر صاحب پہلے تو بڑے متعجب ہوئے کہ یہ کیا تماشہ ہے مگر جب مہدی میاں نے سرگوشی میں رازِ سربستہ کا انکشاف کیا تو جگر صاحب کا ہنستے ہنستے برا حال ہو گیا۔ کچھ دیر تفریح کے موڈ میں رہے۔ پھر غزل اٹھا کر پڑھی اور جیب میں رکھ کر خوان پوش اٹھا کر کھانوں کا جائزہ لیا اور حاضرین کو شریک طعام کر کے حق و انصاف ادا کیا اور بعد فراغت دعا فرمانی کہ خداوند ایسا متواضع اور سعادت مند شاگرد اگر روز نہیں تو کبھی کبھی تو ضرور بھیج دیا کر۔
حاضرین نے بالکل اسی انداز میں آمین کہا جیسے جگر صاحب کے کسی شعر پر داد دے رہے ہوں۔ مہدی میاں کے اصرار پر جگر صاحب نے میرا تخلص جوہر تجویز کیا اور اس شرط پر شاگردی قبول کرنے پر آمادہ ہوئے کہ آئندہ کسی دوسرے سے لکھوا کر غزل نہ سناؤں گا۔ اس واقعہ کے بعد نہ تو جگر صاحب نے جوہر مرحوم کی کوئی غزل سنی اور نہ کسی غزل پر اصلاح ہی دی۔
(عبدالقیوم دسنوی کی کتاب بھوپال ایک شہر پانچ مشاہیر سے اقتباس)
