• ستمبر 17, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 17, 2026 11:05 صبح
  • پاکستان

اگر ستائیس ستمبر کو حالات قابو سے باہر ہوگئے تو ذمے داری کس پر ہوگی؟

پاکستان ایک بار پھر سیاسی کشیدگی کے ایک اہم مرحلے میں داخل ہورہا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کیا ہے، جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی اس مارچ کی قیادت کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اسے اپنے بانی عمران خان کی رہائی، آئین کی بالادستی اور سیاسی حقوق کے لیے ایک فیصلہ کن احتجاج قرار دیا جا رہا ہے۔

احتجاج، اختلافِ رائے اور سیاسی جدوجہد جمہوریت کا حصہ ہیں۔ کسی بھی سیاسی جماعت اور شہری کو پُرامن احتجاج کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر سیاسی مقصد کے حصول کے لیے سڑکوں پر ایسا تصادم ضروری ہے جس کے نتائج کسی کے قابو میں نہ رہیں؟

یہ سوال صرف حکومت سے نہیں بلکہ پاکستان تحریک انصاف کی قیادت سے بھی ہے۔ اگر کسی سیاسی جماعت کو اپنے مطالبات کے حق میں قانونی اور آئینی راستے دستیاب ہیں تو پھر یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ عدالتوں، پارلیمنٹ اور دیگر آئینی اداروں کے ساتھ ساتھ سڑک کو فیصلہ کن میدان کیوں بنایا جا رہا ہے؟

اگر پاکستان تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ اس کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے، اس کے رہنماؤں اور کارکنوں کے مقدمات سیاسی نوعیت کے ہیں یا عمران خان کے ساتھ قانونی تقاضے پورے نہیں کیے جا رہے تو سب سے مضبوط راستہ یہی ہونا چاہیے کہ ان معاملات کو عدالتوں میں پوری قوت کے ساتھ لڑا جائے، عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا جائے اور آئینی اداروں کو مضبوط کیا جائے۔ تو پھر سوال یہی ہے کہ اگر عدالت ایک راستہ فراہم کر رہی ہے تو اسلام آباد کی سڑک کو آخری اور فیصلہ کن راستہ بنانا کیوں ضروری ہے؟

27 ستمبر کا مارچ صرف پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان سیاسی مقابلہ نہیں ہوگا، اس کے اثرات عام شہریوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ اسلام آباد ملک کا دارالحکومت ہے۔ یہاں لاکھوں لوگ روزگار، کاروبار، تعلیم، علاج اور سرکاری امور کے لیے آتے جاتے ہیں۔ اگر شہر میں طویل احتجاج، سڑکوں کی بندش، کنٹینرز، ٹریفک جام یا تصادم کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو سب سے زیادہ نقصان عام شہری کو ہوگا۔ یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: اگر ستائیس ستمبر کو حالات قابو سے باہر ہوگئے تو ذمے داری کس پر ہوگی؟

اگر بڑی تعداد میں لوگ اسلام آباد پہنچتے ہیں، کہیں پولیس اور مظاہرین میں تصادم ہوجاتا ہے، کوئی انسانی جان ضائع ہوجاتی ہے، سرکاری یا نجی املاک کو نقصان پہنچتا ہے یا ملک کے اہم اداروں کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے تو پھر ذمہ دار کون ہوگا؟

کیا حکومت کہے گی کہ مظاہرین ذمے دار تھے؟ کیا پاکستان تحریک انصاف کہے گی کہ ریاست نے طاقت استعمال کی؟ کیا پولیس کہے گی کہ اسے قانون نافذ کرنے کا حکم تھا؟ یا پھر ہمیشہ کی طرح اصل نقصان عام پاکستانی برداشت کرے گا؟ یہ سوال آج پوچھنا ضروری ہے 27 ستمبر کے بعد نہیں۔

پاکستان میں ماضی کے سیاسی احتجاج ہمیں یہ سبق دے چکے ہیں کہ جب سیاسی کارکن بڑی تعداد میں دارالحکومت کا رخ کرتے ہیں تو معمولی واقعہ بھی بڑے بحران میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ اس لیے سیاسی قیادت کی اصل دانش مندی یہ ہونی چاہیے کہ وہ اپنے کارکنوں کے جذبات کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ ان کی حفاظت اور ریاست کے مفاد کو بھی سامنے رکھے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی ذمے داری مزید اہم ہے۔ وہ صرف پاکستان تحریک انصاف کے سیاسی رہنما نہیں بلکہ ایک صوبے کے منتخب وزیراعلیٰ بھی ہیں۔ ان کے ہر سیاسی فیصلے کا تعلق صرف پارٹی سیاست سے نہیں بلکہ خیبرپختونخوا کی حکومت، سرکاری مشینری اور عوام سے بھی جڑ جاتا ہے۔

