• ستمبر 14, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 14, 2026 8:37 شام
  • پاکستان

سعودی عرب نے ان حملوں کی ذمہ داری ایران کی حمایت یافتہ عراقی مسلح جماعتوں پر عائد کی تھی

سعودی عرب کی اہم مشرقی-مغربی تیل پائپ لائن پر گزشتہ ہفتے ہونے والے حملے کے نتیجے میں لائن کا بڑا حصہ تین سے پانچ ہفتوں تک بند رہنے کا امکان ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ بات اس معاملے سے باخبر دو سعودی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتائی۔

باخبر ذرائع نے کہا کہ پائپ لائن کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں جس میں ایک بڑے پمپنگ مرکز کی بحالی بھی شامل ہے اور حکام کو اس معاملے پر میڈیا سے گفتگو سے منع کیا گیا ہے۔

ان دونوں باخبر ذرائع نے بتایا کہ مرمت کے دوران پائپ لائن کے بعض حصوں سے محدود مقدار میں تیل کی ترسیل جاری رہنے کا امکان ہے تاہم لائن کی مکمل صلاحیت بحال ہونے میں تین سے پانچ ہفتے لگ سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن سعودی عرب کے مشرقی ساحلی علاقوں سے مغربی ساحل تک تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل ہے اور اس کی روزانہ تقریباً 70 لاکھ بیرل تیل منتقل کرنے کی صلاحیت ہے۔

یہ پائپ لائن سعودی عرب کی تیل برآمدات کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے کیونکہ اس کے ذریعے مملکت آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر اپنے تیل کو بحیرۂ احمر کی بندرگاہوں تک پہنچا سکتی ہے۔

سعودی عرب نے گزشتہ ہفتے پائپ لائن پر ہونے والے ڈرونز حملوں کا الزام ایران کی حمایت یافتہ عراقی ملیشیاؤں پر عائد کیا تھا۔ ان حملوں کے بعد سعودی عرب نے حفاظتی اقدام کے طور پر جمعرات کو پائپ لائن کو بند کردیا تھا۔

پائپ لائن کی طویل بندش سعودی عرب کے لیے ایک ایسے وقت میں اہم چیلنج بن سکتی ہے جب مملکت آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے مقابلے میں بحیرۂ احمر کے راستے تیل کی برآمدات برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل پہلے ہی بند ہے اور اب سعودی آئل پائپ لائن کی مرمت میں کئی ہفتے لگنے کی صورت میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے جو پہلے ہی 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے