• ستمبر 17, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 17, 2026 3:14 صبح
  • پاکستان

بدقسمتی سے سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت کا طرز عمل جمہوری کم اور غیر جمہوری زیادہ ہے۔

اگر پاکستانی ریاست اور سماج کا نظام جمہوری بنیادوں پر آگے بڑھنا چاہتا ہے تو ہمیں اپنے داخلی معاملات کو سماج اور حکومت کی سطح پر بہت کچھ تبدیل کرنا ہو گاکیونکہ ہم آج جس جمہوریت کے نظام میں جی رہے ہیں وہ جمہوریت کم اور ایک کنٹرولڈ اور ہائبرڈ جمہوری نظام زیادہ لگتا ہے۔

ایک ایسا نظام جہاں جمہوریت اور جمہوری قوتیں کمزور بنیادوں پر موجود ہوں اور غیرسیاسی قوتیں زیادہ مضبوط ہوں تو وہاں جمہوری نظام کی کمزوری کی منطق سمجھ میں آتی ہے۔ ایک ایسا سماج جو اب ماضی کے مقابلے میں کافی حد تک سمجھوتوں کا شکار ہوگیا ہے وہاں جمہوریت اور جمہوری حقوق کی جنگ اور زیادہ مشکل ہوگئی ہے۔ جمہوریت کی ترقی کی کنجی بنیادی طور پر آزاد عدلیہ،آزاد میڈیا،آزاد سیاسی جماعتیںاور سیاسی جماعتوں کا مضبوط داخلی جمہوریت کا نظام، مضبوط سول سوسائٹی، متبادل آوازوں کی قبول کرنے کی روایت اور عملی طور پر مختلف مذہبی، سیاسی، سماجی، علاقائی، لسانی اورثقافتی گروپوں کی قبولیت اور ہم آہنگی کو مضبوط بنانے سے جڑی ہے۔

اسی طرح ملکی سطح پر آئین اور قانون کی حکمرانی، منصفانہ اور شفاف انتخابات،ووٹ کا تقدس اور حق حکمرانی کی قبولیت لازم ہے۔ تمام حکومتی اداروں کا اپنی اپنی سطح پر آئینی ،قانونی اور سیاسی دائرہ کار میں کام کرنا اور ایک دوسرے کے کاموں میں سیاسی مداخلت سے گریز کی پالیسی کو بطور نظام عوامی مفادات سے جوڑنا ہے۔

اس فریم ورک کی بنیاد پر ہم اپنے داخلی جمہوری نظام کا تجزیہ کرسکتے ہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور ہمیں جمہوری نظام کی بنیاد پر خود کو آگے بڑھانے کے لیے کن چیلنجز کا سامنا ہے۔ایک عمومی سوچ یہ پائی جاتی ہے کہ ہم جمہوری نظام کی ناکامی کی مکمل ذمے داری دوسروں پر ڈال کر خود کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یقینا دوسرے بھی ذمے دار ہیں لیکن کچھ بنیادی خامیاں اور ناکامیاں ہماری اپنی ہیں جس کی وجہ سے ہم خود بھی جمہوریت کو کمزور کرنے کا سبب بن رہے ہیںکیونکہ جمہوریت ایک طرز حکمرانی کا نام ہے جب کہ ہم نے یہاں اسے اقتدار اور انتخابات کا نظام سمجھ لیا ہے۔

جمہوریت اور حکمرانی کے نظام کا باہمی تعلق نہ ہونے کے برابر ہے اور لوگوں کو لگتا ہے کہ روائتی سطح کا یہ موجودہ جمہوری نظام ہماری توقعات پوری نہیں کررہا۔جمہوریت میں جب آپ لوگوں کے بنیادی حقوق سلب کرلیں یا ان پر مختلف سطح کی پابندیاں لگا دیں اور متبادل یا تنقیدی آوازوں کو دبانے کی پالیسی اختیار کرلیں تو پھر سماج میں سیاسی گھٹن اور انتشار ہی پیدا ہوگا۔یہ جو آئین پاکستان ہے اس کا پہلا باب جو بنیادی حقوق سے 8 سے 28 آرٹیکل سے جڑا ہوا ہے اس کو نظر انداز کر کے ہم جمہوریت کو مضبوط نہیں بنا سکیں گے۔