اسی لیے یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کو وفاقی دارالحکومت میں ایک بڑے سیاسی مارچ کی قیادت کرنی چاہیے، یا انہیں مذاکرات اور آئینی راستوں کو ترجیح دینی چاہیے؟

دوسری طرف حکومت کی بھی ذمے داری ہے کہ وہ احتجاج کے حق کو محض طاقت کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش نہ کرے۔ اگر احتجاج پُرامن ہے تو ریاست کو تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ سیاسی کارکنوں، خواتین، بزرگوں اور عام شہریوں کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک ہونا چاہیے۔ اصل کامیابی یہ نہیں کہ حکومت احتجاج کو روک دے یا پاکستان تحریک انصاف اسلام آباد پہنچ جائے۔ اصل کامیابی یہ ہوگی کہ ستائیس ستمبر کو پاکستان کسی تصادم، جانی نقصان یا ریاستی نقصان کے بغیر سیاسی اختلاف سے گزر جائے۔

پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو بھی یہ سوچنا ہوگا کہ اگر اس کا مقصد آئین کی بالادستی ہے تو آئین کے دائرے سے باہر جانے کا تاثر اس مقصد کو کمزور کرسکتا ہے۔ اسی طرح حکومت کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کے ذریعے سیاسی اختلاف ختم نہیں ہوتا؛ اختلاف کا حل سیاسی مذاکرات، پارلیمنٹ اور عدالتوں کے ذریعے ہی نکلتا ہے۔ پاکستان کو آج ایک اور محاذ آرائی نہیں بلکہ سیاسی سنجیدگی کی ضرورت ہے۔

عمران خان کے حامیوں کو حق ہے کہ وہ ان کی رہائی اور سیاسی حقوق کا مطالبہ کریں۔ حکومت کو حق ہے کہ وہ قانون اور ریاستی نظم برقرار رکھے۔ عدالتوں کو حق ہے کہ وہ آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کریں۔ لیکن ان سب کے درمیان سب سے اہم حق پاکستان کے عوام کا ہے، امن، کاروبار، تعلیم، روزگار اور محفوظ زندگی کا حق۔ اس لیے ستائیس ستمبر سے پہلے حکومت اور پاکستان تحریک انصاف دونوں کو ایک قدم پیچھے ہٹ کر سوچنا چاہیے۔

کیا مذاکرات کا کوئی راستہ نہیں؟ کیا سیاسی مطالبات کے لیے پارلیمنٹ کا دروازہ بند ہے؟ کیا عدالتوں میں موجود مقدمات کو قانونی انجام تک پہنچنے کا موقع نہیں دیا جاسکتا؟ کیا ایسا احتجاج نہیں ہوسکتا جس میں اسلام آباد بند نہ ہو، عام شہری متاثر نہ ہوں اور ریاستی املاک محفوظ رہیں؟ یہ سوال پاکستان تحریک انصاف سے بھی ہے اور حکومت سے بھی۔

اگر کوئی بڑا سانحہ ہوگیا تو تاریخ صرف یہ نہیں پوچھے گی کہ غلطی کس کی تھی؛ تاریخ یہ بھی پوچھے گی کہ جب خطرہ نظر آ رہا تھا تو سیاسی قیادت نے اسے روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ ریاست کا نقصان کسی حکومت کا نقصان نہیں ہوتا۔ سرکاری عمارتیں، سڑکیں، پولیس، ادارے اور قومی املاک کسی ایک جماعت یا حکومت کی ملکیت نہیں، یہ پاکستانی عوام کی امانت ہیں۔ اسی طرح پاکستان تحریک انصاف کے کارکن بھی کسی سیاسی جماعت کے محض اعداد نہیں، وہ بھی پاکستانی شہری ہیں۔ ان کی جان، عزت اور سلامتی بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی کسی دوسرے پاکستانی کی۔

27 ستمبر پاکستان کے لیے صرف ایک سیاسی تاریخ نہ بنے۔ یہ دن اس بات کی مثال بن سکتا ہے کہ شدید سیاسی اختلاف کے باوجود ایک قوم اپنے مسائل کو پرامن، آئینی اور جمہوری طریقے سے حل کرسکتی ہے۔ پاکستان کو مارچ سے زیادہ مذاکرات کی ضرورت ہے، نعروں سے زیادہ آئین کی ضرورت ہے، تصادم سے زیادہ برداشت کی ضرورت ہے، اور سیاسی فتح سے زیادہ قومی سلامتی اور عوامی امن کی ضرورت ہے۔ آخر میں سوال صرف یہ نہیں کہ ستائیس ستمبر کو کون اسلام آباد پہنچے گا۔ اصل سوال یہ ہے: 27 ستمبر کے بعد پاکستان کہاں کھڑا ہوگا؟ یہ فیصلہ آج کی سیاسی قیادت کے ہاتھ میں ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے