ٹی وی اینکر براہِ راست نشریات کے دوران ’’اچانک غائب‘‘ ہو گئی!
دنیا میں پہلی بار ’’موٹے‘‘ بچوں کی تعداد ’’دُبلے‘‘ بچوں سے زیادہ ہو گئی!
برف کے بیچوں بیچ آتش فشاں پھٹ پڑا، حیرت انگیز ویڈیو
دنیا کا ویران جزیرہ جہاں 34 سال بعد پہلے بچے کی پیدائش نے سب کو حیران کر دیا
سیول(28 ستمبر 2026): جنوبی کوریا نے باہمی معاہدے کی خلاف ورزی کرنے پر یوکرین سے باضابطہ وضاحت اور معافی کا مطالبہ کر دیا ہے۔
جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کے دو جنگی قیدیوں کی خفیہ منتقلی کا معاملہ سر عام لانے اور باہمی معاہدے کی خلاف ورزی کرنے پر یوکرین سے باضابطہ وضاحت اور معافی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر کا کہنا ہے کہ یوکرین کے اس غیر متوقع اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان قائم باہمی اعتماد کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
اس سفارتی تنازع کا آغاز گزشتہ ہفتے اس وقت ہوا جب یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے انکشاف کیا کہ یوکرین نے روس کی جانب سے جنگ میں لڑتے ہوئے گرفتار کیے جانے والے شمالی کوریا کے دو فوجیوں کو جنوبی کوریا منتقل کر دیا ہے، اور ان فوجیوں کو میدانِ جنگ میں زندہ گرفتار کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔
یوکرین کے صدر کے اس انکشاف کے چند گھنٹے بعد ہی جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں اس اقدام پر گہری مایوسی کا اظہار کیا۔
انہوں نے لکھا کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یوکرین نے دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے حساس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس خفیہ معاملے کو اچانک عوام کے سامنے کیوں بے نقاب کیا۔
سیول حکومت کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے انتہائی حساس معاملات کو پبلک کرنے سے نہ صرف سیکیورٹی امور متاثر ہوتے ہیں بلکہ طے شدہ پروٹوکولز کی بھی سنگین پامالی ہوتی ہے۔