اسی طرح جمہوریت کی ساکھ کا ایک مقدمہ معاشرے میں موجود محروم طبقات سے جڑا ہوا ہے اور اگر جمہوری نظام انصاف اور تحفظ نہیں دے سکے گا تو پھر لوگ کیونکر جمہوری نظام کے ساتھ خود کو جوڑیں گے۔یہ جو آج محرومی کی سیاست ہے یا جو سماج میں غربت سمیت پسماندگی کے مسائل ہیں ان کا خاتمہ ہی جمہوری نظام کی ترقی کا سبب بنتا ہے اس لیے سیاسی اور معاشی ترجیحات کی درست سمت ہی ہماری ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے۔

بدقسمتی سے سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت کا طرز عمل جمہوری کم اور غیر جمہوری زیادہ ہے۔جہاں سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت کو فیصلے سیاسی اور جمہوری بنیادوں پر کرنے ہوتے ہیں وہاں وہ ذاتی،خاندانی اور جماعتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ اسی طرح سیاسی جماعت کی سطح پر ان کا داخلی جمہوری نظام بہت کمزور اور خاندانی سیاست کی بنیاد پر کھڑا ہے۔

سیاسی جماعتوں کی اس داخلی کمزوریوں کے باعث ملک کا جمہوری نظام کمزور رہے گا۔سیاسی جماعتوں اور پس پردہ قوتوں کے درمیان جو باہمی تعلق ہے اور اس میں جو کھیل کھیلا جارہا اس سے سول ملٹری تعلقات میںخرابیاں دیکھنے کومل رہی ہیں۔اسی بنیاد پر ملک کی سیاست میں سیاسی اور جمہوری استحکام کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں وقفہ وقفہ سے دونوں فریق ایک دوسرے کی مخالفت میں کھڑے ہوجاتے ہیں اور جمہوری عمل میں تسلسل کی کمی اس نظام کی سطح پر کم دیکھنے کو ملتی ہے۔

سیاسی جماعتوں کا مسئلہ یہ ہے کہ ایک دوسرے پر تنقید سے زیادہ سیاست دشمنی کی شکل اختیار کرلیتی ہیں اور مخالف فریق کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہمارے مجموعی مزاج میں جمہوری طرز عمل کم دیکھنے کو ملتا ہے۔جب حکومتیں بننے کا عمل ووٹ کی بنیاد پر نہیں ہوگا اور ایک سازش کی بنیاد پر حکومتوں کو بنانے اور گرانے کا کھیل کھیلا جائے گا تو کیسے لوگ اس جمہوری نظام پر اعتماد یا بھروسہ کریں اور کیونکر اس نظام کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

اسی طرح جب جمہوریت پر سوالات اٹھانے والے یا اس نظام کی نگرانی اور شفافیت پر زور دینے والے افراد یا اجتماعی طور پر سول سوسائٹی اور اہل دانش خود سمجھوتہ کرلیں گے یا اپنے مفادات کے تحت بڑی طاقتوں کی آواز بن جائینگے تو جمہوریت کے حق میں اٹھنے والی آوازیں کیسے مضبوط ہوں گی کیونکہ جن قوتوں نے معاشرے کے اندر سے بہتری کے لیے حکومت پر دباؤ کی پالیسی کو بڑھانا یا پیدا کرنا تھا جب وہ خود خاموشی اختیار کرلیں یا سمجھوتہ کرلیں تو جمہوریت کی منزل اور بھی دور ہوجاتی ہے۔ویسے بھی اب جو جمہوریت کا ماڈل دنیا میں چل رہا ہے وہ سرمائے اور طاقت ور افراد کے گرد گھومنے والی جمہوریت ہے اور یہ عام طبقہ کے مفادات سے زیادہ سرمائے دار طبقات کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔

یہ ہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا میں سرمایہ دارانہ جمہوریت کے خلاف علمی و فکری سوالات اٹھائے جارہے ہیں اور یہ سمجھنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ مروجہ جمہوری نظام میں عام افراد کی ترقی اور خوشحالی کہاں کھڑی ہے۔ دنیا کے مغربی مفکرین بھی جمہوریت کے اس نظام کو چیلنج کر رہے ہیں اور ان کے بقول اس موجودہ جمہوری نظام میں ہم اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکیں گے جب تک ہم اس نظام میں بنیادی نوعیت کی اصلاحات کو بنیاد نہیں بنائیں گے اس لیے ہمیں جموریت کے نظام میں موجود خرابیوں کو سمجھ کر ان سوالات پر آواز اٹھانی ہوگی۔یہ آوازیں منطق اور دلیل کے ساتھ ہی آگے بڑھیں جس میں شواہد اور حقایق بھی ہوں تو لوگوں کو قریب لایا جاسکتا ہے۔ہمیں روائتی جمہوری سیاست کے مینار کو چیلنج بھی کرنا ہے اور اس کے مقابلے میں متبادل جمہوری نظام کی بات بھی کرنی ہے۔

اس میں اب ایک بڑا کردار نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کا ہے کیونکہ ان ہی کا آگے مستقبل ہے اور ان کی آج کی دنیا میں بڑی طاقت ڈیجیٹل میڈیا کی ہے،اگر نوجوان نسل درست حکمت عملی، سمت اور علمی و فکری بنیاد پر اپنی انفرادی اور اجتماعی آوازوں کو طاقت دیں،دور تک اپنا پیغام پھلائیں اور اس موجودہ جمہوریت کے مقابلے میں ایک متبادل بیانیہ کی تشکیل کو بنیاد بناکر آگے بڑھیں تو اس کام میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔کیونکہ آج کی دنیا نوجوانوں کی ہے اور ان میں اب ماضی کے مقابلے میں کافی صلاحیتیں بھی ہیں تو وہ اس جمہوری تحریک میں سوالات اٹھا کر بڑ ا حصہ ڈال سکتے ہیں۔

آج ہم جمہوریت کے تناظر میں جس جگہ کھڑے وہ ایک تبدیلی کا تقاضہ کرتا ہے۔کیونکہ جب تک کسی بھی نظام میں جمہوریت،گورننس اور سروس ڈلیوری یا لوگوں کے بنیادی تعلق کو نہیں جوڑا جائے گا ہم لوگوں کو جمہوریت کے نام پر یا اس کی محبت میں کھڑے نہیں ہوسکیں گے۔آج دنیا میں جس تیزی سے تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں وہیں لوگ اپنے سیاسی اور سماجی شعور کی بنیاد پر اپنے حقوق کے مطالبات کررہے ہیں۔اب دو ہی راستے ہیںکہ حکومتی نظام ان کے بنیادی حقوق کو تسلیم کرے اور معاشرے کی تشکیل کو جمہوری بنیادوں پر استوار کرے تاکہ لوگوں کا ریاست کے ساتھ تعلق مضبوط ہو۔دوئم، اگر ایسا نہیں کرنا تو پہلے قدم کے مقابلے میں شہریوں اور ان کے حقوق کے خلاف طاقت کا استعمال کرتی ہے۔

یہ عمل شہریوں اور حکومت کے درمیان نہ صرف باہمی تعلق کو کمزور کرتا ہے بلکہ لوگوں میں ردعمل بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔اس کی کئی شکلیں ہم آج کے جمہوری نظام میں بھی دیکھ رہے ہیں جہاں لوگ بنیادی حقوق سے محروم ہیں اور ان کو دبایا جارہا ہے۔یہ ہی وجہ کہ آج دنیا کی عالمی درجہ بندی جمہوریت میں ہمارا مقدمہ کمزور ہے اور دنیا انسانی حقوق سمیت بہت سے معاملات پر ہم پر سوال بھی اٹھارہی ہے اور کو ہر سطح پر جوابدہ بھی بنایا جارہا ہے۔اس لیے ریاست ہو یا حکمران طبقات ہمیں آگے بڑھنے کے پہلے راستے کو ہی ترجیح دے کر داخلی اور خارجی محاذ پر اپنا جمہوری مقدمہ مضبوط کرنا چاہیے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے