• ستمبر 25, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 25, 2026 8:01 شام
  • پاکستان

آرم ریسلر نے بچی کے والد سے جان بوجھ کر ہار کر سب کے دل جیت لیے

2300 سال سے زائد قدیم ارسطو کا اسکول دریافت

ملازم نے 10 ہزار روپے کم تنخواہ دینے پر فیکٹری کو آگ لگادی

شیرخوار بیٹی کو اوون میں ڈالنے والی ماں کو سزا ہوگئی

کراچی (25 ستمبر 2026): گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے اوورسیز پاکستانیوں کیلیے خود انحصاری کے تحت ’پاسبان ریمی ٹینس ریوارڈ‘ اسکیم کا باقاعدہ افتتاح کر دیا جس کے تحت بینکاری ذرائع سے پیسے بھیجنے والوں کو ہر سال 16 ارب روپے کے نقد انعامات دیے جائیں گے۔

مارکیٹ کی بنیاد پر انعامات دینے کی یہ منفرد اسکیم پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام شروع کی گئی ہے۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے ملکی معیشت کے حوالے سے اہم انکشافات کیے۔

جمیل احمد نے بتایا کہ فروری 2023 میں اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر گر کر محض 3.0 ارب ڈالر رہ گئے تھے جو اب بہترین حکمتِ عملی کی بدولت بڑھ کر 21.4 ارب ڈالر کی مستحکم سطح پر پہنچ چکے ہیں، ماضی کے برعکس یہ ذخائر بیرونی قرضے لے کر نہیں بلکہ مارکیٹ سے زرمبادلہ خرید کر بڑھائے گئے ہیں۔

انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کارکنوں کی ترسیلاتِ زر مالی سال 19 میں 21.7 ارب ڈالر تھیں جو مالی سال 26 میں تقریباً دگنا اضافے کے ساتھ 41.6 ارب ڈالر کی تاریخی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہیں، زرمبادلہ ذخائر 3 ارب سے بڑھ کر 21.4 ارب ڈالر ہوگئے۔

اسکیم کا مقصد

گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق اس اسکیم کے تمام اخراجات بینکنگ انڈسٹری خود برداشت کرے گی اور قومی خزانے پر اس کا ایک روپے کا بوجھ بھی نہیں پڑے گا۔ اسکیم کا مقصد اوورسیز پاکستانیوں کو ترسیلاتِ زر کیلیے قانونی اور باضابطہ ذرائع استعمال کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ یہ اسکیم خود انحصاری کے تحت مارکیٹ کی بنیاد پر کام کرے گی تاکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو اپنی ترسیلات بینکاری کے باضابطہ ذرائع سے وطن بھجوانے میں آسانی فراہم کی جائے، انہیں ترغیب دی جائے اور اس طرح ترسیلات حاصل کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ کارکنوں کی ترسیلات پاکستان کے طول و عرض میں مقیم لاکھوں خاندانوں کیلیے آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہیں، ان ہی ترسیلات سے ان کے گھریلو اخراجات پورے ہوتے ہیں، تعلیم اور صحت کی سہولت حاصل ہوتی ہے، اور سرمایہ کاری اور اقتصادی مواقع کیلیے وسائل مہیا ہوتے ہیں۔

پی بی اے کے سی ای او منیر کمال نے اسکیم کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پہلی قرعہ اندازی 15 جنوری 2027 کو ہوگی جس میں یکم اکتوبر 2026 سے 31 دسمبر 2026 کے دوران آنے والی ترسیلات شامل کی جائیں گی، یہ قرعہ اندازی مکمل ڈجیٹل اور شفاف ہوگی اور اسکیم میں شرکت بالکل مفت ہے۔ اسکیم کے تحت ہر سال 10,000 سے زائد خوش نصیبوں میں انعامات تقسیم ہوں گے۔ ہر سہ ماہی میں 4 ارب روپے مالیت کے 2521 نقد انعامات دیے جائیں گے: پہلا انعام: 10 کروڑ روپے کا ایک انعام، دوسرا انعام: 2.5 کروڑ روپے کے 20 انعامات، تیسرا انعام: 1 کروڑ روپے کے 100 انعامات، چوتھا انعام: 10 لاکھ روپے کے 2,400 انعامات ہوں گے۔

کون اہل ہوگا؟

ایسا وصول کنندہ جو کسی بھی سہ ماہی میں لگاتار 3 ماہ تک اپنے بینک اکاؤنٹ میں ماہانہ 100 یا اس سے زائد ڈالر وصول کرے گا۔ ہر 100 ڈالر پر ایک ڈجیٹل انٹری نمبر ملے گا، اور رقم جتنی زیادہ ہوگی، اتنے ہی زیادہ ٹکٹ (انٹریز) ملیں گے۔ کوٹہ سسٹم: انعامات کا 50 فیصد خلیج تعاون کونسل (GCC) ممالک، 15 فیصد برطانیہ، 15 فیصد یورپ، 10 فیصد شمالی امریکہ اور 10 فیصد دیگر ممالک کیلیے مختص کیا گیا ہے، جبکہ پہلا بڑا انعام تمام خطوں کیلیے اوپن ہوگا۔ اسکیم کے نتائج کا اعلان پاسبان کی مخصوص ویب سائٹ، اسٹیٹ بینک، پی بی اے اور بینکوں کے سوشل میڈیا پیجز پر کیا جائے گا۔

ماخذ: ARY News Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے