• ستمبر 17, 2026
  • آخری اپڈیٹ ستمبر 17, 2026 2:44 صبح
  • پاکستان

مسائل بہت سے ہیں، کئی وقتی طور پر جنم لیتے ہیں، کھاد ہے، کہیں قیمت کبھی اتنی زیادہ کہ کسان کھاد سے منہ موڑنے لگ جاتا ہے

ایک طرف پاکستان کے وسیع و عریض کھیت ہیں، سندھ کی زرخیز زمین، پنجاب کی لہلہاتی فصلیں، بلوچستان کے باغات، خیبرپختونخوا کی زرعی پیداوار، نہروں کا وسیع سلسلہ، مون سون کے موسم میں بارشیں ہی بارشیں، کروڑوں کسانوں کے ہاتھ اور کروڑوں ایکڑ زمین اور دوسری طرف بندرگاہ پر کھڑے جہاز، ان جہازوں سے اتر رہا ہے پام آئل، دالیں، چائے، خام کپاس اور دیگر غذائی درآمدات۔ صرف ایک ماہ جولائی کی فوڈ گروپ کی درآمدات 80 کروڑ55 لاکھ ڈالرز تک پہنچ گئی ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ کیا پاکستان کے کھیتوں نے پیداوار میں زبردست کمی کردی یا کاشتکار بھائی سست کاشتکار ہو گئے، آخر مسئلہ کیا ہے؟ دراصل ہماری زرعی پیداوار، آبادی، کھیتوں کا سکڑنا، ان کی پیداوار میں کمی، پانی کم ملنا، ناقص بیج، ٹیکنالوجی کا عدم استعمال یا کم استعمال، مارکیٹنگ، کسانوں کو ان کا معاوضہ نہ ملنا، مافیاز کا کنٹرول، مارکیٹنگ اور پالیسی ان سب کے درمیان ایک خلا پیدا ہو گیا ہے۔

مسائل بہت سے ہیں، کئی وقتی طور پر جنم لیتے ہیں، کھاد ہے، کہیں قیمت کبھی اتنی زیادہ کہ کسان کھاد سے منہ موڑنے لگ جاتا ہے۔ ان تمام مسائل کی موجودگی میں ملک کی غذائی ضروریات کو پیدا کرنے، ان سے مصنوعات بنانے کے بجائے درآمدات کا راستہ آسان بنا دیا گیا ہے، کیونکہ اب ہم درآمدات کے عادی ہو چکے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہی وہ مقام ہے پاکستان کی درآمدات ضرورت سے زیادہ معیشت کی عادت بن چکی ہے۔

ذرا پام آئل کو دیکھئے ایک ماہ میں تین لاکھ میٹرک ٹن پام آئل کی درآمد پر تقریباً 36 کروڑ ڈالر خرچ کر ڈالے۔ ابھی تو پورا سال باقی ہے، عموماً 29 سے 32 لاکھ میٹرک ٹن پام آئل کی سالانہ درآمد ہوتی ہے حالانکہ ایک دور میں سورج مکھی کی کاشت کے وسیع پیمانے پر منصوبے بنائے گئے البتہ بہت ہی تھوڑی مقدار میں زیتون کے تیل کی پوٹھوار کے علاقے میں پیداوار کی جا رہی ہے لیکن ہم اپنی عادت شریفہ کے مطابق لاکھوں ٹن خوردنی تیل کی ضرورت پوری کرنے کے لیے بین الاقوامی منڈی سے رجوع کرتے ہیں۔

یہ پام آئل کا مسئلہ نہیں بلکہ ہماری زرعی پالیسی کی کمزوری ہے۔ ہماری زراعت نے برسوں گندم، چاول، گنے اور کپاس کے گرد اپنی ترجیحات قائم رکھیں۔ بات یہ ہے کہ یہ ترجیحات تو انگریز سرکار کی تھیں جسے اپنے ملک کے لیے ان اشیا کی ضرورت تھی لہٰذا ساری توجہ اسی جانب مبذول رکھی گئی اور گندم، چاول، کپاس کے جہاز کے جہاز بھر کر یورپ کی منڈیوں کو روانہ کرتے رہے اور گنا 1980 کے عشرے سے ہماری سیاسی ضرورت بن گئی۔ جنرل ضیا الحق کے دور میں بڑے بڑے لوگوں کو کسی مصلحت کے تحت شوگر ملز قائم کرنے کی اجازت دی گئی لہٰذا خوردنی تیل ہو یا چائے یا دودھ سے بنی غذائی مصنوعات اور دیگر اشیا کی وافر پیداوار کی طرف توجہ نہیں دی گئی۔

نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کراچی کی بندرگاہ پر غذائی درآمدات سے لدے پھندے جہاز آتے ہیں، کسی سے پام آئل اترتا ہے، کوئی چائے لے کر آتا ہے، کوئی جہاز دالوں کی ترسیل پر مقرر ہے اور کوئی کپاس لے کر حاضر ہوتا ہے اور آخر کار یہ مہنگے داموں فروخت ہوتی ہیں اور پاکستانی صارف ان کو خرید کر اپنی جیب خالی کر لیتا ہے۔کہا جا رہا ہے کہ صرف ایک ماہ میں ایک لاکھ 31 ہزار میٹرک ٹن دالیں درآمد کرکے 8 کروڑ ڈالر خرچ کر ڈالے یعنی اس کسان کا دل کتنا دکھتا ہوگا جسے جب معلوم ہوتا ہے کہ اس کی پکی ہوئی دال کا ایک حصہ بیرون ملک سے آ رہا ہے، یہاں اس کا المیہ مزید گہرا ہو جاتا ہے۔ دال کوئی معدنیات نہیں ،ایک زرعی پیداوار ہے ہم اس میں ابھی تک خودکفیل کیوں نہیں ہو سکے؟ میرا خیال ہے کہ پنجاب سندھ کی جتنی زمینیں ابھی تک غیر فعال سوسائٹیوں پر قائم ہیں ،ان سب خالی جگہوں پر دال کی کاشت کی منصوبہ بندی کی جائے تاکہ ہر سال کروڑوں ڈالر اس پر خرچ کرنے میں اس کی بچت کی امید کی جا سکتی ہے۔

صرف دال کی پیداوار میں خودکفیل ہونے سے ایک سے ڈیڑھ ارب ڈالر کی بچت ہو سکتی ہے۔ جہاں تک چائے کی پیداوار کی بات ہے تو پاکستان میں کئی مقامات کی نشان دہی کی جا چکی ہے اور مزید مقامات کے بارے میں جہاں تک میرا خیال ہے کہ خوشاب کے علاقے کے کئی مقامات جہاں چھوٹی پہاڑیاں بھی ہیں بعض خوبصورت مقامات سے آبشاریں، خاص طور پر وادی سون سکیسر اور خطہ پوٹھوہار کے بعض مقامات ایسے ہیں جہاں پر چائے کی پیداوار کے تجربے کیے جا سکتے ہیں۔

اس طرح سے ملک میں چائے کی پیداوار کے لیے کوششیں کی جائیں تاکہ قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہو سکتی ہے۔1971 سے قبل سابقہ مشرقی پاکستان سے بڑی مقدار میں پان درآمد کیا جاتا تھا جسے ’’ بنگلا پان‘‘ کہا جاتا تھا۔ پھر 71 ستمبر سے ہوائی راستہ بھارت نے بند کر دیا تو نتیجے میں پان آنا بند ہو گیا لہٰذا پان کی دکان والوں نے پان کے شوقین حضرات کے نشے کا توڑ نکال لیا۔

شاید امرود کے پتے میں کتھا، چونا، چھالیہ اور دیگر اشیا ڈال کر پان کی شکل میں فروخت کر دیتے تھے لیکن اب ملیر، میمن گوٹھ، درسنہ چنہ، گھارو اور دیگر کئی مقامات پر پان کی کامیاب ترین کاشتکاری کی جا رہی ہے، بس بات ہے تحقیق کرنے کی۔ محکمہ زراعت اور زرعی تحقیق والوں کی محنت کرنے کی اور حکام کی توجہ مبذول کرنے کی کہ کس طرح سے ایک ایک ڈالر کی بچت کی جا سکتی ہے تاکہ درآمدی مالیت میں کمی واقع ہو اور غذائی درآمدات کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو کنٹرول کیا جا سکے۔

ماخذ: Express Urdu اصل خبر پڑھیں
administrator

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے